مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کی عدم قبولیت
بچوں کے حقوق کے کنونشنز عملی جامہ نہیں پہن سکے
دسمبر 17, 2020
وہ چرچ جہاں خواجہ سرا عبادت کے لئے آتے ہیں، لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو تبدیل کر نے لگا ہے
دسمبر 19, 2020

مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کی عدم قبولیت

فاطمہ برکی جنہوں نے بچپن میں ہی ایک حادثے کے بعد اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وہیل چیئر پر گزارا، حیرت زدہ ہے کہ آخر پاکستان میں معذور افراد کے بین الاقوامی دن کو باقاعدگی سے منانے کا کیا مقصد ہے جب ہمیں عام انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔

پچھلے 20 سالوں میں، میں نے اپنے ارد گرد دنیا کو بدلتے دیکھا ہے لیکن ذہنیت اب بھی پہلے جیسی ہے۔ اوکاڑہ کے رہائشی نے بتایا کہ لوگ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ میں مختلف صلاحیتوں کا حامل فرد ہوں اور میری ضرورتیں بھی کسی دوسرے شخص کی طرح ہیں۔

3دسمبر 2020 کو قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب میں معذور افراد (پی ڈبلیو ڈیز) کی فلاح و بہبود کے لئے طویل مدتی اصلاحات لانے کے لئے پالیسی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ان افرادکو معاشرے کا ایک قابل عمل اور نتیجہ خیز حصہ بنانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہے۔ صحت اور خصوصی افراد کی تعلیم پر توجہ دینے سے قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ معذور افراد سے متعلق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تمام پالیسی اقدامات تجویز کرے۔

حکومت کے پاس نہ صرف صحت، تعلیم اور پی ڈبلیو ڈیز کی معاشی ترقی کے حوالے سے بہت ساری تدبیریں ہیں بلکہ اسے شمولیت پر مبنی ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لئے بھی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے جو مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو تر ک نہ کرے۔ پی ڈبلیو ڈیز کے حوالے سے پورے بیانیے اور معاشرے میں ان کی قبولیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

2017کی مردم شماری کے عارضی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی 207.774 ملین ریکارڈ کی گئی۔ چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ کے مطابق 1998 میں مردم شماری کے بعد سے صرف ایک لاکھ معذور افراد کو پاکستان کے بیورو آف شماریات کے ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا۔ حقوق کے سرگرم کارکنوں کی طرف سے ان اعدادوشمار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب تک کہ پی ڈبلیو ڈیز کو عددی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، ان کی ایسی صورتِ حال جاری رہے گی۔

ثبات سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں بصارت کے مسئلے سے دوچار افراد کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم انکلوسیو پاکستان کے بانی عدنان احمد نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ان تمام سالوں میں ہم لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل نہیں کرسکے۔ یہ بیانیہ کہ ہم پی ڈبلیو ڈیز ان لوگوں سے مختلف ہیں جو بغیر کسی تعاون کے دیکھ، سن، سوچ سکتے ہیں یا آگے بڑھ سکتے ہیں، تبدیل کرنا پڑے گا۔ مجھے ایک ایسے خاندان میں پیدا ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو میری ضروریات کو سمجھتا تھا اور اس نے میری تعلیم مکمل کروائی لیکن سب کی ایسی قسمت نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو پی ڈبلیو ڈیز کو ان کے خاندان کے ماضی کے اعمال کی بناء پر اس پر خدا کی طرف سے سزا سمجھنا چھوڑ دینا چاہئے۔ احمد کی طرح ان کی اہلیہ فضا بھی بصارت کے مسئلے سے دو چار ہے لیکن صحت کے ایک مخصوص مسئلے کی وجہ سے بعد میں اس کی بینائی کھو گئی اور اس صدمے سے نکلنے میں اسے ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگا۔ تاہم آج وہ باورچی اور میک اپ ٹرینر کی حیثیت سے مصروف ہیں جو بصارت کے مسئلے سے دو چار افراد کو یہ سکھا رہی ہے کہ دیگر حواس کو استعمال کرتے ہوئے عا م زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے۔

