خیبر پختونخوامیں مذہبی سیاحت شروع ہونے کو ہے
مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے
فروری 15, 2021
مذہبی مقامات کی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے حیثیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے
مارچ 3, 2021

خیبر پختونخوامیں مذہبی سیاحت شروع ہونے کو ہے

تقریباً پچاس سالہ پرانے لاہور کا رہائشی جتندر سنگھ ایک نئی سرزمین پر کھوجی کی طرح پشاور کی سڑکوں پر کچھ ڈھونڈنے کے لئے پھر رہا تھا۔اس نے ایک دکاندار سے شہر کے بھائی بیبا سنگھ گردوارہ کی سمت کے بارے میں پوچھا اور اسے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ تو اِدھر قریب ہی ہے۔
جب وہ صدیوں پرانے گردوارہ میں پہنچا جو 2016 میں دوبارہ کھولا گیا تھا، اس نے یاد کیا کہ اس نے اس کی تصاویر اپنے والدین کے ساتھ اس وقت دیکھی تھیں جب وہ ایک نوجوان لڑکا تھااور اب اس کا ذاتی طور پر دورہ کرنے پر اپنے جوش و خروش کے متعلق بتایا۔ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے، جتندر نے ڈھانچے کی طرف جانے والے مرکزی دروازے کو بوسہ دینا شروع کردیا۔ اس نے وضاحت کی کہ اگرچہ اور بھی بہت سے اہم مذہبی مقامات ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لئے خاص کریہ گردوارہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت میں گذشتہ تین سالوں میں 400 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی اکثریت قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لئے کثرت سے دیگر مقامات کا رخ کرتی ہے لیکن مٹھی بھر سیاح مذہبی سیاحتی مقامات کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
ہندو برادری کے رہنما ہارون سراب دیال نے بتایا کہ دنیا بھر میں اربوں ڈالر صرف 38 اعلی مذہبی سیاحتی مقامات سے کمائے جاتے ہیں جن میں مسیحیوں کے لئے ویٹیکن سٹی اور مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ شامل ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان بھی بدھ مت، سکھ اور ہندو مت سمیت مختلف مذاہب کے متعدد ایسے مقامات کا میزبان ہے۔صوبائی محکمہ سیاحت کی دستاویزات کے مطابق کے پی میں گنیش، شیو اور کالی ما مندروں کا مذہبی سیاحت کے لئے اہم مقامات کی حیثیت اختیار کرجانے کا امکان ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبد الصمد نے بتایا کہ اس صوبے میں کئی مذہبی مقامات کی میزبانی کی جاتی ہے جو ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لئے وقف ہوتے ہیں۔ جیسے کہ وہ مشرقی ایشین ممالک کے بدھ مت کے سب سے زیادہ مقامات کی میزبانی کرتے ہیں جو گندھارا تہذیب کا ایک حصہ بنے ہوئے ہیں۔
محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوؤں کے سب سے معتبر مقام پنج تیرتھ کی میزبانی بھی پشاور کرتا ہے جبکہ حکومت نے بدھ مذہب اور ہندو پیروکاروں کے لئے تین ہزار سے زائد مذہبی مقامات کی نشاندہی کی ہے۔
جہاں تک مسیحیت کی بات ہے، دیال نے وضاحت کی کہ ان کے مذہبی مقامات اس وقت قائم ہوئے جب انگریز برصغیر میں تقریبا ً تین سو سال قبل پہنچا۔ جہاں تک مذہبی سیاحت کا تعلق ہے، ان میں سے کچھ گرجا گھر اور دیگر چند مقامات کو انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔
سکھوں کے لئے، کے پی میں پشاور کے گردواروں جوگا سنگھ اور بھائی بیبا سنگھ کے علاوہ، جمرود قلعے میں ہری سنگھ نلوہ کے کمرے کی بھی بہت اہمیت ہے۔
دیال نے امید ظاہر کی کہ اگر ان تمام مقامات کو مناسب طریقے سے تیار اور منظم کیا جائے تو اس سے صوبے کے رہائشیوں کو، ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ خدمات سے لے کر تجارتی مال فروخت کرنے والوں کو طرح طرح کے معاشی مواقع میسر آسکیں گے۔

Category: ساتواں کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے