Qalbe Muhammad

73سال کی عمر میں سراج العابدین کی انسانی حقوق کے لئے جدوجہد، خاص طور پر مزدوروں اور صحافیوں کے حقوق کے لئے، اس میں ذرا بھی کمی نہیں آئی۔پچھلے 30 سالوں سے روزنامہ جسارت سے وابستہ اور مزدوروں کے مسائل پر وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کرتے ہوئے، عابدین نے ثبات سے اپنے کام اور دہائیوں کے سفر کے بارے میں بات کی۔
1948میں ہندوستان کے علاقے علی گڑھ میں پیدا ہوئے، وہ اپنے والد کی وفات کے بعد 1964 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ انہوں نے جناح پولی ٹیک کراچی سے مکینیکل ٹیکنا لوجی میں ڈپلوما مکمل کرکے 1971 میں تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد وہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں شامل ہوگئے۔
اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں جنہیں قاضی سراج کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ سول اور فوجی حکومتوں دونوں سے مزدوروں اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہ کرنے پر تنقید کرتے ہیں اور جب انہوں نے حکومتی پالیسیوں پراحتجاج کیا تو ان کے مسائل کے حل کی بجائے ان کی یونینوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ اپنی جدوجہد کے دوران عابدین کو اپنی زندگی کے متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں مزدور احتجاج کی کوریج کے دوران کراچی کے آرٹلری میدان پولیس سٹیشن میں انہیں بند کر دینا شامل ہے۔
سرکاری اور نجی شعبوں میں مزدور قوانین کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ صنعتکار اپنی فیکٹریوں میں مزدوروں کی بھرتی کرتے ہیں اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ مزدوروں کو مستقل ملازمین کے طور پر بھی شامل نہیں کیا جاتا تاکہ ان کو حقوق کی فراہمی سے محروم رکھا جا سکے۔ اسی طرح بہت کم کمپنیاں اپنے کارکنوں کو ریاستی منظور شدہ کم سے کم اجرت 17500 ماہوار دیتی ہیں، انہوں نے اس مسئلے پر نہایت افسوس کا اظہار کیا۔
مزید یہ کہ عابدین نے یہ شکایت کی کہ مزدوروں کے قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق اگر دہائیوں نہیں تو سالوں عدالتوں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کے لئے ذمہ دار اداروں کی سخت کمی ہے۔
عابدین جانتے ہیں کہ منزل ابھی بہت دور ہے لیکن انہوں نے اپنی آخری سانس تک لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ ایک ورکنگ جرنلسٹ کی حیثیت سے، وہ ہمیشہ مزدور یونینوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر صحافیوں کی یونینوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ مزدوروں کے مسائل کی میڈیا کوریج انتہائی کم ہوتی ہے۔

مارچ 3, 2021

مزدور وں کے حقوق کے لئے تین دہائیوں سے جاری جدو جہد

73سال کی عمر میں سراج العابدین کی انسانی حقوق کے لئے جدوجہد، […]
فروری 15, 2021

کیپٹن ترانہ سلیم-فخرِ پاکستان

کیپٹن ترانہ سلیم سندھ کی پہلی خاتون پائلٹ ہیں جو ان نوجوان […]
جنوری 3, 2021

ستیش آنند نے پاکستانی سنیما کو زندہ رکھا ہے

ستیش آنند کی ایو ریڈی پکچرز جو 1946 میں ان کے والد […]
دسمبر 17, 2020

کراچی میں گرجا گھر

کراچی نہ صرف محض اپنے سائز اور ملک کی معیشت پر اثرانداز […]
دسمبر 4, 2020

کراچی کا ہندو جمخانہ – اپنے مقصد کو پورا کررہا ہے؟

کراچی تقسیم ہند سے پہلے کی گہما گہمی والی بندرگاہ رکھنے والا […]
نومبر 6, 2020

اختتامی لائن کی طرف ریس لگاتے ہوئے پارسی جوڑے نے رکاوٹیں توڑ ڈالیں

کراچی کے آبائی رہائشی رونی اور تُشنا پٹیل نہ صرف رحجان ساز(ٹرینڈ […]