کیپٹن ترانہ سلیم-فخرِ پاکستان
ریپ آرڈیننس 2020 کے مضمرات
فروری 15, 2021
اقلیتی صحافی بہت بڑے خطر ات میں کام کررہے ہیں
فروری 15, 2021

کیپٹن ترانہ سلیم-فخرِ پاکستان

کیپٹن ترانہ سلیم سندھ کی پہلی خاتون پائلٹ ہیں جو ان نوجوان خواتین کے لئے حوصلہ افزائی کاذریعہ ہیں جو رکاوٹیں توڑ کر ہوا بازی کی صنعت میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ترانہ مختلف ایئر لائنز اور چارٹر طیاروں کے ساتھ اڑان بھر چکی ہیں جس کے بعد انہوں نے اپنی ایئر ایمبولینس سروس شروع کی۔
ایم بی اے مکمل کرنے اور پروازوں سے متعلق ضروری سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے بعد وہ اب "وی کئیر فار ہیومنٹی” نامی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ تنظیم چلاتی ہیں جو ملک کے محروم طبقات کے لئے کام کرتی ہے۔ ہوا بازی اور کاروباری ایسوسی ایشنز میں مختلف عہدوں پر فائز رہتے ہوئے، انہوں نے یہ اعزاز بھی حاصل کیا کہ وہ لندن کی رائل ایروناٹیکل سوسائٹی کی رکن بننے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔
ثبات سے گفتگو کرتے ہوئے ترانہ نے بتایا کہ بچپن ہی سے وہ پائلٹ بننا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا خواب تھا وہ پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کرے لیکن اُس وقت بدقسمتی سے خواتین کو لڑاکا طیارے اڑانے کی اجازت نہیں تھی لہذا ان کے پاس کمرشل ائیر لائنز میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کا سہرا ان کی والدہ کو جاتا ہے جنہوں نے کمرشل پائلٹ بننے میں ابتدائی کچھ مسئلوں کے بعد ان کی کوششوں کی بھر پور حمایت کی۔
اپنے جہاز چلانے کے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی ہنگامی لینڈنگ نہیں کی اور نہ ہی ہوا میں رہتے ہوئے انہیں کسی اور بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں یاد آیا کہ ایک بار جب مزاحیہ اداکار اور میزبان معین اختر نے ان سے پوچھا کہ ان کے جیسا چھوٹا کوئی ہوائی جہاز کیسے اڑا سکتا ہے جو کہ بہت بڑا ہے اور انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے کندھے پر ہوائی جہاز نہیں رکھتیں، وہ انجنوں کا استعمال کرکے جہاز اڑاتی ہیں۔
ایک دلچسپ واقعہ جو ان کی پہلی تنہا تربیتی اڑان پر پیش آیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اوپری بیلٹ کو چھلک لیا اور اس کے نچلے حصے کو بھول گئیں جس کے نتیجے میں وہ دروازے سے باہر لٹک گیا۔ جہاز جب اترا اور انہوں نے دروازہ کھولا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ بکل تھا جو آواز پیدا کر رہا تھا۔
مرد وں کی برتری والے ماحول میں پیشہ ور عورت ہونے کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے ترانہ نے وضاحت کی کہ انہیں کبھی بھی کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اگر لڑکیاں آئی ٹی، انجینئرنگ جیسے شعبوں میں جارہی ہیں تو پھر فلائنگ میں وہ کیوں نہیں جا سکتیں؟ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پہ ہر لڑکی جو پائلٹ بننے کا خواب دیکھتی ہے اسے اختتام تک پہنچنا چاہئے۔

Category: آٹھ پاکستان |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے