مسیحی اور ہندو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے مسائل ایک الگ طریقے سے حل کئے جائیں
وہ چرچ جہاں خواجہ سرا عبادت کے لئے آتے ہیں، لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو تبدیل کر نے لگا ہے
دسمبر 19, 2020
ستیش آنند نے پاکستانی سنیما کو زندہ رکھا ہے
جنوری 3, 2021

مسیحی اور ہندو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے مسائل ایک الگ طریقے سے حل کئے جائیں

30نومبر 2020 کو محکمہ قانون قانون و پارلیمانی امور نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں تمام سرکاری ریکارڈ، دستاویزات، اور خط و کتابت میں مسیحی برادری کو ”عیسائی” کی بجائے ”مسیحی” کے نام سے لکھنے اور پکارنے کے متعلق اقدامات کی ہدایت کی گئی۔
مسیحیوں کو اردو یا دیگر مقامی زبانوں میں اس طرح مخاطب کرنا، پاکستان میں اس کمیونٹی کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس سلسلے میں واضح احکامات جاری کردیئے ہیں لیکن لفظ ” عیسائی” اب بھی سرکاری طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اقلیتوں کے حقوق کے کارکنوں نے اس معاملے کو اٹھا یا اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں مذکورہ بالا حکم ملا۔
اس حکم کے اجرا سے ٹھیک 20 دن قبل ملک کی والمیکی برادری، جن کو با لحاظ مذہب ہندو سمجھا جاتا ہے،ان کے رہنما پنجاب کے شہر بہاولنگر میں جمع ہوئے اور اپنی الگ شناخت حاصل کرنے کے لئے جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ہندوؤں یا سناتن دھرمیوں سے الگ کردیا اور پاکستان میں ادی دھرم کے پیروکار کے طور پر اپنے اندراج کا مطالبہ کیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ذات کے خانے میں والمیکی کے طور پر ان کا اندراج ہو۔
اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفتوں میں مذہبی گروہ کی خواہشات کے مطابق حوالہ دئیے جانے کے حق کی نشاندہی ہوتی ہے، جس کی ضمانت ملک کے قوانین کے مطابق ہے۔
سپریم کورٹ کے 2014 کے اہم فیصلے میں، جس میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے متعدد اقدامات مرتب کیے گئے تھے، کہا کہ ہر شہری اپنے مذہبی نظریے کے مروجہ یا غالب نظریات کے خلاف بھی، اپنے مذہبی نظریات کا اعتراف کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تشہیر کرنے کے حق کا استعمال کرسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں نہ تو اکثریتی مذہبی فرقہ اور نہ ہی اقلیت کا مذہبی فرقہ شہری پر اپنی مذہبی خواہش مسلط کرسکتا ہے۔
عیسائی-مسیحی
اقلیتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے امپلی مینٹیشن مائنارٹی رائٹس فورم کے چیئرمین سیموئل پیارا نے بتایا کہ عدالت عظمی نے مئی 2018 میں اس مسئلے کے سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل نے ستمبر 2009 میں منظوری دے دی تھی کہ مسیحی برادری کے افراد کو ” مسیحی” کے طور پر مخاطب کیا جائے نہ کہ” عیسائی” کے طور پر۔ اس فیصلے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر منظور کیا تھا۔
تاہم، پیارا نے نشاندہی کی کہ تقریباً ایک دہائی گزر جانے کے باوجود، پورے ملک میں اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ مثال کے طور پرنادرا، متعدد درسی کتب بورڈز، اور متعدد سرکاری محکموں نے ان احکامات کی تعمیل کی ہے لیکن یہ الفاظ اب بھی پولیس، محکمہ محصول اور محکمہ اطلاعات کی جانب سے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس حکم کی تعمیل پنجاب میں سب سے کمزور ہے۔
مطالبے کی بنیاد کی وضاحت کرتے ہوئے، پاکستان مائنارٹیز ٹیچرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین انجم جیمز پال نے زور دے کر کہا کہ مسیحی اس حوالے سے بائبل کا حوالہ چاہتے یعنی جس طرح بائبل میں ان کو پکارا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیو ٹیسٹامنٹ میں لفظ ‘مسیحا’ استعمال ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ مسیحی کے نام سے پکارے جانا چاہتے ہیں۔ پال نے 2008 میں بھی دھمکیوں اور مزاحمت کی مثالوں کو یاد کیا جب انہوں نے ملک کے میڈیا کو یہ لفظ تبدیل کرانے کی کوشش کی کیونکہ اس پر عیسائی لکھا اور پکارا جا رہا تھا۔
تاہم، سنٹر فار سوشل جسٹس اینڈ پیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے کہا کہ کسی طرح مسیحیوں کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ عیسائی ان کے حوالے کے لئے صحیح اصطلاح نہیں ہے اور اسے توہین اور امتیازی سلوک ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کا مقابلہ کیا کہ پاکستان کے مسیحی عشروں سے اپنے علاقوں کو ’عیسیٰ نگری‘ جیسے نام دیتے رہے ہیں۔
یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ نام کی تبدیلی ایک اچھی چیز ہوگی، بدقسمتی سے، اس سے برادری کی زندگیوں میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اچھوت، شیڈولڈ کاسٹ بنے، ہریجن اور آخر میں دلت بن گئے لیکن ان کی زندگی غربت اور بدحالی کے لامتناہی چکروں میں گھوم رہی ہے۔
ہندو-والمیکی
اسی طرح اقلیتی گروہ کے ایک بہت بڑے حصّے کو ہندوؤں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، یہ بھی ذاتوں کی بنیاد پر اس میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ امر ناتھ رندھاوا، چیئرمین ادی دھرم سماج سیوا، پنجاب، نے کہا کہ وہ والمیکیوں کا ایک حصہ ہیں جو ادی دھرم کی پیروی کرتے ہیں جو ایک خدا – پر متماکو مانتے ہیں اور رام کی طرح دوسروں کو بھی خدا کا پیغمبر مانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایک الگ مذہب ہے اور ہمیں ہندو نہیں کہا جانا چاہئے۔
لفظ کی جڑوں پر بات کرتے ہوئے رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ لفظ ’ہندو‘ نوعیت میں جغرافیائی ہے اور آر یاؤں نے اُن لوگوں کو یہ نام دیا تھا جو ہندگھاٹی (ہند پہاڑ) کے آس پاس آباد ہوئے تھے – یہ نام لفظ سندھ سے متاثر ہے۔ اس سے قبل رندھاوا خود ہندوؤں کو سناتن دھرمی ”ابدی حکم” کے طور پر حوالہ دینے کی وکالت کرتے رہے تھے، انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ یہ اس مذہب کا اصل نام تھا جو بعد میں جغرافیائی بنیادوں پر تبدیل کردیا گیا۔
پاکستان میں ایک ملین کے لگ بھگ والمیکی ہیں جو خود کو اونچی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ منسلک نہیں کرتے،جو اپنے آپ کو سناتن دھرمی سمجھتے ہیں، رندھاوا نے دعویٰ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ادی دھرم کے پیروکار اور با لحاظ ذات والمیکی کے طور پر اپنا اندراج چاہتے ہیں۔ اپنی تعریف کے مطابق، ادی دھرم محروموں کی ایک سماجی، ثقافتی، روحانی اور تعلیمی تحریک ہے جو آریاؤں کی آمد سے قبل بھارت(ہندوستان) کے حکمران تھے۔
اسی طرح پاک دھرم استان کمیٹی کے سیالکوٹ میں مقیم سر براہ منگت رام شرما ہندومت کے لئے لفظ سناتن دھرم کے استعمال کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی برادری میں اس مسئلے کے بارے میں آگاہی مہم چل رہی ہے اور اس کی تکمیل اور زیادہ افراد کی شمولیت کے بعد وہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حکومت سے مطالبہ کریں گے۔
وزارت برائے انسانی حقوق، اقلیتی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ڈپٹی سیکریٹری محمد یوسف نے بتایا کہ مسیحی برادری کے لئے ان کی درخواست پر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جبکہ والمیکی برادری کے لئے اسی طرح کے مطالبے پر ایک مرتبہ دستاویزی شواہد کے ساتھ سرکاری طور پر پیش کیے جانے پر اس کاجائزہ لیا جائے گا۔
رندھاوا نے بیان کیا کہ ان کے لئے ہندوؤں کے ٹیگ سے جان چھڑانا بھی ضروری ہے کیوں کہ پاکستانی جو ان کی شناخت ہندو کے طور پر کرتے ہیں، اکثر انہیں ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں پر دائیں بازو کے ہندوہجوم کی جانب سے ہونے والی غلطیوں اور زیادتیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی سوچ ان کے مذہب کے تمام ذیلی گروہوں میں عام ہے۔

Category: پاکستان پہلا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے