Nasreen Jabeen

اگر کوئی عورت ریڈیوسٹیشن پر کال کرتی ہے یا صدائے امن مرکز (شہری سہولت مرکز) سے کسی بھی طرح کی مدد طلب کرتی ہے تو ان کے کنبے اور قبیلے پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
یہ اعلان حال ہی میں ضم ہونے والے ضلع باجوڑ کی تحصیل مومند میں تین ذیلی قبیلوں کے قبائلی جرگے کی طرف سے کیا گیا ہے۔ مقامی قبائلی عمائدین مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے اور احکامات پاس کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے جس میں خواتین کو اپنی صحت، معاشرتی اور معاشی حقوق کے سلسلے میں ریڈیوسٹیشن پر کال کرکے اور / یا اس مقصد کے لئے تیار کردہ خواتین کے مرکز کا دورہ کرنے سے روکنا شامل تھا۔ اس میٹنگ میں علاقے میں منشیات فروشی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دیگر برائیوں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
زیر غور مراکز کو متعدد بین الاقوامی ترقیاتی اداروں نے محفوظ جگہوں کے طور پر مالی اعانت فراہم کی ہے جہاں حاملہ خواتین طبی مشوروں اور مدد کے ساتھ ساتھ پیدائش کے بعد نقد گرانٹ بھی حاصل کرسکتی ہیں۔
جرگے کے اعلان کے بعد، جس کے رہائشی قبائلی رسم و رواج کے مطابق پابند ہیں، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت حرکت میں آئی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ایک ٹیم نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور اس علاقے کے صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں ضم ہونے کے بعد 2018 میں ریاست کے حق پر دوبارہ زور دیا۔ عمائدین نے حکومت کو یقین دلایا کہ ان کے اعلانات قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ہوں گے۔ اور وہ مستقبل میں اس طرح کے احکامات منظور کرنے سے قبل مقامی انتظامیہ کو آگاہ کریں گے۔
باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر محمد فیاض نے زور دے کر کہا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں ہے اور اس طرح کے جرگوں کا اب کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ اب قبائلی علاقوں کو آباد اضلاع میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
جرگے کے فیصلوں سے اتفاق کرتے ہوئے، مقامی برادری کے رہنما ملک شاہین خان نے ثبات سے گفتگو میں کہا کہ ان کی روایات اور رسومات ان کی خواتین کی کسی ایسے مرد سے گفتگو کی اجازت نہیں دے سکتیں جو خاندان کا براہ راست ممبر نہ ہو اور اس کے ساتھ دوستانہ یا ہلکی پھلکی گفتگو نہیں کی جا سکتی(جیسا کہ مبینہ طور پر ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے ذریعے ہو رہی تھی)۔
اسی طرح انہوں نے بتایا کہ جس طرح ان کی خواتین کو پردے کے بغیر مراکز کے باہر کھلے آسمان تلے بیٹھایا جائے گا وہ بھی ان کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے آگاہ کیاکہ اس طرح جرگے نے مشورہ دیا تھا کہ خواتین مراکز میں جانے کی بجائے ان کی دہلیز پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے خواتین کو نقد گرانٹ فراہم کی جائے۔ جرگے کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ قبائلی لوگ پرانی دشمنیوں سے لے کر تمام مالی معاملات تک جرگوں کے ذریعے ہر طرح کے تنازعات کو حل کرتے رہے ہیں اور یہ ان کی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔
تاہم ٹرائیبل یوتھ موومنٹ کے ایک سینئر ممبر مصباح الدین نے جرگے کے اقدامات سے اتفاق نہیں کیا اور زور دیا کہ خواتین پر امداد کے حصول اور آگاہی لانے پر پابندی عائد کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے تنازعات کے حل کے لئے پرانے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت ہے اور یہ بھی الزام لگایا کہ خواتین کے مراکز میں عملے کو بہتر تربیت دی جانی چاہئے اور زیادہ پیشہ ورانہ ہونا چاہئے تاکہ شروع میں ہی مقامی لوگوں کے ساتھ کسی بھی مسئلے کو حل کیا جاسکے۔
ثبات سے بات کرتے ہوئے باجوڑ کی ایک خاتون رضی، جو خوش قسمت ہے کہ تعلیم یافتہ ہے اور اس کی ملازمت ہے، نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی کوریج کی کمی کی وجہ سے خواتین کے لئے کوئی آؤٹ لیٹ نہیں بچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ باجوڑ سے باہر بھی ریڈیوسٹیشن اتنا مقبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شدید ناخواندگی، مواقع کی کمی اور جابرانہ روایات خواتین کو ہمیشہ کے لئے محرومیوں کے چکر میں ڈالتی ہیں۔
خورشید بانو، جنھیں نوشہرہ میں کے پی کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن کی سربراہی کے لئے مقرر کیا گیا ہے، نے ان شرائط پر افسوس کا اظہار کیا جن کے تحت قبائلی خواتین اب بھی زندگی بسر کررہی ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اوسطاً قبائلی علاقوں میں خواتین کے چھ سے آٹھ بچے ہوتے ہیں اور اگر لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں ہوتی ہیں تو پھر ان کی اولاد جاری رہتی ہے جب تک کہ لڑکوں کی تعداد کافی نہیں ہوجاتی۔
بانو نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات میں زچگی کے دوران شرح اموات میں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر چونکہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور طبی شعور تک رسائی پہلے ہی سے
نا کافی ہے۔ان حالات میں میمن جرگہ کے حالیہ فیصلے قبائلی خواتین کے لئے ڈیتھ وارنٹ کے سوا کچھ نہیں ہیں

مارچ 3, 2021

قبائلی خواتین کی موجودہ صورتِ حال

اگر کوئی عورت ریڈیوسٹیشن پر کال کرتی ہے یا صدائے امن مرکز […]
فروری 15, 2021

شاور میں پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ

اگر میں دو نمایاں صنفوں میں سے کسی ایک کے مطابق نہیں […]
دسمبر 17, 2020

عوامی مقامات پر ہندو خواتین کی مشکلات

میں جب سندور، بندیا لگا کر بس میں سوار ہوئی تو ارد […]
دسمبر 4, 2020

خیبر پختونخوا کے خواتین کے حقوق سے متعلقہ قوانین محض ایک وعدہ ہیں

سات سال پہلے پشاور کی رہائشی معصومہ اپنے شوہر کے تیزاب کے […]
نومبر 18, 2020

خواجہ سراؤں کے لئے سپورٹس فیسٹیول: محروم افراد کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی ایک اہم کاوش

جب میں اس دنیا میں آئی تو میں اپنے والدین کی اُس […]
اکتوبر 23, 2020

کے پی کے بزرگ شہری مدد کے لئے ترس گئے ہیں

میرے موجودہ ٹھکانے میں زندہ رہنے کے لئے تمام بنیادی سہولیات جیسے […]