بزرگ شہریوں کے حقوق کے بل کے حوالے سے پنجاب سب سے پیچھے ہے
تبدیلی مذہب کے باوجود مسیحی خاتون کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا
دسمبر 4, 2020
پنجاب بچوں کے تحفظ پر تقریباً اتنی رقم خرچ کرتا ہے جتنی گورنر ہاؤس کی دیکھ بھال پر خرچ ہوتی ہے
دسمبر 17, 2020

بزرگ شہریوں کے حقوق کے بل کے حوالے سے پنجاب سب سے پیچھے ہے

زبیدہ بی بی راولپنڈی کے مضافات میں رہتی ہے۔ اس کا شوہر جو کہ دیہاڑی دار تھا کچھ سال قبل فوت ہو گیا تھا۔تب سے 62 سالہ بیوہ کم آمدن کی وجہ سے بہت مشکل زندگی گزار رہی ہے۔ وہ ذیابیطس کی مریضہ ہے اور اسے دواؤں کی اشد ضرورت ہے لیکن معلوم نہیں وہ کیا کرے۔
زبیدہ ان بزرگ شہریوں میں سے ایک ہے جو اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں کسی بھی ذریعہ آمدن سے محروم ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت غیر رسمی شعبے میں کام کرتی ہے اور جب وہ ملازمت سے سبکدوش ہوجاتے ہیں یا ملازمت چھوڑ دیتے ہیں تو ان کے پاس پنشن یا معاشرتی تحفظ کی کوئی سکیمیں نہیں ہوتیں۔ ملک کی افرادی قوت کے ممبران جو پنشن کے مستحق ہیں ریٹائرڈ افرادی قوت سے 8 فیصد سے بھی کم ہیں۔
بزرگ افراد کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک آئی این جی او ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان ان 15 ممالک میں شامل ہے جہاں 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں تقریباًایک کروڑ پچاس لاکھ بزرگ شہری رہتے ہیں جو آئی این جی او کے مطابق، کل آبادی کا 7٪ ہیں۔ ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے پروگرام منیجر وقاص اشفاق قریشی کے مطابق چونکہ جب بہتر ہیلتھ کئیر کی وجہ سے زرخیزی کی شرح میں کمی اور متوقع حیات میں اضافہ ہوتا ہے، توقع کی جاتی ہے کہ 2050 تک بوڑھے افراد کی تعداد 45 ملین سے زیادہ ہوجائے گی۔یہ تعداد کل آبادی کے 16 فیصد کے لگ بھگ ہوگی۔
پنجاب 110 ملین سے زیادہ باشندوں پر مشتمل ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جو 7 ملین سے زیادہ عمر رسیدہ افراد کی میزبانی کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی خاص قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔ بزرگ شہریوں کے لئے ایک قانون کا مسودہ 2012 میں سول سوسائٹی اور سرکاری محکموں سے متعدد مشاورت کے بعد تیار کیا گیا تھا اور اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ یہ مسودہ قانون صوبے کے بزرگ شہریوں کے لئے امید کی کرن تھی کیونکہ اس میں بزرگوں کے لئے مفت ہیلتھ کئیر اور مالی امداد کی سہولیات موجود ہیں۔
سابقہ حکومت پنجاب میں سٹریٹجک ریفارمز یونٹ کے سربراہ، سلمان صوفی نے ثبات کو بتایا کہ انہوں نے مسودے پر کام کیا اور اسے محکمہ سوشل ویلفیئر کو بھجوا دیا لیکن حکومت میں تبدیلی کے بعد2018 میں اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔.
پنجاب سینئر سٹیزن ویلفیئر اینڈ رہیبلی ٹیشن بل کے مسودے کے مطابق، سینئر شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی اور صوبے کے تمام 36 اضلاع میں مزید کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اس قانون کے بننے کے بعد صوبے میں اولڈ ایج ہومز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ بزرگ شہریوں، خاص طور پر اپنے گھروں میں تشدد کا نشانہ بننے والوں کو فوری پناہ اور تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ یہ بل والدین کو عدالت سے جاری کردہ دیکھ بھال کے احکامات کے ذریعے ماہانہ الاؤنس کا حق دیتا ہے اگر والدہ یا والد اپنے بچوں سے الگ رہ رہے ہیں۔ مسودے کی دیگر شقوں میں ہر بس پر بزرگ شہریوں کے لئے دو نشستیں رکھنا، تمام سرکاری ہسپتالوں میں تفریحی مراکز، سینما گھروں، تھیٹروں، ہوٹلوں، موٹلز، ریزورٹس، ریستورانوں اور قیام گاہوں پر 50 فیصد چھوٹ شامل ہے۔ اس قانون میں بزرگ شہری کے خاندان کے کسی فرد کی جانب سے جسمانی بدسلوکی کی صورت میں پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے توسط سے اس بل پر عمل درآمد کیا جانا تھا۔
سول سوسائٹی کے کارکنوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس طرح کے قانون پر کام شروع کرنے والا پہلا صوبہ پنجاب تھا لیکن اس اقدام کی پیروی نہیں کی گئی۔ اتفاقی طور پر دوسرے صوبے سبقت لے گئے اور اس کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ نے 2014 میں اسی طرح کا قانون پاس کیا، اس کے بعد 2016 میں سندھ اور 2017 میں بلوچستان نے اسی طرح کا قانون پاس کیا۔ اس طرح پنجاب واحد صوبہ بنتا ہے جو بزرگ شہریوں کے حقوق کے لئے قانون سازی نہیں کررہا۔ دوسری طرف قوانین کا نفاذ ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔
2019 میں وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز بل کی منظوری دی لیکن ابھی پارلیمنٹ میں اس کو منظور کرنا باقی ہے۔ تاہم رواں سال نومبر میں وزارت قانون نے کہا کہ اس کو وزیر اعظم کی طرف سے ایک آرڈیننس کے ذریعے منظوری حاصل ہے تاکہ عمر رسیدہ والدین کو ان کے بچوں کی طرف سے بے دخل ہونے سے بچایا جاسکے۔
محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ابھی مسودہ،قانون سازی کے لئے لایا جانا ہے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پیش رفت سست رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون میں موجود دفعات کے مطابق اس پر بھاری مالی اخراجات اٹھانا پڑیں گے اور انہیں مختلف سرکاری اور نجی ڈونرز کے تعاون سے پورا کرنا پڑے گا۔
اس وقت یہ محکمہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں صرف ایک اولڈ ہوم چلارہا ہے اور شہر کی آبادی تقریبا ً10ملین سے زائد افراد پر مشتمل ہے جو اس کے بے سہارہ بزرگ شہریوں کے لئے محدود مواقع ظاہر کرتی ہے۔

Category: پنجاب چوتھا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے