راولپنڈی کے خواجہ سراؤں کے لئے امید کی کرن
وادی کیلاش میں رہنے والوں کو خاموش معدومیت کا سامنا ہے
جنوری 3, 2021
زکوٰ ۃ پر انحصار کرنے والی پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل نے اقلیتوں کی مدد کا راستہ تلاش کرلیا
مارچ 3, 2021

راولپنڈی کے خواجہ سراؤں کے لئے امید کی کرن

گذشتہ سال مئی میں راولپنڈی پولیس نے ایک ٹرانسجینڈر پروٹیکشن سینٹر قائم کیا، کیونکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقات کی مدد کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ یہ سینٹر سروس اور رپورٹنگ سٹیشن کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو قانونی امداد اور رہنمائی فراہم کرنے کے لئے ایک اہم مقام کے طور پر کام کرتا ہے۔
ریم شریف پہلی خواجہ سرا ہیں جن کو پنجاب پولیس کی جانب سے سینٹر میں وکٹم سپورٹ آفیسر، اسسٹنٹ اور کونسلر مقرر کیا گیا ہے جہاں پولیس عہدیداروں کے ساتھ ساتھ، وہ شہر کے خواجہ سراؤں کی حفاظت میں بھی مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے ڈبل ماسٹر ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے جس میں خواتین اور صنف کی تعلیم بھی شامل ہے۔
راولپنڈی سٹی پولیس آفیسر محمد احسن یونس، جنہیں اس منصوبے کی سربراہی کرنے کا سہرا جاتا ہے، نے وضاحت کی کہ سینٹر کا مقصد امتیازی سلوک اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
شریف نے وضاحت کی کہ جب شہر کی خواجہ سرا برادری کے ممبر اسے سینٹر کے فرنٹ ڈیسک پر دیکھتے ہیں توفوراً ان کا اچھے سے استقبال ہوتا ہے اور معقول طریقے سے وہ اپنا احوال بیان کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،ان کے یہ مسائل ہراساں کئے جانے سے لے کر بھیک مانگنے کی وجہ سے پولیس کی طرف سے گرفتاری سے متعلق ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سینٹر میں باقاعدہ مشاورت کا کمرہ بھی ہے جہاں انہیں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
خواجہ سراؤں کے حقوق کی کارکن نایاب علی نے خواجہ سرا برادری کے لئے سینٹر کے قیام کا خیرمقدم کیا خاص طور پر چونکہ اس میں ان کی اپنی برادری کی ایک ملازم ہے۔
اسی طرح رابعہ ساگر، ایک وکیل، نے اس بات کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی کہ بڑے شہروں اور قصبوں میں ایسے سینٹرز قائم کئے جانے چاہئیں،خاص طور پر ٹرانس جینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ 2018 کی منظوری کے بعد،جو ملک میں ایک تیسری صنف کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے اورانہیں مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا نفاذ کمزور ہے اور اس خلا کو پُر کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواجہ سراؤں کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک اور معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ہمارے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنا ہوگا اور ہمیں لازمی طور پر قانون کے تحت مساوی شہری کے طور پر تسلیم کرنا ہو گا۔

Category: پنجاب تیسرے |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے