بلوچستان

اس وقت تقریباً پچاس سالہ سردار راج سنگھ خالصہ کوئٹہ کے وسط میں مسجد روڈ پر واقع دو سو سالہ قدیم شری گرو سنگھ گردوارہ کی کہانیاں سن کر بڑے ہوئے۔ چونکہ وہ اپنے بزرگوں سے اس مقدس جگہ کے متعلق کہانیاں سنتے تھے، اس لئے ان کا خواب تھا کہ وہ گردوارے میں جاکر دعا کرے۔
سردار کا تعلق بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے علاقہ جھٹ پٹ سے ہے جس کا موجودہ نام ڈیرہ اللہ یار ہے۔ ان کا سات افراد پر مشتمل خاندان سکھوں کے دیگر تھوڑے سے خاندانوں کے ساتھ اب بھی وہاں رہتا ہے۔
ایک بار کوئٹہ جاتے ہوئے انہوں نے گردوارے جانے کا فیصلہ کیا حالانکہ اس وقت یہ لڑکیوں کے سرکاری سکول میں تبدیل ہوچکا تھا۔ اگرچہ وہ وہاں دعا نہیں کرسکتے تھے، انہوں نے اس امید پر وہاں وقت گزارا کہ اسے سکھ کمیونٹی کے حوالے کردیا جائے گا اور یوں اسے اس کا جائز مقام مل جائے گا۔
حال ہی میں جب ان کے دونوں بیٹے کوئٹہ تشریف لائے تو انہیں معلوم ہوا کہ صوبائی حکومت نے اس سال جولائی میں پرانے گر دوارے کو کوئٹہ کی سکھ کمیونٹی کے حوالے کردیا ہے۔
خوشخبری سردار کو پہنچا دی گئی اور انہوں نے بے تابی سے اپنے بیٹوں کی وطن واپسی کا انتظار کیا تاکہ وہ کوئٹہ پہنچ سکیں۔ پانچ گھنٹے کے سفر کے دوران سردار جوش و خروش سے بے چین ہو کر یاد کرتا رہا کہ آخر کار وہ اس عبادت گاہ کو دیکھنے اور اس میں عبادت کرنے کے قابل ہو گیا جس کے بارے میں انہوں نے ساری زندگی اپنے بڑوں سے سنا تھا۔
دوسرے صوبوں کے مقابلے میں 1947 میں تقسیم کے وقت بلوچستان میں زیادہ خونریزی نہیں ہوئی تھی۔ تاہم مصنفہ رینا نندا اپنی کتاب ”فرام کوئٹہ ٹو دہلی:اے پارٹیشن سٹوری” میں کچھ واقعات کو قلمبند کرتی ہیں جہاں ہندوؤں اور سکھوں کی املاک کو نقصان پہنچا اور کمیونٹی کے کچھ افراد پر کوئٹہ کی گلیوں میں حملے ہوئے۔ صوبے سے ہندوؤں اور سکھوں کی اکثریت کی نقل مکانی کے بعد رہائشی املاک اور مذہبی مقامات کا انتظام متروکہ وقف املاک بورڈ(ایو ا کیوای ٹرسٹ پراپرٹی بور ڈ۔ای ٹی پی بی) کے پاس ہے۔ جائیدادوں کی حفاظت کے لئے ای ٹی پی بی کی ذمہ داری کے باوجود بہت سی جائیدادوں پر قبضہ گروپوں نے قبضہ کر لیا یا انہیں سرکاری عمارتوں میں تبدیل کردیا گیا جس سے صوبے کی اقلیتیں اپنی عبادت گاہوں کے جائز حق سے محروم ہو گئیں۔
سردار جسبیر سنگھ جو بلوچستان میں سکھ کمیونٹی کے چیئرمین بھی ہیں،بتاتے ہیں کہ عدالت میں پیٹشنز دائر کرنے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے پہلے ژوب گردوارہ سکھ کمیونٹی کے حوالے کیا اور اب 73 سال بعد کوئٹہ کا گردوارہ ہمیں سونپ دیا گیا ہے۔
گردوارے میں موجود روایتی سکھ لباس سے آراستہ ایک مسرور سردار کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت کتنا خوش ہے،اس کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس نے بتا یا کہ ہمیں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کے لئے ایک کمرہ بھی دیا گیا ہے۔اس نے مزید کہا کہ اس نے ایک ہفتہ عبادت گاہ میں گزارنے کا ارادہ کیا ہے۔ اسے زمین پر جنت قرار دیتے ہوئے اس نے گرو نانک کے پیروکاروں کو ان کی عبادت گاہ سونپنے پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
گردوارے کا دورہ کرتے ہوئے ضلع نوشکی کی ایک سکھ خاتون نے عبادت گاہ کے بارے میں اپنا تجربہ بتایا۔ 1998 میں جب وہ کوئٹہ آئی تھی تو ا س نے اس جگہ کے قریب اپنا قیام یاد کیا اور وہ ہمیشہ اپنی چھت سے اس جگہ کی روشنی کی طرف نگاہیں جمائے رکھتی تھی۔اس نے فخر یہ انداز سے کہا کہ میں ہمیشہ وہاں جا کر دعا کرنا چاہتی تھی اور آج میں یہاں ہوں۔
سکھ کمیونٹی کے افرد نے زور دیا کہ وہ عدالتوں سمیت ہر سطح پر کوششیں کر رہے ہیں تاکہ صوبے بھر میں ان کے مذہبی مقامات ان کے حوالے کئے جائیں۔ انہیں امید ہے کہ یہ عمل نہ صرف صوبے بلکہ ملک بھر میں جاری ر ہے گا۔

اکتوبر 23, 2020

کوئٹہ گردوارہ کی سپردگی سے خواب حقیقت میں بدل گئے

اس وقت تقریباً پچاس سالہ سردار راج سنگھ خالصہ کوئٹہ کے وسط […]
ستمبر 22, 2020

کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی مسلسل لاک ڈاؤن کے تحت زندگی گزار رہی ہے

دیگر جگہوں کی طرح بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی اس […]