غیر ضروری تنازعے نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے معاملے کو چھپا دیا
حیدرآبادکی تاریخی ورثے کی جگہیں حکومتی عدم توجہ کا شکار ہیں
دسمبر 19, 2020
خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بڑے حملے
فروری 15, 2021

غیر ضروری تنازعے نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے معاملے کو چھپا دیا

دیہی سندھ کی سنیتا راٹھوڑ نے سخت مزاحمت کے باوجود اپنے فرسٹ کزن ڈاکٹر دیپک راج سے شادی کی کیونکہ ہندوؤں میں فرسٹ کزنز سے شادی کا رواج نہیں ہے۔ لیکن سنیتا اور دیپک کو پیار ہو گیا اور ان کا آپس میں مل کر رہنا مذہبی رواج کے خلاف رہا۔
اپریل 2015 میں اس جوڑے کی زندگی لرز اٹھی تھی جب حیدرآباد میں پولیس کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ڈاکٹر دیپک شدید زخمی ہوگیا تھا۔ واقعے کی آس پاس کی اطلاعات متزلزل ہیں – اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ وہ پولیس کی طرف سے زیادہ طاقت کے استعمال کا شکار ہوا لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جن کا دعویٰ تھا کہ پولیس اہلکار وں نے نامعلوم افراد کی جانب سے اثرورسوخ کی وجہ سے حملہ کیا۔
اس سانحے کے بعد سے پانچ سال تک، جس نے ڈاکٹر دیپک کی ٹانگیں مفلوج کر دی تھیں، سنیتا نے خود ہی اپنے معذور شوہر کی ہر طرح سے دیکھ بھال کی۔ وہ کراچی منتقل ہوگئے کیوں کہ ان کے اپنے خاندان کے ممبران نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔ کراچی میں ان کی حمایت کچھ افراد نے کی جبکہ سنیتا کو بھی حکومت کی مدد سے ملازمت ملی۔
نومبر 2020 میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ سنیتا نے اپنا مذہب تبدیل کرلیا ہے اور دیپک کی رضامندی سے ایک مسلمان شخص سے شادی کی ہے۔اس واقعے کے نتیجے میں غیر ضروری تنازعہ پیدا ہوا کیوں کہ ہندو خواتین کی مسلمان مردوں سے شادی کرنے کے معاملے کو جبری تبدیلی مذہب کے طور پر اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ اس معاملے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
دیپک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ وہ اور سنیتا، جس کا مسلم نام اب سونیا ہے، رمیز خان کے ساتھ اپنی دوسری شادی پر راضی ہوگئی ہے۔ سنیتا کے سابق شوہر نے واضح طور پر اس کی کردار کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اسے اپنی زندگی جینے کا پورا پورا حق ہے۔
سنیتا نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ یہ میرا فیصلہ ہے، میرے جذبات اب ایک ایسے شخص (رمیز) سے منسلک ہیں جو کبھی دیپک کے ساتھ وابستہ تھے۔اس نے معاشرے پر الزام لگایا کہ وہ اس کی مدد کرنے میں ناکام رہا جبکہ وہ اپنے سابق شوہر کا علاج کر رہی تھی۔
اس کیس کی قریب سے پیروی کرنے والے سندھی ڈیلی سندھ کے ایڈیٹر مہیش کمار نے ثبات کو بتایا کہ کچھ عناصر سوشل میڈیا پر سنیتا کو بدنام کررہے ہیں حالانکہ اس کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنا اس کا حق ہے۔اپنی پسند کے کسی شخص سے شادی کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔ اس نے پانچ سال تک ڈاکٹر دیپک کی دیکھ بھال کی۔ اسے اپنے تقاضے پورے کرنے تھے،انہوں نے مزید زور دیا۔

Category: چھٹا سندھ‎ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے