خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بڑے حملے
المیے کو اچھائی کی قوت میں بدلتے ہوئے
جنوری 3, 2021
شاور میں پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ
فروری 15, 2021

خیبر پختونخوا میں اقلیتوں پر بڑے حملے

22ستمبر2013 پشاورکے رہائشیوں کے لئے بالعموم اور اس کے مسیحی رہائشیوں کے بالخصوص ایک خوفناک دن تھااور یہ دن ان کی یادوں پر کندہ ہوا ہے۔اچانک ایک زورداردھماکہ ہوا، یہ دیکھا جا رہاتھاکہ دھماکہ کہاں ہواہے ساتھ ہی دوسرادھماکہ ہوا۔جگہ کا تعین نہیں ہواتھا لیکن آوازجہاں سے آئی تھی اس جانب لوگ دوڑ ے تو پتہ چلاکہ آل سینٹ چرچ پشاور پہ یہ قیامت ٹوٹی تھی۔ہرطرف چیخ وپکار سنائی دے رہی تھی۔اندرجاکردیکھا تولاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ اندازہ نہیں ہورہاتھا کہ کتنے جاں بحق ہوچکے ہیں بس چیخ وپکارتھی۔
محکمہ داخلہ خیبرپختونخواکے مطابق آل سینٹ چرچ کے اندر دو خودکش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو اڑایاتھا۔ اس حملے میں سوسے زائد مسیحی جاں بحق ہوئے تھے کہاجاتاہے کہ یہ خیبرپختونخواکی تاریخ میں اقلیتوں پر سب سے بڑاحملہ تھا جس میں چرچ کے اندر اتوارکے روز مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد مسیحیوں کو نشانہ بنایاگیاتھا۔ از خود نوٹس لیتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ نے بڑے پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ہدایات کیں۔
سات سال گزر جانے کے باوجود آج تک چرچ کی گھڑی کی سوئیاں اس وقت پر اٹکی ہوئی ہیں جب یہ دھماکے ہوئے تھے۔
شاہداقبال جس کے دوبھائی اس حملے میں جاں بحق ہوئے تھے کہتے ہیں کہ آل سینٹ چرچ خودکش حملے میں مسیحیوں کو جتناجانی نقصان اٹھاناپڑاتھاوہ ملکی تاریخ میں کبھی رونمانہیں ہواتھا۔ ویسے اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر خیبر پختونخوا میں یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔
خیبرپختونخواکے محکمہ مذہبی امور کے اعدادوشمارکے مطابق صوبہ بھر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اقلیتوں کی مذہبی عبادت گاہوں پر 200سے زائد حملے ہوچکے ہیں جن میں کچھ مذہبی عبادت گاہوں کو شدیدنقصان بھی پہنچایاگیا۔ ملک بھرمیں منظم طور پر اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں پر سب سے زیادہ حملے 1992میں ہوئے تھے جب بھارت میں بابری مسجد کو منہدم کیاگیا تھا۔
ہندو کمیونٹی لیڈر ہارون سرب دیال کہتے ہیں کہ اس سال ہزاروں مشتعل افراد نے پشاورصدر میں کالی بھاڑی مندرکے گیٹ کو توڑا،اندرداخل ہوئے تو وہاں موجود مورتیوں کو توڑا اور عمارت کو شدیدنقصان پہنچایا۔ تاہم محکمہ داخلہ کی دستاویزات مزیدبتاتی ہیں کہ 1992میں صرف پشاورمیں نہیں نوشہرہ،سوات،مردان،بونیر،بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان،لکی مروت اور دیگرکئی اضلاع میں بھی ہندوبرادری کی مذہبی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایاگیاتھا۔
2008میں نوشہرہ میں مسیحیوں کیساتھ ایک مقامی تنازعے کے باعث مقامی افراد نے مشتعل ہوکر مندر کو شدیدنقصان پہنچایاتھا۔ بعدمیں ریاستی خرچ پر اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ کہاجاتاہے کہ اس مندر میں مورتیاں بھی توڑی گئی تھیں لیکن حکام کی طرف سے کسی قسم کا کوئی ازالہ نہ کیا گیا۔
اکتوبر2012 میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف جب ملک بھرمیں مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا تو مردان میں ایک مشتعل ہجوم نے بازارکے اندرواقع ایک قدیم گرجاگھرکوبھی جلادیا۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بعدمیں مردان کے گرجاگھرکوتعمیرکیا اوراس کیلئے فنڈزبھی مختص کیے۔
2020میں جب کرک میں ایک مشتعل ہجوم نے ہندو سمادھی کو جلادیا۔ پولیس اہلکاروں کی غفلت اوراور جنہوں نے مندر پر حملے کے لئے ہجوم کو اکسایا تھا،ان کے سخت ایکشن لیا گیااور سوسے زائد افرادکیخلاف مقدمات کااندراج بھی کیاگیا۔لیکن اس واقعے کے باعث ہندو برادری کواحساس ہوا کہ ان کی عبادت گاہیں یہاں غیرمحفوظ ہیں اور وہ کسی بھی وقت مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

Category: چھٹا کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے