سکھ برادری کے لئے مرکزِ ہنر قائم کرنے کا حکومتی وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہو سکا
صحافت آخری سانسیں لے رہی ہے
دسمبر 4, 2020
ڈیرہ پھلاں دا سہرا
دسمبر 17, 2020

سکھ برادری کے لئے مرکزِ ہنر قائم کرنے کا حکومتی وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہو سکا

یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد پاکستان میں سکھ برادری سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں آباد ہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل یہ یہاں آباد ہیں اور انہوں نے کبھی اپنی سر زمین نہیں چھوڑی حالانکہ 1947 اور اس کے بعد ان کو یہاں سے منتقل ہونے کی پیش کشیں بھی ہوئیں۔ پچھلے عشرے میں قبائلی علاقوں میں امن امان کی بگڑتی صورتِ حال کے بعد انہوں نے نقل مکانی کی اور خیبر، اورکزئی اور کرم سے پشاور منتقل ہوگئے جہاں پہلے ہی سکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ اس وقت تقریباًسات ہزار سے زائد سکھ پشاور کے محلہ جوگن شاہ میں آباد ہیں جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ دو برس قبل ان خواتین کو مالی طور پر خود مختار اور کماؤ بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ایک اعلان کیا گیا اور اسی محلہ میں خواتین ووکیشنل سنٹر کھولنے کیلئے محکمہ سماجی بہبود کو ہدایت کی گئی،تاہم آج دو برس گزر جانے کے بعد بھی یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔مقامی سکھ رہنما گر پال سنگھ کے مطابق یہ وعدہ خیبر پختونخواہ کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کے بعد محکمہ سماجی بہبود نے سنٹر شروع کرنے کی ہدایت کی جس کیلئے عمارت بھی فراہم کردی گئی لیکن سنٹر کے قیام کیلئے درکار سامان فراہم نہیں کیا جا سکا۔ سلائی کڑھائی سے لیکر تمام اہم ہنر جو اس سنٹر میں سکھائے جانے تھے ان کیلئے تھوڑا سا خام مال دے دیا گیا لیکن مشینیں نہیں دی جا سکیں جس کی وجہ سے یہ سنٹر صرف کاغذات تک ہی محدود رہ گیا ہے۔

سکھ خواتین کی تربیت کی ذمہ داری مقامی سکھ خاتون منشا دیوی کور کے سپرد کی گئی۔ خود اس نے پشاور ہی کے یونین کونسل 17میں قائم سنٹر سے یہی تربیت حاصل کی تھی، تاہم قبائلی اقدار کے حامل افراد اپنی خواتین کو دور بھیجنے کیلئے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے محلہ جوگن شاہ کے اندر ہی سنٹر قائم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ منشا دیوی کور کے مطابق قبائلی خواتین کو بھی حق ہے کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ ایک سنٹر کا قیام شاید ناکافی تھا لیکن یہ سنٹر پہلا قدم تھا جو ان قبائلی خواتین کو باختیار بنانے کی جانب پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان خواتین کو اگر گھر کی دہلیز پر یہ سہولت فراہم کردی گئی تو انکا مستقبل روشن ہو سکے گا۔

عمومی طور پر اقلیتوں جبکہ خصوصی طور پر سکھوں کیلئے آواز بلند کرنیوالی پشاور کی خاتون سکھ صحافی منمیت کور کے مطابق حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ننکانہ صاحب سے لاہور جانیوالے سکھ یاتریوں کی وین کو حادثہ پیش آیا۔ اس حادثے میں 20افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ منمیت کور کے مطابق انہوں نے چار  ایسی خواتین سے ملاقات کی ہے جن کے شوہر اس حادثہ میں جاں بحق ہوگئے اور تمام خواتین اس وقت حاملہ ہیں اگر ووکیشنل سنٹر دو برس قبل قائم کردیا جاتا تو یہ حاملہ بیوائیں آج خود مختار ہوتیں اور بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے انہیں کسی اور کی جانب نہ دیکھنا پڑتا۔

Category: پہلا کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے