آرزو کیس کی موجودہ صورتِ حال
2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال
جنوری 3, 2021
سندھ میں خواتین دوست قوانین میں موجود خامیاں
فروری 15, 2021

آرزو کیس کی موجودہ صورتِ حال

جب کہ ہمارے نظام میں پائی جانے والی مختلف خامیوں کی وجہ سے جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادیوں کے زیادہ تر کیسسز حل نہیں ہورہے لیکن آرزو راجہ کیس میں کچھ امید ہے جو گذشتہ سال کے آخر میں سرخیوں کا حصہ بنا۔
13 سالہ مسیحی لڑکی 13 اکتوبر 2020 کو کراچی کی ریلوے کالونی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ مبینہ طور پر اس کے پڑوسی اظہر علی نے اس سے شادی کرنے سے قبل اسے اغوا کیا اور زبردستی اسلام قبول کروایا۔ تاہم اس کے والدین عدالتوں میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ جبری تبدیلی مذہب اور کم عمر کی شادی تھی اور اس کے بعد سے یہ معاملہ انصاف کے پیستے ہوئے پہیوں میں سے گزر رہا ہے۔ اس وقت آرزو عدالت کے احکامات کے مطابق ایک شیلٹر ہوم میں رہائش پذیر ہے جبکہ اس کا مبینہ شوہر ضمانت پر باہر ہے۔
آرزو کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر اس کیس کے نتائج کے بارے میں پر امید دکھائی دیئے۔ انہوں نے اس کے حل میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ معمول کی تاخیر کے علاوہ معاملہ اور بھی آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کو الگ الگ کردیا ہے جس میں مجسٹریٹ بچوں کی شادی کے معاملے کی سماعت کرے گا جبکہ سیشن کورٹ عصمت دری کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔.
آرزو کے والد راجہ لال نے کہا کہ وہ ان رکاوٹوں اور لڑائی کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ ان کی بیٹی اپنے گھر والوں میں دوبارہ شامل نہیں ہو جاتی۔چار مہینے ہوچکے ہیں اور ہم خوف و ہراس کی حالت میں جی رہے ہیں۔ ہم صرف سماعتوں یا کسی ہنگامی صورتحال میں شریک ہونے کے لئے گھر سے باہر نکلے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ جب سے وہ کسی شیلٹر ہوم میں شفٹ ہوئی تب سے وہ صرف دو بار آرزو سے ملے ہیں۔ میں مایوس ہوتا ہوں جب مجھے لگتا ہے کہ اظہر ضمانت پر کیسے رہا ہو گیا۔ وہ ایک بااثر خاندان سے ہے جبکہ ہم نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ قانون ہماری مدد کرے گا۔
اظہر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیا اس نے کبھی سوچا ہو گا کہ کیسے وہ یہ سب ایک 13 سالہ بچی کے ساتھ کررہا ہے جو خود سے فیصلہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت تک کم عمر کی شادی کو عصمت دری نہیں سمجھتے جب تک کہ لڑکی کی لاش کسی کوڑا گاہ یاڈمپسٹر میں سے نہ مل جائے۔
اس شہر کی مسیحی برادری کی ایک ممتاز رکن، پادری غزالہ شفیق جبری تبدیلی مذہب کے شکار افراد کے اہل خانہ کے ساتھ معاملہ کرتی رہی ہے۔ آرزو کیس میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے فوراً بعدہی، پادری غزالہ جانتی تھی کہ آرزو کے خاندان کو دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، لہٰذا اس نے ان کے رہنے کے لئے ایک نیا اور محفوظ مقام تجویز کیا۔اس نے دعویٰ کیا کہ بہت سے مسلمان مرد شادی اور تبدیلی مذہب کو عصمت دری کے کوّ ر کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس نے مزید کہا کہ اظہر نے بھی ایسا ہی کیا جس کے مطابق وہ کسی نابالغ لڑکی کی ذہن سازی کرنے اور اسے اپنے خاندان سے الگ کرنے کو مجرمانہ فعل نہیں سمجھتا۔ اس نے مزید کہا کہ مسلمان مرد کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ انہیں پھنسانا اور دھمکانا آسان ہوتا ہے۔

Category: چوتھا سندھ‎ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے