وہ چرچ جہاں خواجہ سرا عبادت کے لئے آتے ہیں، لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو تبدیل کر نے لگا ہے
مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کی عدم قبولیت
دسمبر 19, 2020
مسیحی اور ہندو خواہش کرتے ہیں کہ ان کے مسائل ایک الگ طریقے سے حل کئے جائیں
دسمبر 28, 2020

وہ چرچ جہاں خواجہ سرا عبادت کے لئے آتے ہیں، لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو تبدیل کر نے لگا ہے

اس سال کے اوائل میں کراچی میں ہولی ٹرینیٹی کیتھیڈرل کے اندر قائم ہونے والا پاکستان کا پہلا چرچ آف یونکس، ہر جمعہ کو مسیحی خواجہ سراؤں کا خیر مقدم کرتا ہے۔

پادری غزالہ شفیق جس نے اپنے گھر کے ساتھ ہی عارضی چرچ کی بنیاد رکھی اور چلایا، نے ثبات کو بتایا کہ مسیحی خواجہ سرا جاری کرونا وائرس وبا اور اس سے وابستہ خوف اور مایوسی کے دوران مذہب کی طرف زیادہ مائل ہو گئے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گرجا گھروں میں ان کامختلف ہونے پر خیر مقدم نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ چرچ آف پاکستان کی ایک ممبر غزالہ نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا اور ایک منفرد عبادت گاہ کا قیام عمل میں لے آئیں تاکہ وہ اس وبا کے دوران کچھ سکون حاصل کرسکیں۔ ان کی قائل کرنے کی طاقت اور دعاؤں کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

دوسرے گرجا گھروں نے خواجہ سراؤں کو اگلی صفوں میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔ کچھ انہیں اپنے سر ڈھانپنے کے لئے کہتے تھے جبکہ کچھ اس کے بر عکس کہتے تھے۔ اس طرح کی متضاد ہدایات نے انہیں الجھادیا اور بہت سوں نے گرجا گھروں میں جانا مکمل طور پر بند کر دیا۔غزالہ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ مہران ٹاؤن میں واقع اپنے ہی چرچ میں بھی مسیحی خواجہ سرا عدم اطمینان محسوس کرتے تھے کیونکہ مقامی لوگ جب تشریف لاتے تو وہ انہیں گھورتے اور تبصرے کرتے۔

جب کچھ پادریوں نے چرچ میں خواجہ سراؤں کے آنے پر غزالہ سے اس کے مذہبی مسئلے پر بحث کی تو اس نے انہیں کسی ایسی آیت کے بارے میں گفتگو کے لئے مدعو کیا جس کے بارے میں وہ جانتی تھیں کہ وہ الجھن کا سبب ہے۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اس نے اس مذہبی مسئلے کو حل کیا اور پھر اس عارضی چرچ کا آغاز کیا کیونکہ اگر خدا ان کو پسند کرتا ہے اور قبول کرتا ہے تو اس کے بعد کوئی دوسرا سوال نہیں ہے۔

ایک چرچ کا دورہ کرنے کے لئے مختصر سی شرائط رکھی گئی ہیں جن میں خوفِ خدا اور خدا کے قوانین کو قبول کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ آپ صاف ہیں۔ یہ بھی کہیں ذکر نہیں ہے کہ کیسا لباس پہننا ہے اور کہاں بیٹھنا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ چرچ کے رہنماؤں کے پاس اس کے چرچ پر اعتراض کرنے یا اپنے مذہبی اجتماعوں میں خواجہ سراؤں کا استقبال کرنے کے علاوہ کوئی دلیل نہیں تھی۔

اب ہر اتوار کو غزالہ اپنی جماعت کے ممبروں کو دوسرے گرجا گھروں میں بھی لے جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ بٹھانے اور بائبل پڑھنے اور عبادت کرنے کا کہتی ہے، ایسا کام جس کا وہ پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے،اس نے مزید کہا کہ اب بہت سارے پادریوں کو بھی احساس ہوا ہے کہ وہ ان کے ساتھ یکساں سلوک نہ کرنے اور انہیں نظر انداز کرنے پر غلط تھے حالانکہ خدا کی اپنی کتاب ایسا کچھ نہیں کہتی۔

 

کوئی خیرمقدم نہیں

خواجہ سراؤں کی ایک گرو کرن نے وضاحت کی کہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران جب وہ اپنے گھروں میں محدود تھے تو انہیں بائبل اور مسیح کے بارے میں انٹرنیٹ پر پڑھنے کا وقت ملا۔

تاہم، کرن نے کہا کہ ان کی موجودگی کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے وہ کسی چرچ میں نہیں جاسکتے تھے اور اس طرح وہ ہمیشہ اپنی عبادت کے لئے ایک علیحدہ وقف کردہ جگہ چاہتے تھے۔

اس نے مزید کہا کہ جب چرچ آف یونکس کا آغاز ہوا تو ایسا لگا جیسے ہمیں حقیقی سکون اور خوشی مل گئی ہے۔

آرزو نے یاد دلایا کہ جب بھی وہ ایک عام چرچ میں جاتی تو اسے کہا جاتا کہ وہ آدمی کی طرح کے کپڑے پہن کر آئے۔وہ الجھ گئی کیونکہ جب وہ 12 سال کی تھی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ مرد نہیں ہے۔ اسے میک اپ کرنا اور عورتوں کی طرح کپڑے پہننا اچھا لگنے لگا۔ اس نے شکایت کی کہ چرچ میں اس طرح کی خاص ہدایات کی وجہ سے اس نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔

ا س نے مزید کہا کہ جب مسیح نے اسے ایسا ہونے پر قبول کیا ہے تو اس کے بر عکس سوچنے اور کہنے والے کون ہوتے ہیں؟

صائمہ، جو ایک 34 سالہ ٹرانس وومین ہے، نے زور دے کر کہا کہ وہ کبھی بھی گرجا گھروں کی غنڈہ گردی اور طنز کا نشانہ نہیں بنتی تھی کیوں کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ نمٹنا جانتی ہے۔ لیکن ہر ایک مختلف ہے، اس نے ان لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تمام ہراساں کرنے والوں اور ان کے سوالات سے انتہائی پریشان محسوس ہوئے اور اس طرح گرجا گھر جانے سے گریز کرتے ہیں۔

کرونا وائرس وبا کے دوران اس نے خدا کی محبت اور رحمت میں سکون تلاش کرنے کے بارے میں پڑھا۔ ایسے لوگ ہیں جو ہمارا مذاق اڑاتے ہیں لیکن خدا ہم سے پیار کرتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے بائبل میں ہمارے بارے میں بات کی،اس نے اس بات پر فخر کرتے ہو کہا کہ اس نے شہر کے خواجہ سرا مسیحیوں کو اپنی عبادت گاہ دینے پر پادری غزالہ کا بہت شکریہ ادا کیا۔

 

اگر خدا نے انہیں قبول کیا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں کر سکتے؟

پادری ماریہ سردار، جو آج کل چرچ آف یونکس میں کرسمس کے اجتماع کی مشق کرنے میں مدد کے لئے آتی ہے نے کہا کہ ہم عام طور پر خواجہ سراؤں کو مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کرتے۔

یہ دیکھنا حوصلہ افزا ہے کہ وہ اب اپنے مذہب کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور معاشرے کے دوسرے ممبروں کی طرح اس پر عمل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اب جب وہ بائبل پڑھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوا ہے کہ خدا ان سے بھی محبت کرتا ہے اور ان کے بارے میں مقدس کتاب میں بات کی ہے۔

مسیحی حقوق کی کارکن سفینہ گِل نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارا معاشرہ خواجہ سراؤں کو انسان نہیں سمجھتا اور یہاں تک کہ ان کے اپنے والدین بھی چھوٹے اور کمزور ہونے کے باوجود ان کو ترک کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے دکھوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

گِل نے مزید کہا کہ زیادہ تر واقعات میں خاندان انہیں مختلف ہونے کی وجہ سے گھروں سے نکال دیتا ہے جس کے بعد وہ اپنی نوعیت کے دوسروں کے ساتھ چلے جاتے ہیں اور بسر اوقات کے حیلے تلاش کرتے ہیں۔ چرچ میں آنے والے کچھ خواجہ سرا پہلے سیکس ورکر کے طور پر کام کرتے تھے کیونکہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔

چونکہ چرچ قائم کر دیا گیا ہے، لہٰذا وہ اپنے مذہب کے بارے میں بڑی دلچسپی سے سیکھ رہے ہیں اور روزی کمانے کے متبادل ذرائع ڈھونڈ رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ عارضی چرچ آف یونکس کے لئے اب مزید کیا کرنا ہے تو غزالہ نے کہا کہ وہ اس کے باقاعدہ قیام کے لئے چرچ آف پاکستان کے بشپ سے بات چیت کر رہی ہے۔اس نے خواہش کرتے ہوئے کہا کہ اسے امید ہے کہ گرجا گھر ان خواجہ سراؤں کو قبول کر لیں گے۔

Category: پاکستان پہلا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے