عوامی مقامات پر ہندو خواتین کی مشکلات
ڈیرہ پھلاں دا سہرا
دسمبر 17, 2020
2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال
جنوری 3, 2021

عوامی مقامات پر ہندو خواتین کی مشکلات

میں جب سندور، بندیا لگا کر بس میں سوار ہوئی تو ارد گرد بیٹھی خواتین نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں اور کھسر پھسرکے ساتھ ساتھ زیر لب ہنسنا بھی شروع کر دیا، جیسے میں کسی اور سیارے کی مخلو ق ہوں لیکن میں اس لیے چپ ہو گئی کہ یہ نہیں جانتیں کہ پاکستان کے آئین اور حقوق کے مطابق ہر پاکستانی شہری کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور میں اس وقت انہیں سمجھا بھی نہ پاؤں گی، اس لیے میں چپ ہو گئی۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی سکول ٹیچر ممتا کرمانی کو بس میں یا عوامی مقا مات پر اس طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ اکثر خواتین کو رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اور اس کی برادری کی دوسری خواتین جیسا دیس ویسا بھیس کی بنیاد پر عوامی مقامات، سیمینارز، ورکشاپس،پارکس اور بازاروں میں بندیا،منگل سوتر اور سندور لگا کر جانے سے گریز کرتی ہیں۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25کے تحت پاکستان کے تمام شہری برابر ہیں۔ آرٹیکل 26 کے تحت عوامی مقامات تک رسائی کی اجاز ت تمام شہریوں کو بلا امتیاز حاصل ہے جس میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی پاکستانی قوم بھی شامل ہے جبکہ آرٹیکل 27کے تحت تما م پاکستانی اقلیتی برادری کو اپنی زبان اور ثقافت کو محفوظ بنانے اور آرٹیکل20کے تحت انہیں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے۔ان سب قوانین اور آئین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سرکاری یا غیر سرکاری طور پر اقلیتی برادری پر کسی قسم کی پابندی لاگو نہیں یا پھر کوئی روک ٹوک عملی طور پر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود خواتین بندیا،منگل سوتر اور سندورلگانے سے گریز کرتی ہیں۔

اس کی وجہ عوام میں شعور و آگہی کی کمی کو گردانتے ہوئے ممتا نے ثبات ٹیم کو بتایا کہ اگر ہمیں بندیا،منگل سوتر اور سندور لگانے کی کوئی روک ٹوک تو نہیں لیکن جب ہم نے عوامی مقامات پر یہ لگایا ہو تو خواتین ہم سے مختلف سوالات پوچھنا شروع کر دیتی ہیں جس سے ہمارے وقت اور کام کا حرج ہوتا ہے۔ اس لیے ہم گریز کرتے ہیں تاکہ اپنے کام پر ہم پوری توجہ مرکوز کر سکیں لیکن اپنی کمیونٹی کی تقریبات اور پروگرامز میں ہم بھر پورے طریقے سے اس کا اہتمام کرتی ہیں جبکہ مسلم کمیونٹی کی تقریبات میں جہاں مدعو ہوتے ہیں وہاں بھی بھر پور  طریقے سے اپنی مذہبی اقدار کے ساتھ شریک ہوتی ہیں۔

اس حوالے سے سبھاش ا یجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ سبھاش چند کا کہنا ھے کہ جو خواتین بولڈ ہیں اور پبلک مقامات پر بھی بندیا،منگل سوتر اور سندورلگا سکتی ہیں، وہ لگا لیتی ہیں لیکن عام طور پر اس لیے نہیں لگاتیں کہ جہاں اپنی شناخت ظاہر کرنے کی ضروت نہیں وہاں کیوں کی جائے؟ کوئی پابندی تو نہیں لیکن انہیں عوام کے مختلف رویوں کا سا منا رہتا ہے۔ خواتین بندیا،منگل سوتر اور سندور لگا کر غیر محفوظ تصور تو نہیں کرتیں لیکن عوامی تبصرے باڈی لینگویج اور مضحکہ خیز انداز اقلیتی برادری کی خواتین کی مذہبی روایت کو عوامی مقامات پر  اپنانے سے روکتا ہے۔ بندیا،منگل سوتر اور سندور کے استعمال کے مذہبی نقطہ نظر سے متعلق انہوں نے بتایا کہ جب شادی کی مذہبی رسو مات ادا کی جاتی ہیں تو سات پھیروں میں ساتھ نبھانے، ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہنے کا جو بندھن باندھا جاتا ہے، اس کی کڑیاں منگل سوتر اور سندور بھی ہیں جو کہ شوہر کی سلامتی اور زندگی کی دعا بھی ہیں اورہماری  مذہبی اقدار بھی ہیں جن سے شادی شدہ خواتین کا ایک مذہبی ثقافتی لگاؤبھی بن جاتا ہے۔

پشاور ہندو پنچائیت راجپوت ویلفئیر سوسائٹی کے انفارمیشن سیکر یٹری شری انیل چند کیمطابق منگل سوتر،اور سندور کے بغیر شادی نامکمل ہوتی ہے۔ یہ سہاگ کی نشانی ہو تے ہیں جو کہ شادی کے موقع پر دولہا اپنی دلہن کو لگاتا اور پہناتا ہے جو کہ مرتے دم تک اس کے ساتھ رہتے ہیں یا پھر شوہر کی زندگی تک وہ انہیں استعمال کرتی ہیں۔ اب بھی  85فیصد خواتین اسے استعمال کرتی ہیں لیکن عوامی مقامات پر اس لیے گریز کرتی ہیں کہ لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ وجہ بھی ہے کہ ہم 70 سال سے اسی جگہ رہ ہے ہیں اور  اتنے عرصے میں انسان اسی کلچر میں ڈھل جاتا ہے، مذہبی اقدار اور روایات اپنی جگہ ہیں اور اس پر ہم عمل پیرا ہیں، تاہم ماحول کے مطابق انسان کو ڈھلنا ہوتا ہے اور یہی معاملہ دنیا  بھر میں رائج ہے۔

Category: چوتھا کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے