گاؤں کے بڑے مشکل میں گھِری مسیحی کمیونٹی کی مدد کے لئے آگے بڑھے
جولائی 8, 2020

گھر میں اور بیرونِ ملک روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک

بذریعہ  سعدیہ کمال

آڈو بھگت ایک موسیقار ہیں۔ان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔اپنی پیشہ وارانہ مصروفیت کے باعث انہیں دوبئی جانا پڑا۔جب یو اے ای کی حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ملک سے تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کردیں تو اس دوران آڈو بھگت وہاں مارا مارا پھرتا رہا۔نتیجتاً آڈو بھگت کا دورہ ایک ڈراؤنے خواب کی مانند تین ہفتوں سے بڑھ کر تین مہینوں کا ہو گیا۔

پیسوں کی قلت کے باوجود بھگت کے پاس دوبئی میں رہنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا۔حکومت کی طرف سے عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے وہ اپنے مقامی دوستوں سے نہ مل سکا۔تقریباً ڈیڑھ ماہ تک اسے ایک ہوٹل میں واقع قرنطینہ میں رکھا گیا۔جونہی رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تو اسے کھانے کے لئے افطار کے وقت واقع قریبی مسجد جانا پڑتا تھا۔کیونکہ اس کے سارے پیسے ختم ہو گئے تھے۔کچھ دنوں بعد مقامی مسلمان کمیونٹی نے اندازہ لگا لیا کہ یہ ہندو ہے اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ نہیں رکھتاتو انہوں نے اس کی موجودگی اور کھانے پینے کے حوالے سے عدم دلچسپی کا اظہار شروع کر دیا۔حتی کہ اس کو داخل ہونے سے بھی منع کر دیا گیاجس کی وجہ سے اس کا عالمی وبا کے دوران زندگی گزارنے کا تجربہ مزید تکلیف دہ ہوگیا۔

دریں اثناء کچھ صحافی بھگت کا کیس سرائیکی ویلفئیر کی تنظیموں کے علم میں لے آئے۔انہوں نے درخواست کی کہ اس کی وطن واپسی میں اس کی مدد کریں۔جب انہوں نے متعلقہ سرکاری اہلکاروں سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ تقریباً 70ہزار پاکستانی شہری وطن واپسی کے لئے پروازیں دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائینز کے جنرل مینجر نے کہا کہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کی طرف سے اس کے نام سے ایک خط دوبئی میں واقع ایمبیسی میں بھیجا جائے گا۔اُس وقت پھر ثبات کی ٹیم نے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ مل کر مؤثر طریقے سے متعلقہ تمام افراد سے بات کی اور آڈوبھگت کو گھر واپس لے آئے۔

تاہم اس کی آزمائش یہیں پر ختم نہیں ہوئی کیونکہ واپسی کے فوراً بعد جون میں بھگت کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا اور گھر روانگی سے قبل،دس دن کے لئے ملتان کے ایک قرنطینہ میں اسے رکھا گیا۔روبصحت دو دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے موسیقار کا کہنا تھا کہ مجھے گھر واپس لانے پر میں ثبات کی کوششوں کا شکر گزار ہوں۔

لال چند ملہی حکمراں جماعت کے اقلیتی قانون ساز ہیں۔انہوں نے بھگت کیس میں بھی بہت مدد کی۔انہوں ان اس عالمی وبا کے دوران اقلیتوں سے ہونے والی بد سلوکی کا ایک اور واقعہ سنا یا۔دادو میں ایک ہندو بزرگ کووڈ۔19 کی وجہ سے فوت ہو گیا۔اس کے خاندان والے اسے شمشان گھاٹ لے جا رہے تھے۔پڑوس کے لوگوں نے اس کی آخری رسومات پر اعتراض کیا کہ ایسا کرنے سے کرونا وائرس پھیل جانے کا خدشہ ہے۔انہوں نے چِتا کی آگ بجھانے کی بھی کوشش کی۔اس نے بتایا کہ یہ رویہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یہ وبا جلد ختم ہو اور ہم اپنی زندگی معمول کے مطابق دوبارہ گزار سکیں۔

بیرونِ ملک بے آسرا پھرتے رہے

امجد نیامت لاہور کا رہائشی ہے۔وہ انٹر فیتھ ہارمنی چرچ آف پاکستان کا چئیرمین ہے۔اس نے ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے ہندو،سکھ،مسیحی اور مسلمان وفد کے ساتھ 8مارچ کو یو کے کا سفر کیا۔اس نے پندرہ دن بعد واپس آنا تھا۔جونہی کرونا وائرس بحران نے عالمی وبا کی شکل اختیار کی تو یو کے میں لاک ڈاؤن لگ گیا۔یوں نیامت وہاں بے یارومدد گار رہ گیا۔نیامت کا کہنا تھا کہ اس نے واپس گھر جانے کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔یہ میرا پہلا تجربہ تھا جب میں اپنی فیملی اور بچوں سے دور تھا۔یہ بہت پریشان کن دور تھا۔پندرہ دن بعد میرے پاس پیسے ختم ہوگئے۔قیام و طعام کے حوالے سے مجھے بہت مشکل کا سامنا تھا۔

جب ثبات کی ٹیم کو نیامت کی آزمائش کا علم ہوا تو اس نے اپنے نیٹ ورک میں موجود تمام لوگوں سے رابطے کئے اور بڑے فورمز پر اس مسئلے کو اٹھانے کا بندوبست کیا۔14اپریل کو نیامت واپس اسلام آباد پہنچا جہاں تین دنوں کے لئے اسے آئسولیشن میں رکھا گیا۔آخر کار اسے لاہور روانہ کر دیا گیا۔ثبات کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے نیامت نے جاری عالمی وبا کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔کبھی حکومت لاک ڈاؤن سخت کرتی ہے اور کبھی نرم۔حکومتی پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ وائرس اب پھیل چکا ہے۔ اس نے حکومتِ پاکستان سے درخواست کی کہ بیرونِ ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے وہ مؤثر اقدامات کرے۔اس حوالے سے اس نے ثبات کی ٹیم کی طرف سے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

Category: بارہ پنجاب |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے