المیے کو اچھائی کی قوت میں بدلتے ہوئے
وادی کیلاش میں رہنے والوں کو خاموش معدومیت کا سامنا ہے
جنوری 3, 2021
خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بڑے حملے
فروری 15, 2021

المیے کو اچھائی کی قوت میں بدلتے ہوئے

22ستمبر 2013کا دن پشاور کی مسیحی برادری کیلئے ناقابل فراموش تھا۔ اس روز پشاور کے آل سینٹ چرچ پر ہونے والے دو خود کش دھماکوں میں 100سے زائد افرادجاں بحق ہو ئے تھے جبکہ 120سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس درد اور تکلیف کو آج 7برس سے زائد گزر چکے ہیں لیکن وہ زخم آج تک نہیں بھرے بلکہ تکلیف دے رہے ہیں۔ ایک جانب تو یہ زخم مسلسل تکلیف بڑھا رہے ہیں تو دوسری جانب چند متاثرین کیلئے یہ زخم تکلیف نہیں بلکہ ہمت اور طاقت کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک پشاور کی 28سالہ نینا سیمسن ہیں۔اس کی بہن ثمرین سیمسن نے 22ستمبر 2013کو ہونے والے حملے میں اپنی جاں گنو ا دی تھی اور بہن بچھڑ جانے کا درد آج بھی نینا محسوس کرتی ہے لیکن نینا نے اس درد کو اپنی ہمت بناتے ہوئے اپنی آئندہ زندگی اقلیتوں کے زخم بھرنے اور انکی مدد کرنے کیلئے وقف کردی۔ نینا سیمسن نے ثمرین کے بچھڑ جانے کے بعد ماہر نفسیات بننے کا فیصلہ کیا اور جامعہ پشاور سے اپنی تعلیم مکمل کرکے نہ صرف آل سینٹ چرچ کے متاثرین کی کونسلنگ شروع کردی بلکہ اقلیتی برادری کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے اپنی خدمات پیش کردیں۔ اس کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے ساتھ ساتھ کئی مختلف واقعات میں لڑکیوں کو ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جہاں خوف ان پر حاوی ہو جاتا ہے اور وہ خود کوئی فیصلہ نہیں کرسکتیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انکا ایک فیصلہ نہ صرف ان کی اپنی ذات بلکہ ان کے خاندان اور متعلقہ برادری کیلئے بھی نفسیاتی دباؤ کا باعث بن جاتا ہے۔ نینا ان لڑکیوں کو ذہنی طور پر مضبوط بنا نا چاہتی ہے جومذہب کی تبدیلی ایک دباؤ میں آکر کرتی ہیں۔ اس کے مطابق فیصل آباد کی مائرہ شہباز ہو یا پھر کراچی کی آرزو رانا، یہ لڑکیاں مسیحی برادری کی بچیاں نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کی بچیاں ہیں اور کم عمری میں انکے مذہب کی تبدیلی سے پاکستان کا مثبت نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک منفی چہرہ ابھارا جا رہا ہے جس کی روک تھام مسیحی برادری نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔
نینا سیمسن اقلیتی بچوں کیلئے بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ا س کی سوچ کو دنیا بھر میں سراہا بھی گیا ہے۔” بچوں کی تربیت کس طرح کی جا سکتی ہے؟”کے موضوع پر منعقدہ مقابلوں میں اس کو پہلا انعام حاصل ہوا ہے اور آرٹیکل کو علمی حلقوں میں بہترین تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح اس آرٹیکل کی بنیاد پر اب خیبر پختونخوا میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے وہ خصوصی منصوبہ بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس منصوے کے تمام امور نینا سیمسن ہی دیکھے گی۔پشاور کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی نینا سیمسن کے مطابق وہ شروع سے ہی بچوں کی نفسیات کے اوپر کام کر رہی ہے۔ بچوں کی نفسیات کو عمومی طور پر اہمیت نہیں دی جاتی، تاہم بچے ہمارا مستقبل ہیں اور اس مستقبل کو اہمیت دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس نے بتایا کہ مذکورہ آرٹیکل میں یہ بتایا گیا ہے کہ بچوں کی تربیت کس طرح کی جانی چاہئے اور نہ صرف والدین بلکہ بچوں کی تربیت میں اساتذہ کے کردار کو بھی وضع کیا گیا ہے۔ والدین کی ذمہ داری جتنی ہے اتنی ہی اساتذہ کی بھی ہے۔ تاہم عمومی طور پر اساتذہ وہ کردار ادا نہیں کر رہے جن کا ان سے تقاضہ کیا جا رہا ہے۔

Category: دوسرا کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے