2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال
ستیش آنند نے پاکستانی سنیما کو زندہ رکھا ہے
جنوری 3, 2021
قیس جاوید: ایک گزر ے ساتھی کو یاد کرتے ہوئے
جنوری 3, 2021

2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال

رواں سال نومبر میں جاری ہونے والے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول آف لاء انڈیکس 2020 کے مطابق بنیادی حقوق کے حوالے سے ہونے والی درجہ بندی کے حساب سے پاکستان کل 128 ممالک میں سے 115ویں نمبر پر ہے۔
حکومت انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کے باوجود انسانی حقوق کے اہم معاملات کو حل کرنے میں مستقل طور پر ناکام رہی ہے جس کے تحت ریاست ایک فریق ہے جیسے خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیازی سلوک کے خاتمے کا کنونشن (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کا آپشنل پروٹوکول اور شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی کویننٹ(آئی سی سی پی آر)۔
اقلیتیں
اقلیتوں کے حقوق کے کارکن ذیشان یعقوب نے بیان کیا کہ 1956 میں ملک کے پہلے آئین میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو باضابطہ شکل دی گئی تھی اور اس کے بعد کے سالوں میں انھیں مزید تقویت ملی۔ 1973 کے آئین میں اقلیتوں کے تحفظ کی حمایت کرنے کی متعدد دفعات شامل ہیں لیکن ان پر عملی طور پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور دیگر قانونی دفعات سے یہ متصادم ہیں۔ ان میں آئین کے متعدد اعلامیے شامل ہیں جو کہ اکثریت کے مذہب کی حمایت کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ 1980 کے دہائی میں 5 فیصد اقلیتوں کا کوٹہ عوامی شعبے میں ملازمت میں امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے مثبت اقدام کے معاملے میں بہت کم کام کرتا ہے اور حقیقت میں اقلیتوں کے خلاف معاشرتی امتیاز اور دقیانوسی تصورات کو بڑھاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت ساری میونسپلٹیز اقلیتوں کو ناپسندیدہ عہدوں پر ملازمت کے ذریعے اپنا کوٹہ بھرتی ہیں جیسے سینیٹری ورکرز۔ اسی طرح اقلیتیں بے شمار مسائل کا شکار ہیں، ان میں ان کی شادیوں کو قانونی حیثیت سے لے کر مقننہ میں مناسب نمائندگی تک کے مسائل شامل ہیں۔
جبری مشقت
گلوبل سلیوری انڈیکس میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔ با نڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ پاکستان کے مہر صفدر علی کے مطابق اگرچہ بانڈڈ لیبر سسٹم ابو لیشن ایکٹ 1992،1995 میں نافذ کیا گیا تھا لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بنیادی طور پر یہاں دو طرح کے جبری مزدور ہیں – اینٹوں کے بھٹوں کے مزدور اور کسان۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ بھٹہ مزدور جبری مشقت کا شکار ہیں، ساتھ ہی چالیس لاکھ خواتین اور مرد کھیتوں میں اسی طرح کے حالات میں کام کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ بغیر کسی قانونی تحفظ کے جیسے معاشرتی تحفظ یا اولڈ ایج بینیفٹ کے کام کرتے ہیں۔ جبری مشقت کا شکار اقلیتوں کے بہت سے افراد کو پسماندگی کی وجہ سے تشدد کے اضافی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایسے کارکنوں کی بہت کم تعداد ہے جو ووٹ ڈالنے کے لئے رجسٹر ہیں لیکن ان کے مالکان اکثر اپنے قانونی حق کے مطابق انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیتے۔
بچوں کے حقوق
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور گلگت بلتستان کے علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبرپختونخوااور بلوچستان میں بھی بچیوں کے حقوق جیسے ہر طرح کے امتیازی سلوک،غیر انسانی سلوک،ان کو نیچا دکھانا اور کم عمری کی شادیوں سے تحفظ کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔بعض جگہوں پر کم عمری کی شادیوں کی قانونی طور پر اجازت ہے۔ کم عمری کی شادیوں کے حوالے سے صرف سندھ نے مضبوط قانون نافذ کیا ہے جو لڑکی اور لڑکے دونوں کے لئے شادی کی عمر 18 سال مقرر کرتا ہے، اگرچہ اس پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومت کی طرف سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
خواتین کے حقوق
حقوق نسواں کی کارکن زاہدہ ملک نے کہا کہ جبکہ ریاست نے واضح طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ صرف اور صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور در حقیقت زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اس منزل کے حصول میں بہت وقت لگے گا۔ متعدد مقامی قوانین اب بھی خواتین کے خلاف واضح طور پر امتیاز کرتے ہیں، خاص طور پر ایویڈینس ایکٹ اور زنا آرڈیننس جہاں خواتین کی شہادت ناقابل قبول ہے اور متعدد جرائم کے تحت ان کو کڑی سزا دی جا سکتی ہے۔
خواجہ سرا
قومی حقوق کے قانون اور خصوصی ہیلپ ڈیسکس کے قیام جیسے متعدد خوشگوار اقدامات کے باوجود خواجہ سراؤں کی زندگیاں بہت مشکلات کا شکار ہیں، جن میں تعلیم اور ملازمت کے مواقع کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے وہ بھیک مانگنے یا جسم فروشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کی کارکن ز نا یا چوہدری کا کہنا تھا کہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود ہسپتالوں کے سٹاف اور پولیس کو نہیں پتہ کہ خواجہ سراؤں سے کیسے نمٹا جائے؟
توہینِ مذہب
توہین مذہب کے قوانین کو مسیحیوں، احمدیوں اور مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی گروہوں کے افراد کے خلاف قانونی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، انسانی حقوق کے وکیل ندیم انتھونی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19اور19اے کے تحت جو آزادی اظہار اور معلومات کے حق سے متعلق ہیں، یہ تمام بنیادی حقوق اسی طرح ڈیجیٹل سپیس میں بھی لاگو ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات حکومت کی طرف سے سمجھ بوجھ یا فیصلہ لینے کے فقدان کی وجہ سے آن لائن صارفین کو اس طرح کی آزادی نہیں دی جاتی۔

Category: پاکستان چوتھا |

Comments

All comments will be moderated, and comments deemed uninformative or inappropriate may not be published. Comments posted herein do not in any way reflect the views and opinions of the Network.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے