آئی سی ٹی

دارالحکومت میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی ہندو کمیونٹی میں جوش و خروش اور تعریف کی لہر اس وقت ختم ہو گئی جب بیوروکریسی کی طرف سے رکاوٹوں کے بعد معاملہ دبنے لگا۔تاہم صرف حکومت کی سست روی کو ہی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔مندر کی تعمیر کے لئے فنڈز مختص کئے جانے کے حکومتی فیصلے کومسلسل اور باقاعدہ منصوبے کے تحت تبدیل کیا گیا۔ان میں مولویوں اور کچھ منتخب نمائندوں کابھی کردار ہے۔ اس سلسلے میں ان کی مذہبی انتہا پسندانہ سوچ قابلِ غور ہے۔
فنڈز کے مسئلے کی وجہ سے حکومت دباؤ کا شکار ہوئی۔پھر وزارتِ مذہبی امور نے مندر کی تعمیر کے لئے 10 کروڑ روپے دینے کی تجویز دی۔اب یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے جو یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا ایک اسلامی ریاست غیر مسلموں کی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے لئے فنڈز دے سکتی ہے؟یہ تصور مذہبی انتہا پسندوں کے لئے ایک بر ی چیز ہے۔
اس سلسلے میں جب اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ ایاز، جو حالیہ بننے والے اقلیتوں کے قومی کمیشن کے رکن بھی ہیں، سے بات کی گئی تو انہوں نے اپنی رائے دینے سے گریز کیا اور کہا کہ 20رکنی کونسل اس معاملے پر غور کرے گی اور بہت جلد اپنی رائے دے گی۔
سابقہ حکومت کی طرف سے ہندو پنچایت(کونسل) کو پلاٹ الاٹ کئے ہوئے پہلے ہی کئی سال گزر چکے ہیں۔کونسل کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے بھی کئی بار زمین پر قبضہ کرنے والوں سے لڑ چکے ہیں کیونکہ پلاٹ ابھی تک خالی پڑا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ زور لگا رہے ہیں کہ اس سال افتتاح کے بعد اس کی چار دیواری تعمیر کی جائے۔
ثبات کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے حکمراں جماعت کے قانون ساز اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال چند ملہی جنہوں نے اس سال جون میں مندر کی تعمیر کے خلاف بے شمار شکایات اور مذہبی حکم ناموں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ دراصل ملک اور قائدِ اعظم کے پاکستان کے اچھے تاثر (سافٹ امیج) کے خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہندو کونسل کو الاٹ کیا جانے والا پلاٹ مندر،آڈیٹوریم اور شمشان گھاٹ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے،اس لئے شہر کے ہندو رہائشیوں کے دلوں میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔ان تمام کاموں پر تقریباً50کروڑ روپے خرچ ہوں گے اور حکومت کو چاہئے کہ پہلے مرحلے میں 10کروڑ روپے جاری کرے۔انہوں نے التجا کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر اسلامی نظریاتی کونسل فنڈز الاٹ نہیں کرتی تو مندر کی تعمیر شروع کرنے کے لئے کمیونٹی ممبرز کے پاس اپنے محدود وسائل خرچ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو گا۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد جس میں چار دیواری کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا، اس حوالے سے ملہی کا کہنا تھا کہ مندر کی تعمیر کے حوالے سے بلڈنگ پلان وزارتِ مذہبی امور کو جمع کرویا گیا تھا جس نے وزیرِاعظم کی منظوری کے لئے اسے آگے بھیجا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سی ڈی اے سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ چار دیواری بنانے کی اجازت دے کیونکہ اس کا ڈیزائن بمع فیس مبینہ طور پر جمع کروائے جا چکے ہیں لیکن اتھارٹی کا اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ جب سی ڈی اے کے میڈیا مینجر مظہر حسین سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ مندر یا اس کی چار دیواری کی تعمیر کے لئے کوئی پلان جمع نہیں کروایا گیا۔انہوں نے دہرایا کہ اتھارٹی کی جانب سے سائٹ پلان کی منظوری آنے تک کسی قسم کا تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔

اگست 16, 2020

دارالحکومت میں بننے والا پہلا ہندو مندر کاغذی کارروائیوں میں الجھ گیا

دارالحکومت میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر کے اعلان کے بعد اسلام […]
جولائی 7, 2020

دارالحکومت میں بننے والا پہلا ہندو مندر تنازعے کی زد میں آگیا

مذہبی شخصیات کی طرف سے اظہارِنا پسندیدگی کے بعد شہر کے پہلے […]
جون 22, 2020

پاکستان میں صحافت اکثرو بیشتر حکومتی نشانے پر رہتی ہے

اس سال کے آغاز میں سندھ میں نامعلوم افراد کی طرف سے […]