ڈیرہ پھلاں دا سہرا
سکھ برادری کے لئے مرکزِ ہنر قائم کرنے کا حکومتی وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہو سکا
دسمبر 17, 2020
عوامی مقامات پر ہندو خواتین کی مشکلات
دسمبر 17, 2020

ڈیرہ پھلاں دا سہرا

ڈیرہ اسمٰعیل خان کے تاریخی توپاں والا بازارکی مشرقی سمت سے جونہی نکلیں توسرکلرروڈ پر سینٹ جانز کی پرشکوہ تاریخی عمارت ملے گی۔ دروازہ کٹھکٹایاتوپولیس اہلکارنے بتایاکہ گرجاگھرکے کیئرٹیکر مجاہدمسیح اپنے گھرمیں موجود ہیں۔ چرچ کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجاہدمسیح کے گھرتک پہنچے تومجاہدنے والہانہ استقبال کیا۔ کہنے لگے چائے کہاں پیؤ گے؟ ہم نے چرچ کی جانب اشارہ کیا1886میں ڈی آئی خان میں اسوقت کے مشنر یوں نے مسیحیوں کیلئے سینٹ جانزکے نام سے چرچ تعمیرکئے تھے۔ مجاہدمسیح نے بتایاکہ موجودہ عمارت 97سالہ پرانی ہے، چرچ کے اندر پادری کے کمرے کے علاوہ ایک خوبصورت ہال موجود تھا جوگزشتہ دس عشروں کی مسیحیوں کی داستان بتارہاتھا۔ چرچ میں تمام چیزیں قرینے سے رکھی گئی تھیں۔ چرچ کے نگران مجاہدمسیح نے بتایاکہ اتوار کے روز اس چرچ میں تقریباًتین سولوگ عبادت کیلئے آتے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع اس چرچ کے اندر بیٹھے ہوئے محسوس نہیں ہور ہا تھاکہ یہ شہرکاسب سے مصروف ترین علاقہ ہے۔ مجاہدمسیح نے بتایاکہ یہاں کے مسیحی دریائے سندھ کے کنارے پانی کی تلاش میں دوہزارسال قبل آبادہوئے تھے۔ مقامی آبادی ان ہی کی ہے لیکن حملہ آورآتے گئے اورڈیرہ اسمٰعیل خان کی جغرافیائی ہیت بدلتی رہی۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان کاشمار پاکستان کے تاریخی شہروں میں ہوتاہے۔ آزادی سے پہلے یہاں سب سے بڑی تعدادہندوؤں کی تھی جوکاروبارکیساتھ وابستہ تھے۔ پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمدکنڈی نے بتایاکہ آزادی سے قبل ڈیرہ اسمٰعیل خان قریبی علاقوں کیلئے سب سے بڑاکاروباری مرکزہواکرتاتھا۔یہاں اشیائے خوردونوش کے علاوہ اپنی ایک الگ ثقافت موجودہواکرتی تھی جودریائے سندھ کے باسیوں کی پیشانی پردیکھی جاسکتی ہے۔ احمدکنڈی بتاتے ہیں کہ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں کبھی بھی اقلیتوں اورمسلمانوں کے مابین لڑائی نہیں ہوئی تھی حتیٰ کہ وہ ہندوجو1947میں اپنی جائیدادیں چھوڑکرجارہے تھے انہیں بھی مقامی آبادی نے پرنم آنکھوں کیساتھ رخصت کیاتھا۔ ہندوؤں کی نقل مکانی کے بعد کاروبارمقامی آبادی کے ہاتھوں میں آگیا۔ڈیرہ اسمٰعیل خان کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکارصاحب رسول نے بتایاکہ اسوقت تقریباًپانچ ہزار کے قریب مسیحی ڈیرہ اسمٰعیل خان کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن میں سب سے زیادہ لوگ میونسپلٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پشاوراورسوات کے بعدڈیرہ اسمٰعیل خان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہوا۔ دہشتگردی کی تمام کارروائیوں میں دو مسیحی قتل ہوئے وہ بھی ایک خودکش حملے کی زدمیں آئے تھے۔ ڈی آئی خان میں زیادہ ترمسیحی چرچ آف پاکستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ڈی آئی خان میں سینٹ جانزکے علاوہ سینٹ تھامس کے نام سے ایک اور چرچ بھی قائم ہے، اسکے علاوہ مسیحیوں کیلئے سینٹ تھامس ہائی سکول اورسینٹ ہیلینیس کے نام سے دو تعلیمی ادارے طویل عرصے سے کام کررہے ہیں۔مجاہدمسیح نے بتایاکہ ملک کے دیگرحصوں کی طرح یہاں بھی مسیحیوں کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے۔گزشتہ چالیس سالوں کے دوران تقریباً35سے زائد افراد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایاکہ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں میونسپلٹی کیساتھ ماضی میں صرف مسیحی وابستہ رہتے تھے لیکن اب ہماری نشستوں پر مسلمانوں کی بھی بھرتی کاعمل شروع کررکھاہے۔ ہمارے بچے اب اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اگرکوٹے پرعمل درآمد کرکے مقامی مسیحیوں کو ترجیح دی گئی توبرابری کی سطح پر مسلمانوں کیساتھ زندگی گزارسکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر سینٹ جانزکے پادری چاندمسیح نے بتایاکہ ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہزاروں کی تعدادمیں مسیحی صدیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اسوقت ڈیرہ اسمٰعیل خان کی کینٹ کے قریب سب سے قیمتی زمین مسیحیوں کی ہے جسکارقبہ سوکنال کے قریب ہے لیکن بیشترپرقبضہ کیاجاچکاہے۔ پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے علاوہ قالین بنانے والی فیکٹری اور کچھ پرانی بلڈنگزاب بھی موجود ہیں۔ ان تمام عمارتوں کاکرایہ نہ ہونے کے برابر ہے۔جب ہم چرچ سے نکل رہے تھے تومحقق اورنگزیب خان نے بتایاکہ ڈی آئی خان کی سرائیکی زبان کی مٹھاس اگردیکھنی ہو تواس شہرکے اصل باسیوں ان مسیحیوں کوسن لیجئے گا جہاں آپ کو دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مٹھا س اور صدیوں پرانی ثقافت کی چاش ملے گی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ اقلیت میں ہیں اوراقلیت کتنی ہی مہذب کیوں نہ ہو ثقافت کابول بالاہمیشہ اکثریت کاہی رہتاہے۔

Category: تیسرے کے پی |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے