زکوٰ ۃ پر انحصار کرنے والی پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل نے اقلیتوں کی مدد کا راستہ تلاش کرلیا
راولپنڈی کے خواجہ سراؤں کے لئے امید کی کرن
فروری 15, 2021
عورت مارچ کے دوران صحت ایک اہم ترجیح تھی
مئی 5, 2021

زکوٰ ۃ پر انحصار کرنے والی پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل نے اقلیتوں کی مدد کا راستہ تلاش کرلیا

پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل (پی وی ٹی سی) ایک خود مختار سرکاری ادارہ ہے جو صوبے کے 210 انسٹی ٹیوٹس کے ذریعے ضرورت مند نوجوانوں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت مہیا کرتا ہے۔ یہ مرکز نہ صرف مفت تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ تربیت یافتہ افراد کے لئے وظیفہ بھی فراہم کرتا ہے۔
تاہم ایک بڑا مسئلہ جو آزادانہ تربیت کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے، وہ اقلیتوں کو بطور ٹرینی خارج کرنا ہے جس کی وجہ سے ان کی معاشرتی اور معاشی حیثیت مزید خراب ہوگئی۔ 1998 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک ہزاروں افراد کی تربیت کے باوجود پی وی ٹی سی کو غیر مسلموں پر فنڈ زخرچ کرنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ اس کی سرگرمیوں کی مالی اعانت زکوٰۃ کے پیسوں سے ہو رہی ہے۔یہ کیونکہ ایک مذہبی ٹیکس ہے جو صرف مسلمانوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔
حال ہی میں پی وی ٹی سی کے سٹیک ہولڈرز اس مسئلے کو سلجھانے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے رہے تاکہ پہلے ہی سے پسماندہ مذہبی اقلیتیں بھی ان کے کام سے مستفید ہوسکیں۔اس منصوبے کا نام ” سو شیو ایکنامک سپورٹ فار مائنارٹیز تھرو سپیشل گرانٹ” جس کو انسانی حقوق اور اقلیتی امور پنجاب کے تعاون سے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب کے محکمہ کی طرف سے منظور شدہ گرانٹ سے شروع کیا تھا۔
100ملین روپے کے منصوبے کے تحت گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، گجرات اور ملتان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار مستحق نوجوانوں کو معروف قومی صنعتوں میں تربیتی پروگراموں میں داخلہ دیا گیا۔
پی وی ٹی سی پبلی کیشنز اینڈ مارکیٹنگ منیجر بشریٰ نواز نے بتایا کہ ان کے مستفید ہونے والوں میں سے 69 فیصد نوجوان خواتین ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ماہانہ 2 ہزار روپے وظیفہ بھی ملتا ہے۔
اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والی فوزیہ نے بتایا کہ وہ لوگوں کے گھروں پر معمولی ملازمتیں کررہی تھی جب ایک دن چرچ میں جاتے ہوئے، اس نے بیوٹیشن کورس کرنے کے امکان کے بارے میں سنا اور وہ بھی مفت میں۔
ایک لاچار گھریلو خاتون فوزیہ، آج بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے اور اپنے مستقبل کے لئے پر امید ہے۔ ان میں بہت ساری ایسی خواتین ہیں جن کو پیرا میڈیکس، ٹیکنیشن، اور مختلف صنعتوں جیسے ٹیکسٹائل، فوڈ اور مہمان نوازی کی کارکن کی حیثیت سے مہارتیں سیکھنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
پی وی ٹی سی کے چیئرمین شاہنواز بدر نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر مسیحی برادری کے لئے ہے لیکن کونسل کا ارادہ ہے کہ ننکانہ صاحب میں بھی سکھ برادری کے لئے پیشہ ور اور تکنیکی تربیت کا منصوبہ شروع کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ زکوٰ ۃکے فنڈز اس مقصد کے لئے استعمال نہیں ہوسکتے ہیں، لہذا وہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس جائیں گے جو تقسیم ِہند میں ترک کردیئے گئے ہندوؤں اور سکھوں کی املاک اور مذہبی مقامات کا انتظام کرتا ہے۔

Category: آٹھ پنجاب |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے