خیبر پختونخوا کے سیاسی منظر نامے سے اقلیتیں غائب ہیں
جون 22, 2020
خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بہت کم مالی وسائل خرچ کئے جاتے ہیں
جولائی 9, 2020

خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی حالتِ زار

خیبر پختونخوا(کے پی) میں خواجہ سرا بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔کے پی کی ٹرانس ایکشن الائنس کی صدر فرزانہ جان نے بتایا کہ ہماری کمیونٹی کو ملکیتی حقوق نہیں دئیے جاتے۔ ان کے پاس کوئی بچت بھی نہیں ہوتی کہ مشکل وقت میں وہ اپنا گزارہ کر سکیں جیسے اب کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن میں اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی روزی روٹی کا دارومدار فنکارانہ سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے جوان دنوں نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوائے حکمراں جماعت کی رکن صوبائی اسمبلی رابعہ بصری کے،کسی سرکاری ادارے نے ان کی مدد نہیں کی۔رابعہ بصری نے بھی اپنی جیب سے ان کی مدد کی۔ احساس پروگرام کے تحت بھی انہیں کوئی امداد نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے 2012میں ان کے ساتھ عہد کیا تھا کہ وہ ان کو تیسری صنف کی حیثیت سے شناخت دیں گے اور ان کے باقاعدہ شناختی کارڈز بن سکیں گے۔یہ عہد بھی حکومت ابھی تک وفا نہیں کر سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ان کے لئے محفوظ مقامات اور پناہ گاہیں بنائے تا کہ وہ صرف مالکانِ مکان کے رحم وکرم پر نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمیں اپنے جاری امدادی پروگراموں میں سے امداد دے۔خواجہ سراؤں کی تعداد بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر ان کی تعداد 4000سے زائد ہے جبکہ افراد شمای(سینسس) کے مطابق ان کی تعداد 940ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قانون ساز (رکن صوبائی اسمبلی) نگہت اورکزئی کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے بہت سی قرار دادیں اور تحاریک پیش کی گئیں لیکن افسوس حکومت ان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

پشاور میں وزارتِ انسانی حقوق کے ریجنل ڈائریکٹر غلام علی کا کہنا تھا کہ جب سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کا بل 2018 پاس ہوا ہے تو ان کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔تاہم وزارتِ داخلہ، پولیس اور انسانی حقوق کے اہلکار کہتے ہیں کہ کے پی میں گزشتہ چار سالوں میں 19خواجہ سراؤں کو باقاعدہ ہدف بنا کے قتل کیا گیا۔انسانی حقوق کے ایکٹویسٹس کے مطابق حقیقی اعدادوشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

قمر ندیم جو کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے حقوق کے لئے کام کرتے ہیں،انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ بنیادی خدمات جیسے تعلیم،صحت،ملازمتیں اور ویلفئیر وغیرہ تک ان کی منصفانہ رسائی کے لئے حکومت اور سول سوسائٹی بشمول خواجہ سرا کمیونٹی کے نمائندے، مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک میں خواجہ سراؤں کی قبولیت اور کامیابی پاکستانی سماج کی نسبت بہت زیادہ ہے۔تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز مل کر کام کرکے صورتِ حال کو مثبت طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔

Category: کے پی گیارہ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے