ایک صحافی کو مذہبی امتیاز کا سامنا ہے
ایک مساوی نہیں،قومی کھیل
اکتوبر 23, 2020
اختتامی لائن کی طرف ریس لگاتے ہوئے پارسی جوڑے نے رکاوٹیں توڑ ڈالیں
نومبر 6, 2020

ایک صحافی کو مذہبی امتیاز کا سامنا ہے

سندھ کی مذہبی اقلیتیں نہ صرف صوبے کے دیہی علاقوں میں خوف کے تحت زندگی گزارتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ شہروں اور ٹاؤنوں میں بھی انہیں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک ہندو رپورٹر جب اس کی شناخت نچلی ذات کے مذہبی اقلیت کے ممبر کی حیثیت سے کی گئی، کچھ سال قبل کراچی میں اپنے کام کی جگہ پر الگ گلاس میں پانی پینے پر مجبور کیا گیا۔
ایک سرکاری خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے سینئر رپورٹر صاحب خان نے انکشاف کیا کہ ان سے کھانے پینے کے لئے الگ برتن اور گلاس استعمال کرنے کا کہا گیا۔ ان کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے ہے۔ ابتدا میں وہ اے پی پی اسلام آباد میں بطور رپور ٹر تعینات ہوئے لیکن پھر انہیں حیدرآباد اور بعد میں کراچی منتقل کر دیا گیا۔
چونکہ اس کے جیسا نام مسلمانوں میں بھی عام ہے، لہٰذا صاحب بغیر کسی امتیاز کے کام کرتا رہا یہاں تک کہ اس کا بیٹا راج کمار ایک دن اس کے دفتر میں آیا اور عملے سے اس کا تعارف کرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل ان کے نام میں لفظ ‘خان’ شامل ہے،لہٰذا دفتر کے ہر فرد نے سوچا کہ وہ مسلمان ہے۔بیورو چیف نے ان سے کہا کہ و ہ اپنے پینے کے پانی کا گلاس دفتر میں الگ کردے کیونکہ کچھ ساتھیوں کو تحفظات ہیں۔
ایک سال ماہِ رمضان کے دوران افطار کے وقت اسے اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے سینئر ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ اگر وہ دفتر میں کھانا چاہتے ہیں تو وہ خود اپنی پلیٹیں اور گلاس لائیں۔ اس نے کہا کہ اب اس نے دفتر کے لئے علیحدہ گلاس اور پلیٹ خرید لی ہے۔
اے پی پی کے اس وقت کے کراچی بیورو چیف پرویز اسلم نے اس بات سے انکار کیا کہ صاحب سے علیحدہ برتن استعمال کرنے کو کہا گیا۔ انگریزی روزنامہ میں خبر شائع ہونے کے بعد صاحب کو اپنی شکایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا اور امتیازی سلوک جاری رہنے پر انہیں چھٹی پر جانا پڑا۔
ا س کے تبادلے کا معاملہ اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ چین میں پی ایچ ڈی کے لئے آگے نہیں بڑھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی مبینہ امتیاز ختم نہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق صاحب کو تنخواہ کے بغیر چھٹی دی گئی جبکہ تعلیم کے لئے چھٹی لینے پر اے پی پی کے کچھ مسلمان ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی گئی۔
حال ہی میں چین سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد صاحب نے اے پی پی کے کراچی بیورو میں دوبارہ کام شروع کردیا ہے لیکن اس وقت اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے کہ اس وقت کام کی جگہ کا ماحول کیسا ہے۔

Category: پاکستان دس |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے