اقلیتیں اپنے معاملات میں بھی اختیار نہیں رکھتیں
مذہبی مقامات کی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے حیثیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے
مارچ 3, 2021

اقلیتیں اپنے معاملات میں بھی اختیار نہیں رکھتیں

پاکستان میں حکومت، مسجد، چرچ یا مندر کی تعمیر کے لئے این او سی (اجازت نامہ) دینے کے لئے طے شدہ طریقہ کار میں ضلعی کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) شامل ہے جو رائے کے لئے ”مسجد کمیٹی” کو درخواست بھیجتا ہے۔یہ کمیٹی صرف مسلمان ممبروں پر مشتمل ہے جو ایسے معاملات میں اقلیتوں کے لئے امتیازی سلوک کا باعث بن سکتی ہے۔

ساہیوال کے بپٹسٹ چرچ کے بشپ ابراہیم ڈینیئل کے مطابق، پاکستان میں چرچ کے اندراج یا اس کی تعمیر کے لئے اجازت حاصل کرنے کے لئے کوئی حکومتی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اقلیتوں کے نمائندوں کو لگتا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ فیصلہ سازکمیٹی میں ان کی نمائندگی ہی نہیں ہے اور حکومت سے اس مقصد کے لئے اس کی بجائے ”بین المذاہب کمیٹیاں“ قائم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان کے ریورنڈ امجد نیات نے کہا کہ گرجا گھروں کی رجسٹریشن کے لئے کوئی علیحدہ فارمز نہیں ہیں اور اقلیتوں کو رجسٹریشن کے لئے مساجد والے فارمز بھرنے پڑتے ہیں جن کے بہت سے کالمز ان کے عقائد کے مطابق غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ فی الحال ڈی سی او کی طرف سے جاری کردہ شادی نکاح نامہ کا فارم مسلم عقیدے پر مبنی ہے اور اس میں غیر متعلق کالم بھی شامل ہیں جو اقلیتوں پر لاگو نہیں ہوتے ہیں لیکن وہ اسی فارم کو پُر کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہاں کوئی علیحدہ فارم نہیں ہے۔

انچارج سینٹ پال چرچ ہارون آباد نے ریورنڈ جہانزیب حمید نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اقلیتی امور کی وزارت پنجاب کے ساتھ متعلقہ اضلاع کے تمام پادریوں کی رجسٹریشن کے لئے ایک پالیسی تیار کی ہے۔ زیادہ تر پادری چرچ کی ڈینومینیشن میں تعینات ہیں اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں منتقل ہونے کے اہل ہیں۔ ریورنڈ حمید نے کہا، ”لہذا، میں حکومت پنجاب سے متعلقہ چرچ کو رجسٹر کرنے کی درخواست کرتا ہوں نہ کہ پادریوں کو، کیونکہ یہ بدلتے رہتے ہیں،” ریو رنڈ حمید نے مزید کہا کہ پادری آتے اور جاتے وقت چرچ میں اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔

اٹک میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن شیریں اسلم نے کہا کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی بعض مقامات پر اپنے دفتر میں شادی کے سرٹیفکیٹ درج نہیں کرتی، صرف پیدائش کے سرٹیفکیٹ رجسٹر کرتی ہے، اس طرح لوگوں کی شادیوں کو رجسٹر کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقلیتوں کی شادیوں کے اندراج کے لئے خاص طور پر ایک حقیقت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی صرف اور صرف پاکستان کے نامور گرجا گھروں کی طرف سے شادی کے سرٹیفیکیٹس کو قبول کرتی ہے۔

Category: پنجاب چھٹا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے