2020میں توہین ِمذہب کے کیسوں میں اضافہ دیکھا گیا
اسقاطِ حمل کے نتائج
مارچ 3, 2021
عورت مارچ کے دوران صحت ایک اہم ترجیح تھی
مئی 5, 2021

2020میں توہین ِمذہب کے کیسوں میں اضافہ دیکھا گیا

پچھلے سال جبکہ پوری دنیا اور بالخصوص پاکستان ناول کرونا وائرس کے واقعات اور صحت سے لے کر معیشت تک کے تقریباًتمام شعبوں پر اس کے تباہ کن اثرات سے دوچار ہے، ایسا لگتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے شکار اس معاشرے نے کوئی وقفہ نہیں لیا بلکہ اس کی بجائے اور ٹائم لگایا۔
سنٹر فار سوشل جسٹس (سی ایس جے) کے مطابق، پچھلے سال ملک میں توہین مذہب کے کم از کم 200 درج مقدمات کا اضافہ دیکھا گیا۔
اقلیتی حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی او نے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 1987 سے لے کر 2020 تک کم از کم 1855افراد پر قانون کی مختلف شقوں کے تحت توہینِ مذہب کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا۔
اس رپورٹ کے مطابق، 2020 میں، توہین ِ مذہب کے کل مقدمات کا 70٪ مسلمانوں کے خلاف درج کئے گئے۔ بشمول شیعہ کمیونٹی کے ممبروں کے خلاف 75 فیصد۔ بقیہ کیسوں میں احمدیہ برادری کے خلاف 20٪، مسیحیوں کے خلاف 3.5٪ اور ہندوؤں کے خلاف ایک فیصد کیسسز شامل ہیں۔ باقی ملزمان کی مذہبی شناخت معلوم نہیں ہے۔
ان کیسوں میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں 76٪ ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کے بعد سندھ میں 19 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جیسا کہ توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق ایک عام اور خوفناک بات ہے۔وہ اس رپورٹ میں بھی نظر آتا ہے،اس رپورٹ میں مجموعی طور پر 78 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں 42 مسلمان، 23 مسیحی اور احمدیہ برادری کے نو افراد شامل تھے۔ اس طرح کی زیادہ تر ہلاکتیں عام طور پر متشدد ہجوم کے ہاتھوں ہوتی ہیں، اس سے پہلے کہ مبینہ جرم کا قانونی طور پر تعین کیا جائے۔
سی ایس جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے طریقہ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اعداد و شمار کو نیوز رپورٹس کے ساتھ ساتھ پولیس ریکارڈ کو بھی دیکھا گیا۔ محرم کے مہینے میں جولائی سے اگست کے دوران 200 ایف آئی آر درج ہوئیں جن میں سے 140 صرف شیعوں کے خلاف درج کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار سے ملک میں پائے جانے والے گہرے فرقہ وارانہ مسائل کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔
تاہم، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے، طاہر اشرفی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور متعصب قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ رپورٹ غیر مہذب ہے اور اس کے پیچھے ذاتی مفادات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال توہین ِ مذہب کے قوانین کی متنازعہ دفعہ 295سی کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ مزید وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر زہر آلود پروپیگنڈہ پھیلانے والے نفرت پسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ مزید برآں، بھارت بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ ملے۔
شیعہ برادری کے رہنما مجاہد گردیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ملک میں فرقہ واریت پر قابو پانے کی آڑ میں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صدیوں سے فرقہ وارانہ اختلافات موجود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن اب کچھ عناصر ان اختلافات کو بڑھا رہے ہیں اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسے عناصر کو ملک میں نفرت بھرا ماحول پیدا کرنے سے باز رکھے۔
انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے زور دے کر کہا کہ ریاست ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہندو اتنا ہی اس مٹی کا بچہ ہے جتنا کسی مسلمان کا۔

Category: پاکستان پہلا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے