ستیش آنند نے پاکستانی سنیما کو زندہ رکھا ہے
مسیحی اور ہندو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے مسائل ایک الگ طریقے سے حل کئے جائیں
دسمبر 28, 2020
2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال
جنوری 3, 2021

ستیش آنند نے پاکستانی سنیما کو زندہ رکھا ہے

ستیش آنند کی ایو ریڈی پکچرز جو 1946 میں ان کے والد جگدیش چندرا آنند نے کراچی میں بنائی تھی، ملک کی قدیم ترین اور سب سے بڑی فلم پروڈکشن اور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ 1971 میں معاشیات میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد، 1977 میں اپنے والد کے اچانک انتقال کے بعد ستیش نے اس کمپنی کو سنبھال لیا۔
کمپنی کی طرف سے تیار کی جانے والی کچھ بڑی کامیاب فلموں میں سسی، ہیر (1955)، مس (1956)، حاتم (1956)، عشقِ لیلیٰ (1957)، نورِ اسلام (1957) اور حسرت (1958) شامل ہیں۔نور ِاسلام میں مسیحی سلیم رضا اور آئرین پروین کی پیش کردہ نعت پیش کی گئی تھی۔ آج تک ایو ریڈی پکچرز نے 700 سے زائد ہالی وڈ اور بالی ووڈ فلمیں ریلیز کی ہیں اور ٹی وی سکرین کے لئے 250 سے زیادہ تفریحی شوز بھی تیار کیے ہیں۔
ثبات سے گفتگو کرتے ہوئے آنند نے کہا کہ دوسرے شعبوں کی طرح سینما انڈسٹری کو بھی کرونا وائرس عالمی وبا کی وجہ سے سخت دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے ملک کی تفریحی صنعت کو بچانے کے لئے تعمیراتی شعبے کے لئے بیل آؤٹ پیکیج جیسے اقدام کا مطالبہ کیا اور تجویز دی کہ اس شعبے کو فروغ دینے کے لئے فلموں اور سینما گھروں کو ایک محدود وقت کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
صنعت کے مستقبل کے بارے میں انہوں نے نوٹ کیا کہ فلمیں تکنیکی مہارت، تربیت اور مناسب بجٹ پر منحصر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سکرینوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ہے ہم صرف اوسط معیاری فلموں کی محدود تعداد دیکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگوں کی سینما گھروں تک رسائی صنعت کی بقا کے لئے لازم ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ تقسیم کے وقت کراچی اپنی تھوڑی سی آبادی کو 70 میں سینما گھر پیش کرتا تھا۔ آنند نے سنیما انڈسٹری پر ہندوستان کے ساتھ تناؤ کے منفی اثر کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مستقل تعداد کی وجہ سے ہندوستانی فلمیں مستقل بنیادوں پر ہجوم کو کھینچتی ہیں۔
اس کے باوجود، انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے پانچ سال شاید انڈسٹری کے لئے بہترین رہے کیونکہ پاکستانی فلمیں بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ کو بھی مشکل وقت دے رہی ہیں۔
اقلیتوں کے حوالے سے معاشرے میں امتیازی سلوک کے بارے میں آنند نے کہا کہ مذہب، زبان، معاشی حیثیت اور تعلیمی پس منظر جیسی مختلف اقسام کا امتیاز پایا جاتا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ خود پر منحصر ہے۔
ایو ریڈی پکچرز کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سنسر بورڈ کے عمر خطاب نے کہا کہ پروڈکشن کمپنی نے پاکستانی فلمی صنعت کا معیار طے کیا ہے۔ستیش نہ صرف فلمی پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ تمام زبانوں میں فلمیں بنانے، ریلیز کرنے، تقسیم کرنے اور مارکیٹ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
فلمساز مہرین الٰہی نے کہا کہ ستیش نے متعدد فلمیں بنائی ہیں اور انڈسٹری کو نئی زندگی دینے میں ان کا کردار اہم رہا ہے۔
ستیش آنند ہماری فلم انڈسٹری کا علمبردار اور ایک اہم ستون ہیں اور اس کام میں ان کی سمجھ بوجھ اور کردار بے مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستیش کئی دہائیوں سے ایک کامیاب پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر ہیں لیکن مجھے ان کے بارے میں سب سے زیادہ ان کی دیانتداری اور خلوص جیسی اقدار پسند ہیں۔

Category: پاکستان پانچواں |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے