اقلیتی صحافی بہت بڑے خطر ات میں کام کررہے ہیں
کیپٹن ترانہ سلیم-فخرِ پاکستان
فروری 15, 2021
مزدور وں کے حقوق کے لئے تین دہائیوں سے جاری جدو جہد
مارچ 3, 2021

اقلیتی صحافی بہت بڑے خطر ات میں کام کررہے ہیں

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی ذیشان یعقوب نے اپنے پیشے کو معاشرے کے کان اور آنکھیں بتایا ہے۔تاہم، صحافیوں کے اغوا، قتل، ہراسانی اور بدنامی کے خطرات عوام کو معلومات کے آزادانہ بہاؤ کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سنگین مسائل ہیں۔ یہ خطرات مختلف دباؤ دینے والوں گروہوں اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی طرف سے آتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سچ کی صولی پر چڑھنے والوں کو اکثر زخمی ہونے اور یہاں تک جان سے جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
صدی کے بدلنے کے ساتھ نجی نیوز میڈیا کی آمد نے متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے بہت سارے صحافیوں کو اپنے آپ میں لے لیا۔ خواتین صحافیوں کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن بہت سوں کو سوشل میڈیا پر صنفی امتیاز، ہراساں کرنے، تشدد کی دھمکیوں اور کردار کشی کی صورت میں مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مذہبی اقلیتوں کے ارکان بھی اس پیشے میں شامل ہو رہے ہیں اور ان کے چیلنجز اور بھی کڑے ہیں۔ انہیں نہ صرف معاشرتی اور پیشہ ورانہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اپنی مذہبی شناخت کی بنا پر ان کی جان کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں مسیحی صحافی قیس جاوید کا حالیہ قتل اقلیتی صحافیوں کے بارے میں معاشرے کی حالت زار اور عدم رواداری کی تازہ مثال ہے۔ تاہم ان مشکلات کے باوجود مضبوط اقلیتی صحافی اپنے کمزور طبقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔
حکام کو خصوصی قوانین بنانے کی ضرورت ہے جو صحافیوں کو ملازمت اور زندگی کی سلامتی فراہم کریں اور اگر وہ فرائض کی ذمہ داری میں ہلاک یا زخمی ہو ں تو مناسب معاوضہ فراہم کریں۔ اسی طرح جب ان کے کام کے نتیجے میں ان کے خلاف جعلی مقدمات درج کیے جائیں تو انہیں قانونی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
منمیت کور جو پشاور میں ایک سکھ صحافی ہیں، 2017 سے رپورٹر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں اور انہوں نے مذہبی اقلیتوں اور معاشرے کے دیگر پسماندہ گروہوں کے حالات اور حقوق کا احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سفر میرے اور میرے اہل خانہ کے لئے پارک میں سیر نہیں رہا ہے۔ پہلے دن سے ہی انہیں مختلف چیلینجز کا سامنا کرنا پڑ ا ہے جیسے ہمارے اس پدر شاہی معاشرے میں دیگر پیشوں سے وابستہ خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔
پچھلے کچھ مہینوں میں منمیت کو مذہبی وابستگی اور اس کی شادی کی وجہ سے اپنے اور اپنے خاندان کے خلاف شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خالصتاًان کا ذاتی معاملہ ہے اور آئین نے انہیں ایسا کرنے کا حق دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ ان کی ذاتی زندگی کی ترجیحات کے سبب انہیں اور ان کے اہل خانہ کو بدنام کرے۔
الماس نیوٹن جو ایک ریڈیو سے جڑے صحافی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے 1999 میں ریڈیو پاکستان کے لئے بہاولپور میں ایک کمپئیر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا تھا لیکن پھر انہیں سینئرز کی طرف سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انہیں کام چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا کیونکہ اس کے ازالے کے دیگر تمام راستے ختم ہوچکے تھے۔
صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے راستوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر عامر سہیل نے کہا کہ ملک میں صحافیوں کے تحفظ کا کوئی طریقہ کار یا پالیسی موجود نہیں ہے لیکن اس کی اصلاح کے لئے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میڈیا ایسوسی ایشنز صحافیوں اور کارکنوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن حکومتی سطح پر اس طرح کی کوئی سپورٹ نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہاں اقلیتوں کے صرف چند صحافی ہیں، انہیں بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یونین نے ان مسائل حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
اسلام آباد میں قائم تحقیق کرنے والی ایک تنظیم ارادہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آفتاب عالم نے بتایا کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے انڈیکس میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔لہذا، پاکستان میں صحافی بننا آسان نہیں ہے۔ نسلی اور مذہبی اقلیتیں سب سے زیادہ کمزور ہیں اور ان کمیونٹیز کے صحافی اپنے مسائل میں کئی گنا اضافہ دیکھتے ہیں۔

Category: پاکستان پانچواں |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے