تیسرے

مان سنگھ، ہری سنگھ نلوا کی فوج میں ایک قابل ذکر جنرل اور جنگجو تھا – 19 ویں صدی کے اوائل میں وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کا کمانڈر تھا۔

اور جس طرح خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کا نام ہری سنگھ نلوا کے نام پر رکھا گیا، مانسہرہ شہر کا نام مان سنگھ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

اس شہر کا شر ی گرو سنگھ سبھا گردوارہ بھی اتنا ہی تاریخی ہے لیکن 1947 کی تقسیم سے ہی اسے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔

چاروں طرف روایتی مذہبی فن پاروں کے ساتھ یہ خوبصورت عمارت، شہر کی مصروف شارع عام ہونے کے باوجود اب بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ درمیان میں کھڑی ہے، حالانکہ کئی دہائیوں سے سکھ یہاں کثرت سے نہیں آئے۔اسے 30 ستمبر 1937 کو کھڑا کیا گیا تھا جب مانسہرہ میں سکھ سلطنت کے ایک سابق فوجی دستے کے طور پر ایک بڑی تعداد میں سکھ آبادی شامل تھی، اس کی آغوش آہستہ آہستہ سکڑتی گئی جب سکھ پاکستان کے قیام کے بعد شہر سے جانے لگے۔

اگرچہ اس عمارت کو مذہبی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا گیا، تاہم صوبائی محکمہ بلدیات نے اس احاطے میں ایک لائبریری کھولی تھی جس میں کتابوں اور تعلیم کے شائقین اکثر آتے ہیں۔

اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو دوبارہ کھولنے کے لئے وزیر اعظم کی حالیہ ہدایت کے مطابق، محکمہ نے گردوارہ کو دوبارہ کھولنے کا بھی منصوبہ بنانا شروع کیا ہے۔ لائبریری کو بند کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ عبادت گاہ کو اصل ڈیزائن اور مقصد کے مطابق بحال کیا جاسکے۔ محکمہ، اوقاف ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے جو تقسیم کے وقت سے ہندوؤں اور سکھوں کی متروکہ جائیدادوں کی نگرانی کرتا ہے،اس نے بحالی اور مستقبل کے کام کا انتظام دیکھنا ہے۔

مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے ایک ذریعے کے طور پر گردوارے کی تاریخی اہمیت اور صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے، صوبائی حکومت اس کی تجدید کو ایک اولین ترجیح دے رہی ہے۔

تاہم، محکمہ کے پی آثار قدیمہ کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس گردوارہ کی تاریخی اہمیت کی سچائی سے متعلق ٹھوس ثبوت نہیں ہیں کیونکہ ہزارہ ڈویژن، جس میں مانسہرہ واقع ہے، اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی تاریخی اہمیت کا تعین کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی سروے نہیں کرایا گیا ہے۔

سکھ برادری کے رہنما بابا گورپال سنگھ نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں مجموعی طور پر 17 گردوارے چل رہے ہیں، جن میں پشاور کے بھائی جوگا سنگھ اور بھائی بیبا سنگھ گردوارے شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور جیسے شہروں میں مزید درجنوں بند ہیں جنہیں نہ صرف گھریلو مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ بین الاقوامی مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مئی 5, 2021

مانسہرہ کے شاندار گردوارے کو بحال کرنے کے منصوبے جاری ہیں

مان سنگھ، ہری سنگھ نلوا کی فوج میں ایک قابل ذکر جنرل […]
مارچ 3, 2021

اسقاطِ حمل کے نتائج

میرے شوہر نے مجھے ہسپتال میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ جب […]
فروری 15, 2021

راولپنڈی کے خواجہ سراؤں کے لئے امید کی کرن

گذشتہ سال مئی میں راولپنڈی پولیس نے ایک ٹرانسجینڈر پروٹیکشن سینٹر قائم […]
جنوری 3, 2021

وادی کیلاش میں رہنے والوں کو خاموش معدومیت کا سامنا ہے

پوری دنیا ہماری طرف دیکھتی ہے اور ایک تہذیب کا منفرد خزانہ […]
دسمبر 17, 2020

ڈیرہ پھلاں دا سہرا

ڈیرہ اسمٰعیل خان کے تاریخی توپاں والا بازارکی مشرقی سمت سے جونہی […]
دسمبر 4, 2020

کراچی کا ہندو جمخانہ – اپنے مقصد کو پورا کررہا ہے؟

کراچی تقسیم ہند سے پہلے کی گہما گہمی والی بندرگاہ رکھنے والا […]