Kashif Nawab

پاکستان میں حکومت، مسجد، چرچ یا مندر کی تعمیر کے لئے این او سی (اجازت نامہ) دینے کے لئے طے شدہ طریقہ کار میں ضلعی کوآرڈینیشن آفیسر (ڈی سی او) شامل ہے جو رائے کے لئے ”مسجد کمیٹی” کو درخواست بھیجتا ہے۔یہ کمیٹی صرف مسلمان ممبروں پر مشتمل ہے جو ایسے معاملات میں اقلیتوں کے لئے امتیازی سلوک کا باعث بن سکتی ہے۔

ساہیوال کے بپٹسٹ چرچ کے بشپ ابراہیم ڈینیئل کے مطابق، پاکستان میں چرچ کے اندراج یا اس کی تعمیر کے لئے اجازت حاصل کرنے کے لئے کوئی حکومتی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اقلیتوں کے نمائندوں کو لگتا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ فیصلہ سازکمیٹی میں ان کی نمائندگی ہی نہیں ہے اور حکومت سے اس مقصد کے لئے اس کی بجائے ”بین المذاہب کمیٹیاں“ قائم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان کے ریورنڈ امجد نیات نے کہا کہ گرجا گھروں کی رجسٹریشن کے لئے کوئی علیحدہ فارمز نہیں ہیں اور اقلیتوں کو رجسٹریشن کے لئے مساجد والے فارمز بھرنے پڑتے ہیں جن کے بہت سے کالمز ان کے عقائد کے مطابق غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ فی الحال ڈی سی او کی طرف سے جاری کردہ شادی نکاح نامہ کا فارم مسلم عقیدے پر مبنی ہے اور اس میں غیر متعلق کالم بھی شامل ہیں جو اقلیتوں پر لاگو نہیں ہوتے ہیں لیکن وہ اسی فارم کو پُر کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہاں کوئی علیحدہ فارم نہیں ہے۔

انچارج سینٹ پال چرچ ہارون آباد نے ریورنڈ جہانزیب حمید نے کہا کہ حکومت پنجاب نے اقلیتی امور کی وزارت پنجاب کے ساتھ متعلقہ اضلاع کے تمام پادریوں کی رجسٹریشن کے لئے ایک پالیسی تیار کی ہے۔ زیادہ تر پادری چرچ کی ڈینومینیشن میں تعینات ہیں اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں منتقل ہونے کے اہل ہیں۔ ریورنڈ حمید نے کہا، ”لہذا، میں حکومت پنجاب سے متعلقہ چرچ کو رجسٹر کرنے کی درخواست کرتا ہوں نہ کہ پادریوں کو، کیونکہ یہ بدلتے رہتے ہیں،” ریو رنڈ حمید نے مزید کہا کہ پادری آتے اور جاتے وقت چرچ میں اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔

اٹک میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن شیریں اسلم نے کہا کہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی بعض مقامات پر اپنے دفتر میں شادی کے سرٹیفکیٹ درج نہیں کرتی، صرف پیدائش کے سرٹیفکیٹ رجسٹر کرتی ہے، اس طرح لوگوں کی شادیوں کو رجسٹر کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقلیتوں کی شادیوں کے اندراج کے لئے خاص طور پر ایک حقیقت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی صرف اور صرف پاکستان کے نامور گرجا گھروں کی طرف سے شادی کے سرٹیفیکیٹس کو قبول کرتی ہے۔

مئی 5, 2021

اقلیتیں اپنے معاملات میں بھی اختیار نہیں رکھتیں

پاکستان میں حکومت، مسجد، چرچ یا مندر کی تعمیر کے لئے این […]
فروری 15, 2021

اقلیتی صحافی بہت بڑے خطر ات میں کام کررہے ہیں

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی ذیشان یعقوب نے اپنے پیشے […]
جنوری 3, 2021

2020میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال

رواں سال نومبر میں جاری ہونے والے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے رول […]
دسمبر 17, 2020

بچوں کے حقوق کے کنونشنز عملی جامہ نہیں پہن سکے

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے مسلسل مایوس کن تصویر […]
نومبر 30, 2020

چرچ نے پشاور کے واحد کرسچن کالج کے کنٹرول سے محرومی کی بھر پور مذمت کی

پشاور کے مشہور ایڈورڈز کالج کو ابتدائی طور پر 1855 میں چرچ […]
نومبر 6, 2020

لاہور کے مسیحی علاقے تبدیلی کے منتظر ہیں

یو حنا آبادلاہور کی سب سے بڑی مسیحی آبادی والا علاقہ بن […]