کراچی میں گرجا گھر
کراچی کا ہندو جمخانہ – اپنے مقصد کو پورا کررہا ہے؟
دسمبر 4, 2020
حیدرآبادکی تاریخی ورثے کی جگہیں حکومتی عدم توجہ کا شکار ہیں
دسمبر 19, 2020

کراچی میں گرجا گھر

کراچی نہ صرف محض اپنے سائز اور ملک کی معیشت پر اثرانداز ہونے کے لحاظ سے انفرادیت رکھتا ہے بلکہ یہ ایک یکساں مقام ہے جو پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے امتزاج کی خصوصیات رکھتا ہے۔
یہ شہر متعدد گرجا گھروں کا حامل ہے جو نہ صرف مقامی مسیحی برادری کے لئے عبادت گاہوں کے طور پر کام کرتے ہیں بلکہ اس کے تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کی یاد دلانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ کراچی کے کچھ مشہور گرجا گھر ذیل میں درج ہیں۔
صدر میں سینٹ پیٹرک چرچ ملک کا سب سے بڑا چرچ ہے جس میں پانچ ہزار افراد کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ کراچی کے پہلے کارمیلائٹ کے پادری فادر کاسابوچ کی نگرانی میں 1845 میں تعمیر کیا گیا تھا، یہ سندھ کا پہلا چرچ بھی تھا اور چھ ہزار روپے کی لاگت سے قائم ہوا تھا۔ اس چرچ کی 54 فٹ اونچی سنگ مرمر کی یادگار ایم ایکس اینڈرا ڈے نے ڈیزائن کی تھی اور وہ اٹلی کے علاقے کیریرا سے درآمد کی گئی تھی۔ اس چرچ کی تعمیراتی خوبصورتی کی وجہ سے 2003 میں اسے ثقافتی ورثہ قرار دے دیا گیا۔
فاطمہ جناح روڈ (زینب مارکیٹ) پر واقع انوکھے سکن کلر اور گیزری سٹون والے ہولی ٹرینیٹی چرچ کو 1855 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے کیپٹن جان ہل نے ڈیزائن کیا تھا۔ چرچ کا اندرونی ڈھکا ہوا پھیلاؤ 115 فٹ ہے اور اس کے بعد 150 فٹ اونچائی کا ٹاور ہے۔ اوپری حصے میں بیکنز نے جہازوں کو کراچی پورٹ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران چرچ کا مینار سگنلنگ سٹیشن کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔
سینٹ پال چرچ منوڑہ جو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے زیر انتظام تھا، 1864 میں برطانوی جنرل سر چارلس جیمز نیپیئر نے تعمیر کیا۔ اس پروٹسٹنٹ چرچ کی تعمیر برطانیہ کے تعمیراتی طرز کی شاہکار ہے اور یہ پورٹ لائٹ ہاؤس کے قریب واقع ہے۔
سیکرڈ ہارٹ چرچ کیماڑی ایک 158 سالہ قدیم چرچ ہے جس کی بنیاد 1862 میں رکھی گئی تھی اور اس کی تعمیر 1922 میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ چرچ کراچی کے رومن کیتھولک آرچڈائسس کا پیرش بھی ہے۔ عمارت میں دو افسوسناک واقعات ہوئے ہیں۔ 1990 میں ہندوستان میں بابری مسجد انہدام کے رد عمل میں شدت پسندوں نے چرچ پر حملہ کیا تھا اور 2000 میں چرچ کی پیتل سے بنی صلیب کو چوری کر لیا گیا تھا۔
کیماڑی کا سٹی فیتھ سینٹ جارج چرچ 1850 کی دہائی میں کراچی پورٹ کی تعمیر کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی کھڑکیاں اب بھی اپنی اصل حالت میں ہیں لیکن لکڑی کی چھت کو سیمنٹ کر کے تبدیل کردیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے بابری مسجد واقعے کے بعد شدت پسندوں نے اسے بھی نقصان پہنچایا۔
سولجر بازار گارڈن ایسٹ میں سینٹ لارنس چرچ میں ایک مغل آرکیٹیکچرل ڈیزائن پیش کیا گیا ہے اور یہ ملک کی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ چرچ 1903 سے 1929 تک پیرشنرز کے ذاتی تعاون سے تعمیر ہوا تھا اور 10 اگست 1931 کو عباد ت کرنے والوں کے لئے کھولا گیا تھا۔
ریگل چوک پر واقع سینٹ اینڈریو چرچ 152 سال پرانا سکاٹش چرچ ہے جو 1868 میں آرکیٹیکٹ ٹی جی نیونم نے تعمیر کیا تھا۔ اس کی زمین برطانوی حکومت سے حاصل کی گئی تھی۔ 1947 سے پہلے صرف غیر ملکیوں کو چرچ میں داخل ہونے کی اجازت تھی لیکن آزادی کے بعد مقامی لوگ بھی اسے عبادت کے لئے استعمال کرسکتے تھے۔ 1970 میں چرچ کے13723 مربع گز کے علاقے کو چرچ آف پاکستان کے ساتھ ملا دیا گیا۔
رینڈل روڈ پر واقع آور لیڈی آف فاطمہ چرچ ایک خود مختار پیرش کا چرچ ہے اور شہر کا واحد گرجا گھر ہے جو ایک منفرد اور سرکلر آرکیٹیکچرل ڈیزائن سے بنا ہے۔ 23 اگست 1953 کو اس کی منظوری دی گئی اور اس کی بنیاد ایم جی آر زائیور زوپی نے 13 جولائی 1962 کو رکھی۔ ورثے میں درج اس چرچ کا نام پرتگال کے چھوٹے سے گاؤں فاطمہ میں مبارک ورجن مریم کے معجزاتی انداز کی مناسبت سے رکھا گیا۔
کینٹ سٹیشن پر واقع سینٹ انتھونی چرچ کا سنگِ بنیاد 25 جون 1939 کو رکھا گیا لیکن دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے اس کی تعمیر ملتوی کردی گئی۔ 1950 کی دہائی کے اوائل میں فنڈز کی وصولی کے بعد اس کی تعمیر شروع ہوئی اور یہ جلد ہی مکمل ہوگئی۔ اس چرچ کے آرکیٹیکٹ نے اسے روایتی گوتھک انداز میں ڈیزائن کیا۔
نارتھ ناظم آباد کے سینٹ جوڈ چرچ کی تشکیل 1955 میں ایک مکان کے حصول کے بعد کی گئی اور اس میں ایک چرچ اور ایک ساتھ مل کر ایک سکول بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گولیمار، پیر آباد، باڑہ میدان اور دیگر قریبی علاقوں کے 400 سے زیادہ خاندانوں کو اس چرچ کے ساتھ جوڑا گیا۔
بلدیہ ٹاؤن میں واقع سینٹ لیوک کیتھولک چرچ سے کراچی کے چار ٹاؤنوں کے تقریباً2000 خاندان جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی پیرشز میں سے ایک ہے اور اسے کراچی کے
آرچڈائسس نے 28 اگست 2006 کو مشنری اوبلیٹس کے حوالے کیا تھا۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں متعدد دوسرے چھوٹے چرچ بھی ہیں۔

Category: ساتواں سندھ‎ |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے