گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والی مزدور خواتین کو بے روزگار کر کے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا
اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں کوئی عارضی وقفہ بھی نہیں آیا
جولائی 21, 2020
کوِڈ۔19نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی متاثر کیا
جولائی 24, 2020

گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والی مزدور خواتین کو بے روزگار کر کے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا

کرونا وائرس عالمی وبا نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ان میں گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والی مزدور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے مزدوروں کی تعریف یہ ہے کہ وہ افراد جو گھر میں یا گھر کے قریب کسی جگہ میں بیٹھ کر مقامی،گھریلو یا عالمی منڈی کے لئے اشیاء بناتے ہیں۔یہ مڈل مین سے رابطے میں ہوتے ہیں جو کہ آگے خریدار سے رابطے میں ہوتا ہے جسے شاید ہی وہ جانتا ہو۔یہ مزدور عالمی چین(Global Chains) کے لئے ذیلی معاہدوں (سب کنٹریکٹس) کے تحت کام کرتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کی کل وقتی مزدوروں کو اچھی تنخواہیں،سوشل سیکورٹی کے فوائد اور صحت سے متعلقہ فوائد وغیرہ پر خرچ ہونے والی رقم بچ جاتی ہے۔بڑے کاروباری انتہائی کم اجرت پر کام کرنے والے ان مزدوروں کو بہت موزوں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ اپنے گھروں میں کام کرتے ہیں،اپنی بجلی استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات زیادہ کام کرنے کے لئے اپنے گھر کے دیگر افراد کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔اس طریقے سے کمپنی کا خرچ بہت کم ہوتا ہے اور اس کا منافع کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ان مزدوروں کی تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان میں سے خواتین مزدوروں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے۔2016 کی یو این وومن کی رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے 400ارب روپے کا 65فیصد، یہ خواتین پاکستان کی معیشت میں حصّہ ڈال رہی تھیں۔اس عالمی وبا کی وجہ سے دنیا نے اب تک کا سب سے بدترین معاشی زوال دیکھا ہے۔طلب میں بڑی کمی کی وجہ سے یہ مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ان کی تنخواہ بھی مقرر نہیں ہوتی۔ان کو          فی جز(پرپِیس) کے حساب سے اجرت ملتی ہے۔اس لئے ان کے لئے کام نہ ہونے کا مطلب پیسے نہ ہونا ہے۔ہوم نیٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اُمِ لیلیٰ اظہر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس پھیلنے کے خوف کی وجہ سے پاکستان میں فروری کے مہینے ہی سے کام سست روی کا شکار ہونے لگے۔ان کا کہنا تھا کہ جب عالمی سطح پر تجارت رکی تو رسد کا پورا تسلسل تباہ ہو گیا۔چین جو کہ اس عالمی وبا کا مرکز ٹھہرا، زیادہ تر کاروباری خام مال منگوانے کے لئے اسی پر ہی انحصار کرتے ہیں۔حالات کی وجہ سے چین سے خام مال نہ آ سکا۔نتیجتاً یہ مزدور بے روز گار ہوگئے۔مزید براں بین الاقوامی سطح پر طلب میں شدید کمی کی وجہ سے صورتِ حال مزید خراب ہوگئی۔

نتھن گوٹھ کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو مزدور خاتون حسینہ علی کا کہنا تھا کہ اس وبا نے ان کے کام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سماجی فاصلے کے اصول کی وجہ سے مزدوراپنے اپنے علاقوں میں اکٹھے بیٹھ کر چیزیں نہیں بنا سکتے۔حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد بہت سی صنعتیں اور مارکیٹس بند ہو گئیں۔ظاہر ہے یہ مزدور خام مال نہیں خرید سکتے تھے جس کی وجہ سے ان کی آمدنی صفر ہو گئی۔ان میں سب سے بر ی طرح متاثرہ وہ فیملیاں ہیں جن کی روزی روٹی کمانے کی ذمہ دار صرف یہ مزدور خواتین ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک مزدور خاتون نبیلہ کا کہنا تھا کہ عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران شادیوں پر پابندی اور سست کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے بھی یہ مزدور خواتین بہت بری طرح متاثر ہوئیں۔ان میں سلائی کڑھائی،چوڑیاں اور مہندی لگانے والی خواتین شامل ہیں۔انہوں نے افسردہ انداز میں کہا کہ یہ سارا منظر ہمارے لئے بھیانک اس لئے بھی ہے کہ کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ زندگی معمول پر کب واپس آئے گی۔

اُمِ لیلیٰ کا کہنا تھا کہ انتہائی کم اجرتوں کی وجہ سے یہ مزدور کچھ نہیں بچا پاتیں اور نہ ہی سماجی تحفظ ان کی اجرتوں میں شامل ہوتا ہے۔نتیجتاً یہ تنگدستی کا شکار رہتی ہیں۔حکومت کے احساس پروگرام کے تحت بھی انہیں کوئی امداد نہیں دی گئی۔انہوں نے آگاہ کیا کہ بین الاقوامی کلین کلوتھز مہم کے ممبرز اور پارٹنرز نے کوِڈ۔19عالمی وبا کے بعد مشکل حالات سے گزرنے والے گارمنٹس ورکرز کے لئے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مہم کے تحت ہوم نیٹ پاکستان کو تھوڑی سی رقم ملی ہے۔یہ رقم ان مزدوروں کے لئے اشیاء خوردونوش،حفاظتی سامان اور خام مال خریدنے پر خرچ کی جا رہی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس طرح کا امدادی کام آٹے میں نمک کے برابر ہے۔حقیقتاً انہیں خام مال فراہم کر نا اور مناسب کام دینا،یہ دونوں کام حکومت  ہی کر سکتی ہے۔

Category: پاکستان چوتھا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے