بچوں کے حقوق کے کنونشنز عملی جامہ نہیں پہن سکے
صحافت آخری سانسیں لے رہی ہے
دسمبر 4, 2020
مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کی عدم قبولیت
دسمبر 19, 2020

بچوں کے حقوق کے کنونشنز عملی جامہ نہیں پہن سکے

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے مسلسل مایوس کن تصویر کشی ہو رہی ہے، ملک کی کم عمر قیدی آبادی کے حالات سے لے کر لا تعداد بچوں کی شادیاں سب سے نمایاں ہیں۔

لیگل اوئیرنس واچ (ایل اے ڈبلیو) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صمد علی نے کہا کہ ان کے تخمینے کے مطابق ملک کی سڑکوں و گلیوں میں تقریباً 15 لاکھ بچے رہتے ہیں جن کو اکثر تشدد، جنسی استحصال، جبری مشقت یا منشیات کے غیر قانونی استعمال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اپریل میں وفاقی محتسب کے ذریعہ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی 104 جیلوں میں 1204 خواتین اور 1248کم عمر بچے قید ہیں۔ رواں سال اپریل سے جون میں ایل اے ڈبلیو نے بھی پنجاب اور سندھ بھر کی سلاخوں کے پیچھے بچوں کی آبادی کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔ 10 جیلوں سے ہر ایک صوبے میں پانچ کی تفصیلات بتاتے ہوئے پتہ چلا کہ 81 نوعمر بچوں کو بغیر کسی قانونی مدد کے پنجاب اور سندھ کی 10 جیلوں میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اسی طرح کم عمری کی شادی ایک عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ یونیسف کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں 11٪ خواتین نے 15 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی شادی کرلی تھی۔

حقوق کی تنظیم بید اری کی صوبائی کوآرڈینیٹر ارم فاطمہ نے بتایا کہ پاکستان میں ہر تیسری لڑکی کم عمری کی شادی کا شکار ہے۔ انہوں نے اسے جدید غلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچپن کی شادی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو بہت بڑے مسائل جیسے غربت، تعلیم کی کمی، ثقافتی طریقوں اور صنفی عدم مساوات سے جڑے ہوئے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق پاکستان دلہن بننے والی بچیوں کی تعداد کے حوالے سے چھٹے نمبر پر ہے۔ دیہی علاقوں اور گلگت بلتستان میں شادی کی اوسط عمر سب سے کم ہے۔

متعدد بڑے مسائل پاکستان میں بچوں کی شادیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں جیسے روایتی رسم و رواج جیسے سوارا جس میں لڑکیوں کی شادی تنازعات یا قرض چکانے کے لئے کی جاتی ہے۔ وٹہ سٹہ جو دلہنوں کے لے دے کی رسم ہے اور پیٹ لکھی جو لڑکیوں کی پیدائش سے قبل یا بہت کم عمر میں شادی کرنا ہے۔

دوسری وجوہات میں جڑیں پکڑی پدرسرانہ رسمیں ہیں جو لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں کو فروغ دیتی ہیں،ان میں روایات کے مطابق لڑکیوں کی خاندان یا قبیلے کے اندر شادیاں کرنا، مذہبی عقائد جیسے کہ کچھ قدامت پسند مسلمانوں کا ماننا ہے کہ لڑکیوں کو بلوغت کے بعد شادی کرنی چاہئے اور تعلیم کی کمی بھی شامل ہیں۔ مختلف تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اضافی ثانوی تعلیم کا ہر سال پاکستان میں بچوں کی شادیوں کے خطرے میں 3.4 فیصد کمی لاتا ہے۔

 

وعدے اور قوانین

پاکستان نے 2030 تک اقوام متحدہ کے ایس ڈی جیز کے گول 5.3 کے مطابق بچوں، کم عمری اور جبری شادیوں کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔

پاکستان نے 1990 میں بچوں کے حقوق کے کنونشن کی بھی توثیق کی جس میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے اور اسی طرح 1996 میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کی بھی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت ریاستوں نے رضامندی اور آزادانہ شادیوں کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم یہ وعدے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے تابع ہیں۔