ایک اور پہلو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ معذور خواتین کے ساتھ مردوں سے مختلف سلوک کیا جاتا ہے کیونکہ مرد نسبتاً آسانی سے اندر باہر آ جا سکتے ہیں جبکہ عورتوں کو بہت سی سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ کسی عورت کے مقابلے میں بصارت کے مسئلے سے دوچار مرد کو آسانی سے سڑک پار کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔

پی ڈبلیو ڈیز کے حقوق کی سرگرم کارکن شازیہ خان نے کہا کہ مردوں کے مقابلہ میں خواتین کو زیادہ تکلیف اٹھانا پڑتی ہے: انھیں میچ ڈھونڈنے میں سخت مشکل پیش آتی ہے اور ان کی صحت کے امور کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، خاص طور پر وہیل چیئر سے منسلک خواتین کے لئے۔

فیڈرل انفارمیشن کمشنر زاہد عبد اللہ جو ‘ ڈس ایبل بائی سوسائٹی’ اور ‘ دی وائز مین’ کے مصنف ہیں، دو دہائیوں سے بطور ٹرینر، ریسورس پرسن اور محقق معذوروں کے حقوق کی تحریکوں پر کام کر رہے ہیں۔ ثبات سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، حکومت پی ڈبلیو ڈیز کی ضروریات کو تسلیم کرنے کے لئے آہستہ آہستہ ترقی کر رہی ہے، جیسے ہیلتھ کارڈز فراہم کرکے اور وزیر اعظم نے حالیہ اعلان میں پی ڈبلیو ڈیز کو 2 ہزار روپے فی کس نقد گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔

ہمارے عوامی مقامات، تعلیمی اداروں اور دفاتر کو پی ڈبلیو ڈیز کی ضروریات کو تسلیم کرنے اور مرکزی دھارے میں شامل ہونے میں ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر وہ معاشرے کا الگ طبقہ ہی رہیں گے۔ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ پڑھ لکھ سکتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں کتنے لوگوں کو ایسی سہولیات تک رسائی حاصل ہے،  عبد اللہ نے حیرت سے کہا۔

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ پی ڈبلیو ڈیز اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچ پاتے لیکن بہت سارے لوگوں نے اسے غلط ثابت کیا ہے۔ آج کی ٹیکنالوجی کو اچھے طریقے سے استعمال کرنے والی دنیا میں، حسن علی جیسے لوگ موجود ہیں، جو سماعت کے مسئلے باوجو د وی لاگر اور ٹی وی پروگرام ‘اشاروں کی زبان’ کے میزبان ہیں اور ایم کے انور جو پیدائش کے وقت سے ریٹنائٹس پگمنٹوسا میں مبتلا ہونے کے باوجود ریپ گانے گاتا ہے، اس کا اپنا یوٹیوب چینل ہے اور اس نے دو میوزک ویڈیو ز بھی لانچ کی ہیں۔ انور نے بتایا کہ،

"ابتدا میں مجھے بتایا گیا تھا کہ عمر کے ساتھ ہی مجھے اپنی نظر واپس مل جائے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوا یہ بدستور خراب ہوتی چلی گئی اور آج میں بمشکل ہی دیکھ سکتا ہوں۔ میں نے یہ سوچ کر اپنی زندگی کا منصوبہ بنایا تھا کہ جب کبھی مجھے اپنی نظر واپس ملے گی تو میں اپنے خواب پورے کروں گا۔ لیکن اب بھی میں اس حالت میں اپنے خوابوں کی پیروی کروں گا اور امید ہے کہ میں جلد ہی اپنا میوزک البم جاری کروں گا۔ ایک دن میں ایک ایسا پلیٹ فارم بناؤں گا جو تمام پی ڈبلیو ڈیزکو صلاحیتوں کے ساتھ جگہ دے گا۔”

Category: پاکستان دوسرا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے