ریپ آرڈیننس 2020 کے مضمرات
قیس جاوید: ایک گزر ے ساتھی کو یاد کرتے ہوئے
جنوری 3, 2021
کیپٹن ترانہ سلیم-فخرِ پاکستان
فروری 15, 2021

ریپ آرڈیننس 2020 کے مضمرات

2015میں لاہور کے نواحی ضلع قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایک سکینڈل منظر عام پر آیا اور اس کے بعد سے اس طرح کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ اگرچہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے تھے، اس واقعے نے خاص طور پر سول سوسائٹی کو جھنجھوڑا اور حکومت کو اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت قوانین نافذ کرنے پر مجبور کیا۔
اسی طرح لاہور موٹر وے پر ستمبر 2020 میں واقعہ پیش آیا جس میں ایک عورت کو اپنے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس کے نتیجے میں اینٹی ریپ(انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل)آرڈیننس 2020 اینڈ کریمینل لا (امینڈمنٹ)آرڈیننس2020 کوپچھلے سال دسمبر میں فوری طور پر نافذ کردیا گیا۔ دونوں قوانین کا مقصد مجرموں کو سزا دینا اور عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کو جلد انصاف فراہم کرنا ہے۔
جبکہ حکومت نے جلد بازی میں قوانین کا اجراء کرتے ہوئے عمر قید، سزائے موت یا کیمیکل کاسٹریشن سے متعلق سزاؤں پر توجہ دی، اصل مسئلہ مجرموں کی ذہنی کیفیات کا ہے جو کسی جسم پر قابو پانا چاہتے ہیں اور اس پر اپنا اختیار چاہتے ہیں۔ اس گھناؤنے جرم کا نشانہ صرف خواتین اور بچے ہی نہیں مرد اور خواجہ سرا بھی بنتے ہیں۔ یہ آرڈیننس تمام صنفوں کے ممبروں کی حفاظت کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کی تعریف کی ہے کہ کس طرح اس آرڈیننس نے عصمت دری کی تعریف کو بڑھایا ہے، متنازعہ دو انگشت ٹیسٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی (ورجنٹی ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے)، واضح کیا کہ متاثرہ پر تشدد کے نشانات کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ یہ عمل باہمی رضامندی سے ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ قومی جنسی مجرموں کی ڈائریکٹری بنائی جائے۔ تاہم وہ کیمیکل کاسٹریشن سے متعلق شق کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو موجودہ کمزور تفتیش اور انصاف کے نظام پر تشویش رکھتے ہیں اور اس آرڈیننس کے تحت قائم کیے جانے والے مختلف اداروں کی تشکیل میں مختلف سطحوں پر خواتین کی شمولیت کو جس طرح نظرانداز کیا گیا،اس پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
سدرہ ہمایوں، انسانی حقوق کی کارکن ہیں، جنھوں نے عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے ساتھ کام کیا ہے، نے وضاحت کی کہ عصمت دری بلا لحاظ عمر اور صنف ایک شخص پر جبراً اختیار حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون مجرم کو سزا دینے اور متاثرہ کو انصاف فراہم کرنے کے لئے موجود ہے، لیکن اصل مسئلے کو ابھی تک نہیں چھوا گیا اور یہ ہے مجرم کی ذہنیت۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو قوانین، سزاؤں اور اس عمل سے کسی شخص کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینے کے لئے میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر وسیع مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
آرڈیننس میں رکھے گئے انتظامی بندوبست کے حوالے سے ہائی کورٹ کی وکیل سحر بندیال نے کہا کہ کچھ خامیاں ہیں جن کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ انتظامی ڈھانچے کو کس طرح قائم کیا جائے گا اس پر کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔ جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں آبرو ریزی کے بحران کے مراکز قائم کیے جانے ہیں، تمام ہسپتال میڈیکو لیگل امور کو نمٹانے کے لئے ضروری تیاری نہیں رکھتے اور دیہی علاقوں کا کیا ہوگا؟ یہ کوئی طریقہ کار بھی فراہم نہیں کرتا کہ دیہی علاقوں میں عصمت دری سے بچنے والے کو شہری ہسپتال میں ریپ بحران والے سیل سے کیسے جوڑا جائے گا؟ اس کے علاوہ صنفی تشدد کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتیں پہلے ہی موجود ہیں لہذا یہ واضح نہیں ہے کہ یہ خصوصی عدالتیں الگ سے کام کریں گی یا ان کا انضمام ہوگا۔
شاید نئے قانون کا سب سے متنازعہ پہلو کیمیکل کاسٹریشن سے متعلق شق ہے۔ وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکن اس کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ندا ایلی نے بتایا کہ کیمیکل کاسٹریشن ہماری بین الاقوامی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک غیر انسانی عمل ہے جو کسی شخص کے وقار کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس کو پستی میں مبتلا کرتا ہے۔ ایک ایسا قانونی نظام جو مکمل طور پر محفوظ اور درست نہیں ہے اور غلط سزائیں دینے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، ایسی سخت سزاؤں کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ واضح طور پر یہ سزا مناسب طور پر سوچی سمجھی نہیں تھی اور خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات میں سزا کی شرح میں اضافے کے لئے قانون کے اطلاق کو بہتر بنانے کے بنیادی معاملے سے کج کشی کی گئی ہے۔
موجودہ فوجداری قانون (ترمیمی) (آبرو ریزی) ایکٹ 2016 میں فاسٹ ٹریک عدالتی میکانزم (تین ماہ کے مقدمے کی سماعت) کا احاطہ کیا گیا ہے، ڈی این اے ٹیسٹنگ کی فراہمی، زندہ بچ جانے والے کی رازداری کا تحفظ، حراستی عصمت دری، خصوصی عدالتیں صنف پر مبنی تشدد سے نمٹنے کے لئے (جی بی وی) اور لاہور ہائی کورٹ میں ماڈل جی بی وی بنچ کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔
وومن ایکشن فورم نے ملک میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے صوبائی قانون سازوں، صوبائی خودمختاری کو پامال کرنے والے دونوں حالیہ آرڈیننسسز کی مذمت کی ہے۔ وکیل ہائیکورٹ خدیجہ علی نے کہا کہ یہ آرڈیننس قانون سازی کی مضبوط مثال نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تاہم د و انگشت ٹیسٹ پر پابندی عائد کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس کے علاوہ یہ 2016 کے فوجداری قانون میں ترمیم کی دہرائی ہے۔
اس آرڈیننس میں یہ بھی شرط عائد کی گئی ہے کہ مقدمات کا فیصلہ چار ماہ کے اندر ہونا چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں پولیس تفتیش کر سکتی ہے اور اس وقت میں قابل اعتماد ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
پنجاب پولیس کے ترجمان سہیل اختر سکھیرا کے مطابق وہ عہدیداروں کو تربیت دیں گے اور آرڈیننس کے قانون بننے کے فوری بعد تحقیقات میں شقوں پر عمل درآمد شروع کردیں گے۔

Category: پاکستان نو |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے