کراچی: پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں بہت بڑی مسلمان اکثریت کے دستِ نگر رہ رہی ہیں۔اِن کی اپنی کمیونٹی میں ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی رویوں کے حوالے سے بھی بغور جائزے کی ضرورت ہے۔سندھ میں رہنے والے باگڑی اسی طرح کی ایک مثال ہیں۔اس خانہ بدوش قبیلے کو نچلی ذات کے ہندو سمجھا جاتاہے۔تقسیمِ ہند سے لے کر اب تک انہیں نظرانداز کیا گیا ہے اور انہیں بغیر کسی مدد کے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سماج اور حکومت ان کی تلافی کے لئے ابھی تک ان کی حالتِ زار.نہیں پرکھ سکی۔

باگڑیوں کو حقیقی سندھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ صدیوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ان میں سے اکثر پہلے بھیک مانگ کر گزارہ کرتے تھے لیکن اب انہوں نے حیدرآباد اور اس کے نواحی علاقوں میں چھوٹے کاروبار جیسے کھلونے اور مچھر دانیاں وغیرہ بیچنا شروع کر دیا ہے۔تاہم ابھی تک یہ لوگ کسی باقاعدہ شناخت سے محروم ہیں۔ان کے شناختی کارڈز نہیں ہیں۔ان کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو یہ کسی بینک سے قرضہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی یہ موبائل نمبر لے سکتے ہیں۔یوں ان کے ترقی کرنے یا آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔نادرا کیونکہ شناختی کارڈز بنانے کے لئے کچھ مخصوص کاغذات جیسے بجلی کا بِل اور شادی کے اندراج کے سرٹیفیکیٹ کا تقاضا کرتا ہے۔یوں ان خانہ بدوشوں کو مصیبت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔یوں یہ خانہ بدوش ہی رہ جاتے ہیں اور دھرتی سے ان کا باقاعدہ تعلق برقرار نہیں رہتا۔

یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ نہ ملک کی اکثریتی آبادی انہیں شناخت دیتی ہے اور نہ ہی ان کی اپنی کمیونٹی یعنی ہندو کمیونٹی ان کو شناخت دیتی ہے۔ اس لئے ان کی حالتِ زار جوں کی توں ہے۔ہندو کونسل بھی ان کے مسائل حل کروانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ باگڑیوں کا کہنا ہے کہ انہیں شناختی کارڈز چاہئیں تا کہ بہتر زندگی گزارنے کے لئے وہ چھوٹے قرضوں کے لئے درخواستیں دے سکیں۔لیکن اس سلسلے میں ان کی بات نہیں سنی گئی اور یوں یہ ا بھی تک اپنی شناخت کے لئے ترس رہے ہیں۔

جون 19, 2020

کسی شناخت کے لئے نہ ختم ہونے والی تلاش

کراچی: پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں بہت بڑی مسلمان اکثریت کے دستِ […]