پاکستان سمیت ساؤتھ ایشیا ایسوسی ایشن فار ریجنل کو آپریشن (سارک) کے نمائندوں نے 2014 میں ایشیاء میں بچوں سے شادی کے خاتمے کے لئے ایکشن برائے کھٹمنڈو کال پر بھی زور دیا۔ اس کے عزم کے ایک حصے کے تحت پاکستان بچوں کی دلہنوں کے لئے قانونی حل تک رسائی کو یقینی بنائے گااور شادی کی قانونی عمر کم ازکم 18 سال ملک میں یکساں طور پرمقرر کرے گا۔

ملک پاکستان بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے ساؤتھ ایشین انیشیٹوٹو اینڈ وائلینس اگینسٹ چلڈرن (SAIEVAC) کا بھی ایک رکن ہے جس نے 2018-2015 سے بچوں کی شادی کے خاتمے کے لئے ایک علاقائی عملی منصوبہ اپنایا۔

قومی سطح پر متعدد اتحاد صوبائی اور وفاقی سطح پر قانونی اصلاحات کی وکالت کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کی 2025-2017 قومی تعلیمی پالیسی تعلیم میں صنفی امتیاز کو ختم کرنے اور خاندانوں کو لڑکیوں کوسکول بھیجنے کی ترغیب دینے پر مرکوز ہے۔

جہاں تک ملک کے قوانین کی بات ہے تو یہاں مختلف اصول ہیں۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کے تحت شادی کی کم از کم قانونی عمر لڑکیوں کے لئے 16 سال اور لڑکوں کے لئے 18 سال ہے۔

صوبائی سطح پر2014 میں سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ منظور کیا جس میں لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لئے شادی کی کم سے کم عمر بڑھا کر 18 سال کردی گئی اور بچوں کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ اسی طرح کے ایک مجوزہ ملک گیر بل کو بدقسمتی سے 2014 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے مسترد کردیا۔ پنجاب میں 16 سال سے کم عمر شادی کے لئے سخت سزاؤں کو متعارف کروانے والا قانون بھی منظور کیا گیا تھا۔ تاہم اس سے لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال تک نہیں بڑھائی گئی۔ دیگر صوبوں اور وفاقی علاقے اسلام آباد میں 1929 کا قانون نافذ العمل ہے۔

بدقسمتی سے، یہاں تک کہ جہاں مناسب قانونی اقدامات موجود ہیں جیسے کہ سندھ میں، بچوں کی شادیاں مذہبی رواجوں کی لپیٹ میں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ہی تادیبی اقدامات کو بہت کم لاگو کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک کارکن سدرہ ہمایوں نے بتایا کہ جنوبی ایشین کے نقطہ نظر سے، پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لئے اچھے قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا لیکن ان قوانین کی عدم دستیابی یا منتخب عمل سے مجرموں کو فائدہ ہوتا ہے، انہوں نے پولیس کی جانب سے ملزمان کے حق میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین پر صلح کرنے اور مشتبہ افراد کو گرفتار نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے قومی ڈیٹا بیس کا بھی مطالبہ کیا تاکہ پولیس مشتبہ افراد اور مجرموں کا ریکارڈ اپنے پاس رکھے تاکہ وہ دوسرے کیسسز میں ملزموں کی تلاش میں مدد کرسکے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ڈاکٹر افشاں ہما نے اس بات کا انکار کیا کہ آئین کے آرٹیکل A-25 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً  23 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں،یہ آرٹیکل ریاست کو، ہرسکول کو مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کی ہدایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس قوانین و پالیسی دفعات موجود ہیں لیکن ہمارے پاس قانون نافذ کرنے اور پالیسی پر عمل درآمد کی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔

چائلڈ رائٹس موومنٹ کی نیشنل کوآرڈینیٹر ممتاز گوہر نے کہا کہ تعلیم اور بچوں سے مزدوری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر آرٹیکل A-25 کے تحت قانون پر عمل درآمد ہوتا ہے تو ہر بچے کوسکول میں داخل کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں ملک سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہوگا۔ گوہر نے پہلے کسی بچے کی صحیح عمر قائم کرنے پر زور دیا کیونکہ مختلف قوانین مختلف عمروں کو ملک کے متعدد بچوں سے شادی کے قوانین کے مطابق مقرر کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ موجودہ حکومت کے منشور میں بچوں سے زیادتی کا خاتمہ اور بچوں کی غذائی ضروریات کے لئے کام کرنا شامل ہے لیکن وہ دو سال سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعدبھی اپنے عہد کو عملی شکل دینے میں ناکام رہی ہے۔

Category: پاکستان پانچواں |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے