سندھ میں خواتین دوست قوانین میں موجود خامیاں
آرزو کیس کی موجودہ صورتِ حال
فروری 15, 2021
قبائلی خواتین کی موجودہ صورتِ حال
مارچ 3, 2021

سندھ میں خواتین دوست قوانین میں موجود خامیاں

2010میں 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد، جس نے صوبوں کو بااختیار بنایا، مختلف خواتین دوست قانون سازیوں کا سہرا بجا طور پر سندھ حکومت کے سر جاتا ہے۔یہ قوانین مختلف معاملات میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں اور ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا ایک دیرینہ مطالبہ ہیں۔ وہ گھریلو تشدد اور ہراساں کیے جانے والے متاثرین کی حفاظت، بچوں کی شادیوں کو روکنے، زراعت کے شعبے میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے اور دیگر میں حقوقِ زچگی کی غرض رکھتے ہیں۔
مرکز میں نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کی طرز پر حکومتِ سندھ نے سندھ کمیشن آن سٹیٹس آف وومن(ایس سی ایس ڈبلیو) بھی قائم کیا ہے۔ صوبے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے خواتین کی ترقی کا محکمہ کام کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہر اقبال ڈیتھو کے مطابق سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013، بچوں کی شادیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے حالانکہ اس کی منظوری کے کچھ سال بعد ہی اس کا نفاذ شروع ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعے اس قانون کا اطلاق کیا جارہا ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے مجسٹر یٹی اجازت کے بغیر بھی اعترافِ جرم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ میں پولیس اہلکاروں کو بھی اس قانون کی مختلف شقوں کے صحیح اطلاق کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے تربیت دے رہے ہیں۔
تاہم کچھ خواتین دوست قوانین، خواتین کی حفاظت میں کوئی خاص پیش رفت کرنے میں ناکام رہے ہیں اور زیادہ تر صرف کاغذوں پر موجود ہیں۔
گھریلو تشدد (تحفظ اور روک تھام) ایکٹ 2013 کے کم سے کم اطلاق پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈیتھو نے کہا کہ پولیس حکام قانون کی تعریف میں الجھن کا شکار نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق کوئی واضح ہدایت موجود نہیں ہے کہ پولیس اس طرح کے جرائم کا اعتراف کر واسکے۔
ڈیتھو نے زور دے کر کہا کہ جبکہ دوسرے صوبوں نے کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کا ایکٹ 2010 اپنایا ہے لیکن سندھ نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے اور مزید کہا کہ قانون سازی کے ذریعے ہراساں کئے جانے کی متعدد شکایات کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔
جب خواتین کے حقوق کے تحفظ کی بات آتی ہے تو مختلف انتظامی دائرہ اختیار آڑے آ جاتے ہیں اور یہ محکمے ایک چھت کے نیچے کام نہیں کرتے ہیں، جو ایس سی ایس ڈبلیو کی چیئرپرسن نزہت شیرین کو لگتا ہے کہ ایک توجہ طلب مسئلہ ہے۔ محکمہ ترقی خواتین، محکمہ سوشل ویلفیئر، پولیس، اور سول انتظامیہ بیک وقت خواتین کے حقوق کے کیسسز میں شامل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہمیں موجودہ محکموں کو ان کے حکام سے متجاوز کرنے کی بجائے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی خاتون کے لئے سیف ہوم قائم کرنا ہے تو یہ ڈپٹی کمشنر کا اختیار ہے، جب کہ پروٹیکشن آفیسر کو محکمہ ترقی خواتین کی جانب سے پریشانی میں مبتلا خاتون کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ شیرین نے شکایت کی کہ اس طرح کے کیسسز میں ضروری ایک چھت کے نیچے کام کرنے والی انتظامیہ،درپیش غلط فہمیوں سے بچا سکتی ہے۔
ڈیتھو نے سندھ میں صرف آٹھ خواتین اور بچوں کے پولیس سٹیشنوں کے آپریشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ الگ الگ پولیس سٹیشن اور حفاظتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں خواتین تشدد سے متعلقہ جرائم کی اطلاع دینے کو محفوظ سمجھتی ہوں اور اگر انہیں تحفظ اور پناہ کی ضرورت ہو تو وہ بھی انہیں دی جا سکتی ہو۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو پوری طرح سے غائب ہے۔

Category: دوسرا سندھ‎ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے