مزدور وں کے حقوق کے لئے تین دہائیوں سے جاری جدو جہد
اقلیتی صحافی بہت بڑے خطر ات میں کام کررہے ہیں
فروری 15, 2021
مسیحی افراد کی شادی سے متعلقہ قوانین میں ترامیم لانے کے لئے کوششیں جاری ہیں
مارچ 3, 2021

مزدور وں کے حقوق کے لئے تین دہائیوں سے جاری جدو جہد

73سال کی عمر میں سراج العابدین کی انسانی حقوق کے لئے جدوجہد، خاص طور پر مزدوروں اور صحافیوں کے حقوق کے لئے، اس میں ذرا بھی کمی نہیں آئی۔پچھلے 30 سالوں سے روزنامہ جسارت سے وابستہ اور مزدوروں کے مسائل پر وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کرتے ہوئے، عابدین نے ثبات سے اپنے کام اور دہائیوں کے سفر کے بارے میں بات کی۔
1948میں ہندوستان کے علاقے علی گڑھ میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والد کی وفات کے بعد 1964 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ انہوں نے جناح پولی ٹیک کراچی سے مکینیکل ٹیکنا لوجی میں ڈپلوما مکمل کرکے 1971 میں تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد وہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں شامل ہوگئے۔
اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں جنہیں قاضی سراج کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ سول اور فوجی حکومتوں دونوں سے مزدوروں اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہ کرنے پر تنقید کرتے ہیں اور جب انہوں نے حکومتی پالیسیوں پراحتجاج کیا تو ان کے مسائل کے حل کی بجائے ان کی یونینوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ اپنی جدوجہد کے دوران عابدین کو اپنی زندگی کے متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں مزدور احتجاج کی کوریج کے دوران کراچی کے آرٹلری میدان پولیس سٹیشن میں انہیں بند کر دینا شامل ہے۔
سرکاری اور نجی شعبوں میں مزدور قوانین کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ صنعتکار اپنی فیکٹریوں میں مزدوروں کی بھرتی کرتے ہیں اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ مزدوروں کو مستقل ملازمین کے طور پر بھی شامل نہیں کیا جاتا تاکہ ان کو حقوق کی فراہمی سے محروم رکھا جا سکے۔ اسی طرح بہت کم کمپنیاں اپنے کارکنوں کو ریاستی منظور شدہ کم سے کم اجرت 17500 ماہوار دیتی ہیں، انہوں نے اس مسئلے پر نہایت افسوس کا اظہار کیا۔
مزید یہ کہ عابدین نے یہ شکایت کی کہ مزدوروں کے قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق اگر دہائیوں نہیں تو سالوں عدالتوں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کے لئے ذمہ دار اداروں کی سخت کمی ہے۔
عابدین جانتے ہیں کہ منزل ابھی بہت دور ہے لیکن انہوں نے اپنی آخری سانس تک لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ ایک ورکنگ جرنلسٹ کی حیثیت سے، وہ ہمیشہ مزدور یونینوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر صحافیوں کی یونینوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ مزدوروں کے مسائل کی میڈیا کوریج انتہائی کم ہوتی ہے۔

Category: پاکستان نو |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے