مسیحی افراد کی شادی سے متعلقہ قوانین میں ترامیم لانے کے لئے کوششیں جاری ہیں
مزدور وں کے حقوق کے لئے تین دہائیوں سے جاری جدو جہد
مارچ 3, 2021
اسقاطِ حمل کے نتائج
مارچ 3, 2021

مسیحی افراد کی شادی سے متعلقہ قوانین میں ترامیم لانے کے لئے کوششیں جاری ہیں

مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کا ایک گروہ کرسچن پرسنل لاز میں ترامیم کی حمایت کے لئے طلاق، بحالی اور تشدد کے معاملات کو بہتر انداز میں سلجھانے میں مصروفِ عمل ہے۔
ایک 24 رکنی نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (این ایل ڈی)، جس کے سات ممبر سندھ سے ہیں، وہ سندھ اسمبلی سے ایک ایسا قانون پاس کروانے کے لئے کام کر رہا ہے جو مسیحی افراد کی شادیوں سے متعلق امور کو سول قوانین کے مطابق ضابطے میں لانے کے لئے کام کرے گا۔ اس وفد کا مقصد قومی اسمبلی میں رکے ہوئے مسیحی افراد کی شادی کے قانون کو منظور کرنے کے لئے لابی کرنا بھی ہے۔
تاہم مسیحی مذہبی حلقوں کے نقطہ نظر سے یہ ان کی مذہبی تعلیمات سے متصادم ہوگا۔
بظاہر اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب امین مسیح نے کچھ سال قبل لاہور ہائیکورٹ میں استدعا کی تھی کہ وہ اس کی شادی کو خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کرے اور اس کی شریک حیات پر بد کاری کا الزام نہ لگایا جائے جو کہ طلاق دینے کی واحد شر ط ہے۔ امین مسیح کرسچن ڈیورس ایکٹ 1869 کی دفعہ 7 کے دائرہ اختیار کے تحت مسئلے کا حل چاہتا تھا جس کے مطابق ایک مسیحی شخص بدکاری جیسے سنگین الزامات لگائے بغیر بھی اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ کیتھولک چرچ کسی بھی حالت میں طلاق کو تسلیم نہیں کرتا اور برصغیر میں برطانوی راج کے دوران نافذ کردہ مذکورہ قانون کی دفعات کو قبول نہیں کرتا۔ 1869 کے قانون کی دفعہ 7 کو فیڈرل لاز آرڈیننس 1981 کے ذریعے خارج کردیا گیا تھا لیکن 2016 میں امین مسیح کے کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے اس کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ مسیحی مذہبی حلقوں نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جو کہ آج تک حل نہیں ہوا۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے این ایل ڈی کے ان سات ممبروں میں سے ایک ڈاکٹر صابر مائیکل کے مطابق مسیحیوں کے لئے شادی کا قانون نہ ہونے کی صورت میں طلاق کے معاملات کو حل کرنے کے لئے قانونی لحاظ سے کوئی معقول حوالہ دستیاب نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح کے حالات خواتین پر منفی اثر ڈال رہے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریاست کی مداخلت کی ضرورت ہے۔
قمر اقبال جو 2012 تک پنجاب میں وکالت کرتے رہے، اس وقت محکمہ تعلیم میں کام کر رہے ہیں،وہ صابر کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک شادی ایک سماجی معاہدہ(سوشل کنٹریکٹ) ہے جس میں طلاق کے حصول کی بنیاد بنانے کے لئے بدکاری کے علاوہ متعدد وجوہات کو شامل کرنا چاہئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ایک مسیحی بننے سے پہلے انسان بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے معاملات میں خواتین تکلیف کا شکار رہتی ہیں لیکن ان کے اہل خانہ انہیں بتاتے رہتے ہیں کہ درپیش مشکلات سے قطع نظر وہ مصلحت پسندی کا مظاہرہ کریں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ 1869 کے قانون کی دفعہ 7 کی بحالی یا اس کی مکمل نظر ثانی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری بنیادوں پر، جیسے مسلمانوں میں طلاق کا اختیار، شوہر اور اس کی شریک حیات دونوں کے لئے دستیاب ہونا چاہئے۔
کرسچن میرج اینڈ ڈیورس بل 2019 کا مسودہ وفاقی حکومت نے منظور کیا تھا لیکن ابھی پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا باقی ہے۔ اگر یہ منظور ہوجاتا ہے تو یہ کرسچن ڈیورس ایکٹ 1869 اور کرسچن میرج ایکٹ 1872 کی جگہ لے لے گا۔
مسیحی برادری ملک کی تقریباًپانچ فیصد آبادی ہے اور ایک صدی سے بھی زیادہ پرانے قوانین پوری برادری کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کمیونٹی کے بہت سے اراکین کو لگتا ہے کہ انہیں عہدِ حاضر کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
صابر مائیکل نے بتایا کہ اس انتہائی قدیم ترین قانون کی حدود کی وجہ سے ایسی مثالیں موجود ہیں کہ مسیحی جوڑے صرف علیحدگی کے لئے اسلام قبول کرچکے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے شادی کرلیتے ہیں۔ انہوں نے 1872 کے قانون کے تحت دیگر ناقابل عمل شرائط کی نشاندہی کی جیسے شادیوں کو غروب آفتاب سے قبل ہونا چاہئے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ وہ شادی بیاہ کے لئے کم سے کم عمر کی حد بڑھا کر 18 سال کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
حیدرآباد (چرچ آف پاکستان) ڈائسس کے بشپ، ریورنڈ کلیم جان نے کہا کہ 1869 کا قانون مسیحیت کی تعلیمات کے مطابق ہے جس میں بدکاری ہی طلاق کی واحد بنیاد ہوسکتی ہے اور کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں ہی اس پر عمل پیرا ہیں۔

Category: پاکستان چوتھا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے