مذہبی مقامات کی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے حیثیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے
خیبر پختونخوامیں مذہبی سیاحت شروع ہونے کو ہے
مارچ 3, 2021
سالوں سے خواتین کی تقدیریں بدل رہی ہیں 25
مارچ 3, 2021

مذہبی مقامات کی آثارِ قدیمہ کے حوالے سے حیثیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے

1947میں ہندوستان ہجرت کر جا نے والے ہندوؤں اور سکھوں کے مندروں اور جائیدادوں کی دیکھ بھال کے لئے متروکہ وقف املاک بورڈ(ایو ا کیوای ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ۔ای ٹی پی بی) کو جو ذمہ داری سونپی گئی تھی وہ پاکستان میں صدیوں پرانے تاریخی مقامات کے لئے بہت بڑا نقصان ثابت ہوئی۔
یہاں خصوصاً ہندوؤں کے ہزاروں مذہبی مقامات جنہیں محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کیا جانا چاہئے تھا تاکہ وہ محفوظ یادگاروں کی حیثیت سے بین الاقوامی رہنما خطوط کے مطابق محفوظ رہ سکتے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے خیبر پختونخوا (کے پی) کے محکمہ آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے ایک عہدیدار نے اعتراف کیا کہ برطانوی دور کے دوران صوبے میں مذہبی اقلیتوں کے 3000 سے زائد رہائشی اور عبادت گاہوں کا اندراج کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہندوستان سے آنے والے بے گھر لوگوں کو ہندو اور سکھ اقلیتوں کی جگہوں پر رہنے کے خلاف نہیں ہیں لیکن تاریخی لحاظ سے اہم مقامات کو محکمہ آثار قدیمہ کے تحت رکھا جانا چاہئے تھا تاکہ ان کے مناسب تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
پچھلے کئی سالوں میں متعدد ہندو مندر جنہیں مسلمانوں کو کرائے پر دیا گیا تھا، کو کاروباری مقامات میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیرہ اسمٰعیل خان کے کالی باڑ ی کے علاقے میں گرو ر بھگوان کے کشادہ مندر کو ہوٹل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
ہندو برادری کے حقوق کے کارکن ہارون سر ا ب دیال نے کہا کہ ایک زمانے میں کے پی بدھ اور ہندو تہذیبوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہاں صرف 22 آپریشنل ہندو مندر ہیں۔ ان میں سے چار مندر صدیوں پرانے ہیں، تین پشاور میں اور ایک مانسہرہ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی 18 بھی تقسیم ِہند سے پہلے تعمیر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صوبے بھر میں تاریخی مذہبی مقامات ہیں لیکن بدقسمتی سے سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر زمین پر قبضہ کرنے والوں نے ان پر قبضہ کرلیا ہے۔
اسی طرح بنوں میں اب ایک ہندو مندر میں مٹھائی کی دکان ہے۔ تیری، ضلع کرک، جہاں حال ہی میں ایک ہندوؤں کی سمادھی کی توڑ پھوڑ کی گئی،یہاں کل پانچ مندر تھے۔ ان میں سے ایک گورنمنٹ کے زیرِ انتظام سکول اور دوسرا ڈاکخانے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح کوہاٹ میں شہر کے مندر کوسکول میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پشاور میں ہندوؤں کے مقدس مقامات پنج تیرتھ اور گورکھ ڈگی کو پارکوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ پشاور کے اسامائی گیٹ میں پانچ مندروں کا احاطہ کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو کرایے پر دے دیا گیا ہے۔
دیال نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو تجارتی جگہوں میں تبدیل کرنے کے طریق کار پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دیال نے کہا کہ قانون میں درج کیا گیا ہے کہ عبادت کے لئے مخصوص جگہوں کے علاوہ دیگر جگہیں کرایے پر دی جاسکتی ہیں۔
کسی مذہبی مقام کے احاطے میں موجود ان جگہوں کو ملحقہ جائیدادیں کہا جاتا ہے۔ پہلے ان ملحقہ جائیدادوں کو لیز پر دیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ عبادت گاہ کے ڈھانچے کو گرا کر تجاوز کیا جاتا ہے اور آخرکار اسے تجارتی مقام میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان ایڈمنسٹریشن آف ایواکیو ای پراپرٹی ایکٹ 1957 کی دفعہ 31 واضح طور پر کہتی ہے کہ کوئی بھی شخص جو جان بوجھ کر کسی بھی متروکہ املاک کو غیر قانونی طور پر نقصان پہنچا ئے یا اس کی اجازت دے یا اس کو اپنے استعمال میں ناجائز طور پر تبدیل کرے تو ایسا عمل قابلِ سزا ہے، جس کی سزا تین سال قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
کے پی آثار قدیمہ اور میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد الصمد اعتراف کرتے ہیں کہ اس صوبے میں ہندو اور سکھ مذہب کے تین سے چار ہزار مقامات ہیں جو جو ہزاروں سال پرانے ہیں۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس ان آثار قدیمہ کے لحاظ سے اہم مقامات کو محفوظ رکھنے کے لئے ناکافی فنڈز ہیں۔
تاہم ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب ہم اس طرح کے خطرات سے آگاہ ہوں تو مقامی انتظامیہ کو شامل کرکے اسے منہدم ہونے یا کسی قسم کے نقصان سے بچایا جائے۔

Category: چھٹا کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے