Shahid Shah Jillani

دیہی سندھ کی سنیتا راٹھوڑ نے سخت مزاحمت کے باوجود اپنے فرسٹ کزن ڈاکٹر دیپک راج سے شادی کی کیونکہ ہندوؤں میں فرسٹ کزنز سے شادی کا رواج نہیں ہے۔ لیکن سنیتا اور دیپک کو پیار ہو گیا اور ان کا آپس میں مل کر رہنا مذہبی رواج کے خلاف رہا۔
اپریل 2015 میں اس جوڑے کی زندگی لرز اٹھی تھی جب حیدرآباد میں پولیس کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ڈاکٹر دیپک شدید زخمی ہوگیا تھا۔ واقعے کی آس پاس کی اطلاعات متزلزل ہیں – اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ وہ پولیس کی طرف سے زیادہ طاقت کے استعمال کا شکار ہوا لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جن کا دعویٰ تھا کہ پولیس اہلکار وں نے نامعلوم افراد کی جانب سے اثرورسوخ کی وجہ سے حملہ کیا۔
اس سانحے کے بعد سے پانچ سال تک، جس نے ڈاکٹر دیپک کی ٹانگیں مفلوج کر دی تھیں، سنیتا نے خود ہی اپنے معذور شوہر کی ہر طرح سے دیکھ بھال کی۔ وہ کراچی منتقل ہوگئے کیوں کہ ان کے اپنے خاندان کے ممبران نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔ کراچی میں ان کی حمایت کچھ افراد نے کی جبکہ سنیتا کو بھی حکومت کی مدد سے ملازمت ملی۔
نومبر 2020 میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ سنیتا نے اپنا مذہب تبدیل کرلیا ہے اور دیپک کی رضامندی سے ایک مسلمان شخص سے شادی کی ہے۔اس واقعے کے نتیجے میں غیر ضروری تنازعہ پیدا ہوا کیوں کہ ہندو خواتین کی مسلمان مردوں سے شادی کرنے کے معاملے کو جبری تبدیلی مذہب کے طور پر اجاگر کیا جاتا ہے جبکہ اس معاملے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
دیپک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ وہ اور سنیتا، جس کا مسلم نام اب سونیا ہے، رمیز خان کے ساتھ اپنی دوسری شادی پر راضی ہوگئی ہے۔ سنیتا کے سابق شوہر نے واضح طور پر اس کی کردار کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اسے اپنی زندگی جینے کا پورا پورا حق ہے۔
سنیتا نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ یہ میرا فیصلہ ہے، میرے جذبات اب ایک ایسے شخص (رمیز) سے منسلک ہیں جو کبھی دیپک کے ساتھ وابستہ تھے۔اس نے معاشرے پر الزام لگایا کہ وہ اس کی مدد کرنے میں ناکام رہا جبکہ وہ اپنے سابق شوہر کا علاج کر رہی تھی۔
اس کیس کی قریب سے پیروی کرنے والے سندھی ڈیلی سندھ کے ایڈیٹر مہیش کمار نے ثبات کو بتایا کہ کچھ عناصر سوشل میڈیا پر سنیتا کو بدنام کررہے ہیں حالانکہ اس کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنا اس کا حق ہے۔اپنی پسند کے کسی شخص سے شادی کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔ اس نے پانچ سال تک ڈاکٹر دیپک کی دیکھ بھال کی۔ اسے اپنے تقاضے پورے کرنے تھے،انہوں نے مزید زور دیا۔

جنوری 3, 2021

غیر ضروری تنازعے نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے معاملے کو چھپا دیا

دیہی سندھ کی سنیتا راٹھوڑ نے سخت مزاحمت کے باوجود اپنے فرسٹ […]
دسمبر 4, 2020

غربت میں اضافے کے ساتھ ہی سندھ میں خودکشیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو گیا

گذشتہ ماہ دادو کے قریب واہی پانڈھی کی 22 سالہ خاتون نے […]
نومبر 6, 2020

ایک صحافی کو مذہبی امتیاز کا سامنا ہے

سندھ کی مذہبی اقلیتیں نہ صرف صوبے کے دیہی علاقوں میں خوف […]
اکتوبر 23, 2020

سندھ کے بچے جنسی زیادتیوں کے خلاف بے بس ہیں

اس ماہ کے شروع میں 12 سالہ احمد بھٹی کو سندھ کے […]
اگست 11, 2020

بہاولپور میں گرائے گئے ہندو کمیونٹی کے گھروں کی دوبار ہ تعمیر کا کام جاری ہے

اس سال مئی میں یزمان ضلع بہاولپور میں حکومت کی طرف سے […]
جولائی 21, 2020

سندھ۔مذہبی ہم آہنگی کا گہوارہ

جب اپنی ماں کی تدفین کے بعد لوگ مجھ سے تعزیت کر […]