شاور میں پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ
خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بڑے حملے
فروری 15, 2021
مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے
فروری 15, 2021

شاور میں پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ

اگر میں دو نمایاں صنفوں میں سے کسی ایک کے مطابق نہیں ہوں تو کیا میں انسان نہیں ہوں؟ کیا اس زندگی میں میرا مقصد صرف طنز اور ہراسانی کا نشانہ بننا ہے؟یہ بات خیبر پختونخواہ ٹرانسجینڈر ایسوسی ایشن کی صدر آرزو خان نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہونے والے ایک خوفناک واقعے کے بعد کہی جس میں اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی تھی اور جب اس نے مزاحمت کی تو اس کے کپڑے پھاڑ دئیے گئے۔
ہسپتال میں واقعے کے فوراًبعد آرزو کی بنائی گئی ایک ویڈیو کے مطابق، آرزو نے بتایا کہ وہ جب اپنے گرو کے خون کے ٹیسٹ کے لئے ہسپتال کی نئی عمارت کی پانچویں منزل پر گئی۔ تب نمونہ جمع کرنے والے نے اسے آگاہ کیا کہ نتائج میں ایک سے دو گھنٹے لگیں گے، اس نے درخواست کی کہ اگر اس عمل کو جلدی سے مکمل کیا جا سکے تو بہتر ہو گا۔ تاہم اس کو جواب ملنے سے پہلے ہی ایک اور لیب ٹیکنیشن نمودار ہوا اور کہا کہ اگر وہ اتنی جلدی میں ہے تو اسے اس کے ساتھ اگلے دروازے پر آنا چاہئے۔ کسی مریض کی طرح ہسپتال میں تشریف لاتے ہوئے، اس نے عملے کی ہدایات پر عمل کیا۔ اگلے کمرے میں اس شخص نے اسے جسمانی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ جب اس نے جسمانی طور پر مزاحمت کی تو وہ غصے میں آگیا اور اس نے آرزو کے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ جب شور ہوا کچھ لوگ اندر آگئے۔ ویڈیو میں ہسپتال میں تعینات دو پولیس عہدے داروں کو بھی اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے اور مجرم کی گرفتاری کی بجائے بیکار کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ثبات کو مطلع کیا کہ کمیٹی کی رپورٹ اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اس واقعے کے حقائق کا پتہ لگانے میں معاون ثابت ہو گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون اورہسپتال کے ضوابط توڑنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ ایس پی سٹی عمران خان نے بھی ایسی ہی یقین دہانی کرائی، جن کی اپنی ٹیموں نے واقعے کی تحقیقات کیں۔
تاہم واقعے کے ایک دن بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ہسپتال کی انکوائری کمیٹی نے اس واقعے کو نمٹادیا ہے کیوں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے کسی چیز کا پتہ نہیں چل سکا۔ہسپتال کی انکوائری پر تبصرہ کرتے ہوئے آرزو نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے کو سلجھانے کے لئے اسے ایک لاکھ روپے کی پیش کش کی کیونکہ لیب ٹیکنیشن نے اپنا کیا قبول کر لیا تھا۔ لیکن اس نے ہسپتال کے ڈائریکٹر اور پولیس کی درخواست پر ملوث شخص کو معاف کردیا کیونکہ وہ ایک معاف کرنے والی شخص ہے۔ تاہم اس نے زور دے کر کہا کہ ہسپتال کی انکوائری رپورٹ کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی عام کیا جانا چاہئے تاکہ حقائق سب کے سامنے ہوں۔
آرزو نے مزید بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ نے یہاں خواجہ سراؤں کے علاج معالجے اور سہولت کے لئے خصوصی اقدامات شامل کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ بھی دیگر مردوں اور عورتوں کے جیسا سلوک کیا جانا چاہئے، اس نے مزید کہا کہ ہمارے ارد گرد موجود لوگوں سے صرف بنیادی انسانی وقار کا تقاضا کرنا بہت زیادہ ہے کیا؟

Category: ساتواں کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے