حیدرآبادکی تاریخی ورثے کی جگہیں حکومتی عدم توجہ کا شکار ہیں
کراچی میں گرجا گھر
دسمبر 17, 2020
غیر ضروری تنازعے نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے معاملے کو چھپا دیا
جنوری 3, 2021

حیدرآبادکی تاریخی ورثے کی جگہیں حکومتی عدم توجہ کا شکار ہیں

حیدرآباد شہر میں نوآبادیاتی دور کی بہت سی تاریخی ورثے کی عمارتیں ہیں۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم سے پہلے،یہ متعدد ہندو خاندانوں کی ملکیت تھیں۔ تقسیم کے بعد جتنے ہندو خاندان ہندوستان روانہ ہوئے، ان کی طرف سے چھوڑی گئی جائیدادیں محفوظ ورثے کے مقامات کے طور پر قرار دے د ی گئیں۔

بہت سے خاندان جو ہندوستان سے ہجرت کرکے حیدرآباد میں آباد ہوئے تھے، ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں دعوے میں،ان میں سے کچھ جائیدادوں کی ملکیت دی گئی تھی۔ محفوظ شدہ ورثے کے طور پر اعلان کی جانے والی دوسری جائیدادیں اب بھی موجود ہیں حالانکہ ناقص شکل میں ہیں اور انہیں تحفظ کی اشد ضرورت ہے، جو صوبائی محکمہ ثقافت جو کہ ان مقامات کا نگران ہے، کو فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے عدم توجہ کا شکار ہیں۔

ایسی ہی ایک عمارت دیال داس کلب ہے جس کا نام سیٹھ مولچنددیال داس (1922) کے نام پر رکھا گیا۔ اس مقام کو کئی دہائیوں تک کلب کی انتظامیہ نے تجارتی فوائد کے لئے غلط استعمال کیا جب تک کہ اس کے کچھ ممبروں نے 2016 میں سندھ ہائی کورٹ کو اس بنیاد پر منتقل کیا کہ ایک محفوظ سائٹ ہونے کے ناطے اسے تجارتی منصوبے کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اسی سال دسمبر میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہو ار نے فیصلہ دیا تھا کہ کلب کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ورثے کی جائیداد ہے۔

اسی طرح 1928 کی کھیانی مینشن آف تلک انکلائنڈ بھی ایسی ہی ایک اورجائیداد ہے۔ اس کا آدھا حصہ اس کے مالکان نے منہدم کردیا تھا، جنہوں نے پچھلی کئی دہائیوں میں اسے مختلف قابضین سے خرید ا تھا۔ موجودہ مالکان بظاہر ایک کمرشل سہ رہائشی منصوبہ شروع کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کا آدھا حصہ حال ہی میں زمین پر گرا دیا گیا ہے۔

یہ عمارت ورثے کے قوانین کے تحت ہے اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں ہے۔ اس طرح بی بی سی ریڈیو پر ان نئے منصوبوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس نے ا س معاملے کو اجاگر کیا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ان منصوبوں کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی۔ سماعت کے دوران جب یہ دعوے کیے گئے کہ آیا یہ جائیداد بھی ایک ورثے کی جگہ ہے تو مقامی انتظامیہ نے ایس بی سی اے کے اس موقف کی تصدیق کی کہ واقعتا ایسا ہی ہے۔

مختا رکار اور سٹی سروے آفیسر تعلقہ سٹی نے اس کارروائی کے حصے کے طور پر اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) سٹی کو 15 ستمبر کے خط میں کہا کہ سٹی سرو ئیر وارڈبی حیدرآباد سے ایک رپورٹ طلب کی گئی تھی، جس نے ریکارڈ کی تصدیق کے بعد رپورٹ دی کہ سروے نمبر 1835، جس کی پیمائش 3570 مربع گز ہے، یہ اصل میں چھوڑ جانے والے ہندو مالک (جس کے بارے میں کوئی نارائن داس بتایا گیا) کی جائیداد ہے اور اسے مختلف افراد کو منتقل کردیا گیا تھا۔

اے سی نے بتایا کہ جائیداد کی منتقلی / ذیلی تقسیم اگست 1964، دسمبر 1971 اور فروری 2006 میں ہوئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس پراپرٹی کے حصے 1964 میں اور پھر 1971 میں محمد نسیم الرحمن کو منتقل کئے گئے۔ یہ لگ بھگ 400-500 مربع گز کے کچھ حصوں میں پہلے بطور مکان اور پھر بطور ہسپتال فروخت ہوئی تھی۔ اے سی نے انکشاف کیا کہ یہ آخری بار نومبر 2012 میں سید گلاب کو فروخت ہوئی تھی۔

محکمہ ثقافت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ عمارت جزوی طور پر منہدم ہے اور اس کے تحفظ کے لئے مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ، ورثے کی املاک کا تحفظ نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے پاس بنیادی وسائل اور پیسوں کی کمی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ کیسوں میں جائیدادیں متعدد افراد کی ملکیت ہوتی ہیں جو حکومت کوپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نقطہ نظر کے تحت اس کا تحفظ اور عام لوگوں کے لئے اسے کھولنے کی اجازت نہیں دیتی۔

اہلکار نے سٹیشن روڈ کی ایک پراپرٹی گاڑی کھاتہ میں ایک عمارت اور رسالہ روڈ پر ایک عمارت کا حوالہ بھی دیا جس کو تحفظ کے لئے منتخب کیا جاسکتا تھا اور عوام کے دیکھنے کے لئے کھولا جاسکتا تھا، اگر فنڈز دستیاب ہوتے۔

Category: چھٹا سندھ‎ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے