وادی کیلاش میں رہنے والوں کو خاموش معدومیت کا سامنا ہے
عوامی مقامات پر ہندو خواتین کی مشکلات
دسمبر 17, 2020
المیے کو اچھائی کی قوت میں بدلتے ہوئے
جنوری 3, 2021

وادی کیلاش میں رہنے والوں کو خاموش معدومیت کا سامنا ہے

پوری دنیا ہماری طرف دیکھتی ہے اور ایک تہذیب کا منفرد خزانہ دیکھتی ہے لیکن یہاں گھر میں ہمیں روزانہ خاموش معدومیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ بات خیبر پختونخوا کے چترال کے دور دراز علاقے وادی رمبر کے ایک بزرگ بارازنگی کیلاشا نے کہی۔
کیلاش برادری کے تاریخی اور آبائی تعلق کے بارے میں متعدد افسانے پائے جاتے ہیں جو ہندوکش کے مرکز میں اس دور دراز کی سرزمین پہ آباد ہیں۔ کچھ مورخین کیلاش کو یونانی باقیات کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ دیگر کہتے ہیں کہ یہ تاجک نسل کے ہیں یا ان کا تعلق آریاؤں سے ہے۔ اسلامی اور مسیحی مذہبی و ثقافتی اثرات سے مکمل طور پر ان کا جدا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے میں ان کا وجود ان دونوں مذاہب کی آمد سے بھی قبل کا ہے۔ اسی طرح یہ ہندو اور بدھ مت کی ثقافتوں سے بھی الگ ہیں، اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ دنیا کے اس حصے میں آئے تھے۔ شاید ان کے آباؤ اجداد کو اپنی جان کے خوف سے اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور انہوں نے ہندوکش کی گہری گھاٹیوں میں خود کو یہاں چھپا لیا۔
یہ تھوڑی سے کیلاش برادری تقریباًایک ہزار سال تک بیرونی دنیا سے پوشیدہ رہی اور ہونے والی ترقی کے نتیجے میں ان کی کمزوری اور بڑھوتری کی راہیں بھی بڑھ گئیں۔اگرچہ تین کیلاش وادیوں – بومبوریٹ، رمبر اور بیریر کو پاکستان کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی سڑکیں اب بھی اچھی حالت میں نہیں ہیں، تاہم ان علاقوں میں ترقی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ کیلاش مرد بیرون ملک خاص طور پر یونان جہاں یہ بڑی تعداد میں ملازمتیں کرتے ہیں، سے بھیجے جانے والے پیسوں سے وہاں سکولوں، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر ہوئی ہے جس سے مقامی آبادی کے حالات زندگی بہتر ہو رہے ہیں۔
تینوں وادیوں میں کمیونٹی کے کچھ افراد کے مطابق سرکاری اور غیرسرکاری کوششوں کی وجہ سے کیلاش نوکریاں ڈھونڈنے اور معاش کمانے کے معاملے میں اب پہلے سے کہیں بہتر مواقع حاصل کررہے ہیں۔ مقامی لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اسی طرح کیلاش خواتین کی زندگی بھی زیادہ دوستانہ بھاشلنوں کی فراہمی کے ساتھ بہتر ہوگئی ہے – یہ خواتین کو ماہواری کے دوران رہنے کے لئے اور بچے کی پیدائش کے لئے یہ محفوظ مقامات ہیں۔
ایک کیلاش لڑکی نے کہا کہ اب وہ غریب نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس چھوٹے کاروبار یا سرکاری ملازمت کی شکل میں مواقع ہیں۔اس نے مزید کہا کہ اس ترقی کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ مقامی لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر دوسرا فرد جو تعلیم یافتہ کیلاش نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے،وہ مبلغ بن جاتا ہے اور لڑکوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نوجوان لڑکیوں سے شادی کرنے اور اس طرح مذہب تبدیل کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے۔ لہٰذا پہلے ہی سے چھوٹی کمیونٹی کی تعداد میں کمی آتی جارہی ہے، کیلاشوں کی کل تعداد اب3800 رہ گئی ہے۔
اگرچہ کیلاش کہتے ہیں کہ مقامی مسلمان ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور وادیوں میں مذہبی ہم آہنگی ہے لیکن مسئلہ بیرونی لوگوں کا ہے جو یا تو یہاں تشریف لاتے ہیں یا پھر نئے سرے سے آباد ہوتے ہیں اور پھر مذہب بدلنے کی ترغیب دینا شروع کردیتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے متعدد واقعات بیان کئے جہاں اس طرح کا دباؤ ان کے نوجوانوں پر ڈالا گیا خاص کر ان پر جو ملک کے دوسرے حصوں میں ملازمت یا تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
تبدیلی مذہب اور کچھ جگہوں پر چوری کے واقعات کے علاوہ کیلاش پاکستان میں کہیں سے بھی دشمنی محسوس نہیں کرتے۔ تاہم افغانستان کے سرحدی صوبے نورستان سے مسلح افراد کی طرف سے متعدد حملوں اور مویشیوں کی چوری، مقامی لوگوں کے لئے شدید تشویش کا باعث ہے اور اس پر سنجیدہ توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
شفقت عزیز ایک آزاد تجزیہ کار ہیں جو اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اس ای میل ایڈریس کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Category: تیسرے کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے