قیس جاوید: ایک گزر ے ساتھی کو یاد کرتے ہوئے
2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال
جنوری 3, 2021
ریپ آرڈیننس 2020 کے مضمرات
فروری 15, 2021

قیس جاوید: ایک گزر ے ساتھی کو یاد کرتے ہوئے

ڈیرہ اسمٰعیل خان کی محروم مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے قیس جاوید کا بچپن ہی سے عزم تھا کہ پیشے کے انتخاب میں وہ والدین کے نقشِ قدم پر نہیں چلے گا کیونکہ وہ دونوں سینیٹری ورکر تھے۔
متعدد معمولی ملازمتیں کرنے کے بعد آخر کار اس نے 2007 میں ملک کے ایک اہم نیوز چینل جیو نیوز میں کیمرہ مین کی حیثیت سے ملازمت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ جیو نیوز کے ساتھ اس کی وابستگی کا اختتام 2016 میں ہوا جب اس نے اپنا فیس بک پیج عہد نامہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے گذشتہ سال اکتوبر میں اپنے آبائی شہر میں مجھے بتایا کہ اس کے والدین کے مقابلے میں اس کی زندگی بہت بہتر ہے اور امید ہے کہ اس کے بچوں کی زندگی اس کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوگی۔ اس بحث کا موضوع چھوت چھات کا مسئلہ تھا جس کا پاکستان میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر صفائی کے کام سے وابستہ افراد کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ اسے 7 دسمبر 2020 کو اس کے آبائی شہر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اب تک نہ تو صوبائی اور وفاقی حکومتوں اور نہ ہی صحافیوں کی یونینوں نے کسی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ سوگواران میں وہ 12 سالہ بیٹا عہد اور سات سالہ بیٹی شبی چھوڑ گیا ہے۔
پولیس نے ابھی تک اس جرم میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی ہے۔
اس کے ایک سابق ساتھی کارکن سعید اللہ مروت نے یاد کیا کہ قیس مکمل طور پر ایک پیشہ ور شخص تھا اور اس نے دہشت گردوں کے متعدد حملوں کو کور کیا جن میں جولائی 2009 میں ڈی آئی خان کی جیل توڑے جانے کا پُر خطر واقعہ بھی شامل تھا۔ اس نے یاد کیا کہ قیس نہ صرف ایک اچھاکیمرہ مین تھا جو کہ مہلک دہشت گردانہ حملوں کی جگہ جگہ کوریج کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا بلکہ وہ ایک غیر معمولی نان لینئر ایڈیٹر بھی تھا۔
قیس جاوید کا قتل پہلا کیس نہیں ہے اور واضح وجوہات کی بناء پر آخری واقعہ نہیں ہے۔
کئی سالوں سے بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگز جیسے رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے پاکستان کو صحافیوں کے لئے دنیا کا سب سے خطرناک ملک قرار دیا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک – ایک پاکستانی میڈیا رائٹس واچ ڈاگ – کے مطابق 2000 سے پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 140 سے زیادہ ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ پریس فریڈم رپورٹ 2020 کے مطابق صحافیوں کے سات قتل اور ایک بلاگر سمیت کم از کم 91 کیس سامنے آئے۔ ان میں صحافیوں پر حملے اور میڈیا اور اس کے پریکٹشنرز کے خلاف دیگر خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔یہ صرف پاکستان میں مئی 2019 سے اپریل 2020 کے درمیان قلمبند کئے گئے۔ یہ واقعات پاکستان میں خوف اور ہراسانی کے خطرناک ماحول کی منظر کشی کرتے ہیں جن سے آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں ظلم و ستم اور خطرے کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے۔ یہ صحافیوں کے خلاف قانونی مقدمات درج کرنا اور انہیں سزا کے طور پر قانونی چارہ جوئی میں الجھانا ہے۔
2018تا 2019کے دوران فریڈم نیٹ ورک نے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت سمیت پورے پاکستان میں صحافیوں کے خلاف کم از کم 17 قانونی مقدمات کا پتہ لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جن کے لئے نیٹ ورک قانونی نقول سمیت مکمل اعداد و شمار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ان کے خلاف درج ایف آئی آرز اور ٹرائلز کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے اعداد و شمار کے تجزیے اور قانونی فریم ورک اور طریقہ کار کے متعلق ہونے والی پیشرفت کی تفصیلات سے پاکستان کے قانونی نظام میں حیران کن بصیرت اور ان کی صحافت کے کام سے متعلق ظلم و ستم کا شکار بیشتر صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکامی کا پتہ چلتا ہے۔
ثبات سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد میں مقیم ایک وکیل اور پبلک پالیسی کے محقق محمد آفتاب عالم نے میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران دھمکی دینے والے اداکار مستقل طور پر تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز سے قبل یہ مقامی جرائم پیشہ گروہ اور افراد تھے اور صحافی ان کے متعلق سٹوریز لکھ رہے تھے۔
دھمکی دینے والے اداکار 2002 کے بعد سے بدل گئے، جب طالبان اور کچھ واقعات میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے میڈیا والوں کو دھمکیاں دینا شروع کیں تاکہ ان کی مرضی کی سٹوری کا ور ژ ن اجاگر ہو۔
یہی وجہ ہے کہ وفاق کے زیر انتظام سابقہ قبائلی علاقوں کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں صحافیوں کا کردار صرف خبر یں دینے تک محدود تھا،یا تو وہ عسکریت پسندوں یا فوج کی طرف سے فراہم کردہ اعدادوشمار پر انحصار کرتے تھے۔
عالم نے مزید کہا کہ دھمکیاں دینے والے اداکار ایک بار پھر 2018 میں تبدیل ہوگئے جب ریاست نے غیر اعلانیہ اور غیر معمولی سینسرشپ کی پالیسیوں کے تحت بعض دباؤ کے ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں پر ظلم شروع کیا۔

Category: پاکستان پہلا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے