دارالحکومت میں بننے والا پہلا ہندو مندر تنازعے کی زد میں آگیا
وائرس پھیلنے سے خواجہ سراؤں کے دکھوں میں کئی گنا اضافہ ہوا
جون 22, 2020
ہمارے گٹروں کی صفائی کے لئے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگانے والے
جولائی 8, 2020

دارالحکومت میں بننے والا پہلا ہندو مندر تنازعے کی زد میں آگیا

مذہبی شخصیات کی طرف سے اظہارِنا پسندیدگی کے بعد شہر کے پہلے ہندو مندر کی تعمیر شروع کرنے کے حوالے سے ہونے والی تقریبات اُس وقت ماند پڑ گئیں جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اِسے قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر کا اس کی تعمیر کے خلاف سخت الفاظ پر مشتمل بیان بھی آگیا۔

شری کرشنا مندر کی تعمیر شروع کرنے کی تقریب اسلام آباد کے H-9سیکٹر میں 23جون کو ہوئی۔مندر کو یہ نام دارالحکومت کی ہندو پنچایت نے دیا۔2017میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی ہدایت پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہر کی ہندو کمیونٹی کو یہاں مندر بنانے کے لئے چار کنال زمین دی۔تاہم فنڈز کی کمی اور انتظامی تاخیر کی وجہ سے کوئی خاطر  خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی اور انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی نے مندر کی تعمیر شروع کرنے کے حوالے سے ہونے والی تقریب میں اس بات کی تعریف کی کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پی ٹی آئی کی حکومت کا مسلمہ عہد ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ مذہبی امور نورالحق قادری نے مندر بنانے کے لئے10کروڑ روپے کی گرانٹ کی سمری وزیرِاعظم کو بھیجی جسے انہوں نے منظور کر دیا۔اس تقریب کے بعد پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا رتبہ دینے کے حوالے سے حکومت نے کریڈٹ بھی لیا۔250خاندانوں سے زائد ہندو کمیونٹی بالآخر بہت خوش ہوئی کہ ان کا اپنا مندر بمع شمشان اور کثیر المقاصد کمپلیکس ہو گا۔

تاہم یہ خوشی بہت جلد ہی ختم ہوگئی جب ایک وکیل نے زمین کی الاٹمنٹ ہائی کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج کر دی کہ یہاں مندر کی تعمیر شہر کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے۔پیٹشنر نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ہندو کمیونٹی کو ہدایت جاری کرے کہ وہ سید پور گاؤں میں پہلے سے موجود مندر کو ان مقاصد کے لئے استعمال کریں۔سید پور مندر تقسیم ِہند سے قبل کا ہے جسے ثقافتی و سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا گیاتھا۔ثبات کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی ملہی نے پٹیشن کو قابلِ افسوس قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ معزز عدالت اسے مسترد کر دے گی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائدِاعظم(پی ایم ایل کیو) کے رہنما کی طرف سے یکم جولائی کو مندر کی تعمیر کے خلاف بیان آیا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔یہ بیان جلتی پہ تیل کے مترادف تھا۔وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ٹویٹ،جو بعد میں ہٹا دی گئی،اس میں انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کے بیان پر تنقید کی۔پی ایم ایل کیو کے رکنِ قومی اسمبلی اور پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے جواب میں کہا کہ انہوں نے مندر کی تعمیر پر اعتراض نہیں کیا بلکہ تجویز دی کہ اسے سندھ میں بنانا چاہئے جہاں ایک مناسب تعداد میں ہندو آبادی موجود ہے۔

اسی طرح مندر کی تعمیر کی خبر آنے کے بعد بہت سے مذہبی رہنماؤں نے بھی اس کے خلاف بات کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقلیتوں کو برابر کا رتبہ دینے اور قومی پرچم میں موجود سفید رنگ کی عملی صورت دیکھنے میں پاکستان کو طویل سفر طے کرنا ہو گا۔اسلام آباد میں 2 جولائی کو ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران مذہبی رہنماؤں نے مندر کی تعمیر کی پُر زور مخالفت کی اور حکومت کو تنبیہہ کی وہ مندر کی تعمیر سے باز رہے۔

راولپنڈی والمک مندر کے سنیل راج جس کے والد کو ہندو ہونے کی وجہ سے بہت سی اذیتیں سہنے کے بعد اپنا نام تبدیل کرنا پڑا،ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنا کہ اس ملک کے دیگر شہری۔وہ جو ہمیں مندر کی تعمیر سے منع کررہے ہیں وہ دراصل دنیا میں پاکستان کے اچھے تاثر(سافٹ امیج) کے خلاف ہیں۔

سینیٹر کرشنا کماری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔یہ ملک کی پہلی دلِت سینیٹر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو مندر کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دراصل انتہا پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔ایسے لوگ پُر امن پاکستان کے خلاف ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

جب مذہبی اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے اس بارے میں ان کا مؤقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر مؤقف دینے سے انکار کر دیا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزارتِ مذہبی امور کے ایک اہلکارنے بتایا کہ جب مذہبی اقلیتوں کی شمولیت کی بات آتی ہے وہ بانی پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کے تصور سے رہنمائی لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت، انٹر فیتھ ہار منی اینکلیو بنانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں ایک مخصو ص جگہ اکٹھی بنائی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حتمی شکل دینے کے بعد یہ منصوبہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔

تاہم مجوزہ شری کرشنا مندر کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان کو سب سے پہلے اس خصوصی نوعیت کے کیس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی عزم کو ثابت کرنا ہے۔

 

 

Category: آئی سی ٹی پہلا دوسرا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے