سندھ‎

سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے ایک گاؤں کے حالیہ دورے پر، بچوں کے ساتھ کئی دیہی خواتین صبح سویرے ایک کھیت سے سبز مرچیں چن رہی تھیں تاکہ دوپہر کے درجہ حرارت میں اضافے سے پہلے وہ اپنا کام مکمل کر لیں۔

یہ بہت سی خواتین زرعی کارکنان موجودہ فصل کی کٹائی کے بعد جلد ہی کپاس کی کاشت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کی معیشت زرعی پیداوار پر مبنی ہے۔

حلیمہ، جو اپنے بچوں اور دیگر خواتین کے ساتھ کھیتوں میں مصروف تھیں، پریشان ہوئیں، ”حالیہ مرچوں کی قیمتیں حال ہی میں گھٹ گئیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہمارا منافع بہت کم ہوجائے گا۔”

حلیمہ اور اس کی ساتھی خواتین صبح سویرے سے شام تک زمین پر محنت کرتے ہیں۔ وہ اپنے گاؤں کے پیچھے واقع نصف ایکڑ اراضی کا ایک چھوٹا ٹکڑا سنبھال رہی ہیں۔ نیزکھیت میں کام کرنے کے بعد اسے گھریلو کام کاج کا خیال رکھنا ہوگا، اس میں کھانا پکانے اور صفائی سے لے کر مویشیوں کے انتظام اور بچوں کی دیکھ بھال تک شامل ہیں۔

اس کا معاشی چکر حال ہی میں کچھ حد تک متاثر ہوا ہے کیونکہ اضافے کا رجحان ظاہر کرنے کے بعد ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے آمدنی پر اثر پڑا ہے۔ اور اب وہ ہری مرچیں جس کے لئے وہ ہائبرڈ امپورٹڈ بیج استعمال کرتی ہیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس نے کہا، ”یہ مارکیٹ میں فی 40 کلوگرام 5000 روپے تھی لیکن اب یہ 800 روپے پر آ گئی ہے۔”

حلیمہ سندھ کی کاشتکار برادری کا حصہ ہے۔ اپنی چھوٹی زمین کے مالک ہونے کے علاوہ وہ اپنے پڑوسی کی زمین پر کھیت میں مزدور کی حیثیت سے بھی کام کرتی ہے اگر اضافی رقم لینے کی ضرورت ہو۔

خواتین پاکستان کی آبادی کا 49٪ حصہ ہیں لیکن عالمی صنفی گیپ 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خواتین لیبر فورس کا صرف 24٪ ہیں۔ حال ہی میں منعقدہ عارضی مردم شماری میں، خواتین (22.956 ملین) سندھ کی کل آبادی (47.883 ملین) کا تقریباً نصف ( 48٪)ہیں اور وہ شہری خواندگی کی شرح کے مقابلے میں مایوس کن شرح خواندگی رکھتی ہیں۔

تاہم، حلیمہ جیسے بہت سے کھیت مزدور بطور مزدور حقوق کے تحفظ کے منتظر ہیں۔ سندھ اسمبلی نے حال ہی میں سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی کے تحت تمام سطحوں پر خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے سندھ واٹر مینجمنٹ آرڈیننس (ایس ڈبلیو ایم او) 2002 میں ایک ترمیم منظور کی ہے۔

ترمیم کا بل حیدرآباد سے رکن سندھ اسمبلی رانا انصار نے پیش کیا۔ اس ترمیم سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ دیہی خواتین اب سیڈا کا حصہ بنیں گی جس کا مقصد سندھ میں شراکت دار آب پاشی کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ خواتین کی ایک اور زرعی کارکنوں سے متعلق مخصوص قانون سازی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے لیکن اس پر عمل درآمد ختم ہورہا ہے۔

خواتین زرعی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے، جب صوبائی اسمبلی نے سندھ خواتین زرعی ورکرز ایکٹ 2019 منظور کیا تو اس نے ایک اور سنگ میل حاصل کرلیا۔ تاہم، اس پر عمل درآمد ابھی بھی ایک مسئلہ ہے۔ وہ قواعد جو کسی بھی قانون سازی کا لازمی حصہ ہیں ابھی تک ان کو تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔

قانون سازی کے نئے مسودے میں خواتین زرعی کارکنوں سے متعلق تمام اہم امور کا احاطہ کیا گیا ہے جیسے ادائیگی؛ کام کے اوقات؛ بچوں کی غذائیت صحت کی خدمات اور زراعت کے سرکاری اداروں تک رسائی۔ زچگی کی چھٹی؛ کارکنوں کی رجسٹریشن؛ ہراساں کرنے اور بدسلوکی سے پاک۔ خواتین زرعی کارکنوں کی ایسوسی ایشن؛ بے نظیر خواتین کا تعاون پروگرام؛ اور سہ فریقی ثالثی کونسلیں، وغیرہ۔

جہاں تک ادائیگی کا تعلق ہے، اس قانون کے تحت ادائیگی حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت سے کم نہیں ہونا چاہئے جو کہ غیر ہنر مند مزدور کے لئے17500روپے ہے۔

اس قانون کے تحت بینظیر ویمن سپورٹ پروگرام پر عمل پیرا ہونا ہے جس میں مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے 18 ممبران شامل ہیں جن میں خواتین صوبائی اسمبلی ممبران، سول سوسائٹی ممبران اور کسان تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں لیکن یہ بورڈ ابھی تک تشکیل نہیں پایا ہے۔

ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر اکرم خاصخیلی کے مطابق، جنھوں نے قانون کے نفاذ کے لئے سندھ حکومت کی توجہ طلب کی۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ قانون سول سوسائٹی کی مشاورت کے بغیر نافذ کیا گیا ہے اور چونکہ اس کے قواعد ابھی تک طے نہیں ہوئے ہیں اس پر عمل درآمد ایک بہت بڑا کام رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ایکٹ میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ خواتین زرعی کارکنوں کی ایک یونین یا گروپ کی تشکیل کم از کم پانچ‘بے نظیر کارڈ’ہولڈرز کے ذریعہ کی جائے،

جو“ویمن ایگریکلچر ورکرز یونین”کے اندراج کے لئے درخواست دے سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹرڈ خواتین زرعی کارکنوں کو ”بے نظیر خواتین زرعی کارڈ” ملیں گے۔

دیگر خدشات کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے قانون میں ’سہ فریقی کونسلوں‘ کی وضاحت کے فقدان کے ساتھ ساتھ، ’بورڈ‘ میں حقیقی خواتین کسانوں کی نمائندگی کی بھی فہرست دی۔

مئی 5, 2021

سندھ کی کسان خواتین ایکٹ کے نفاذ کی منتظر ہیں

سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے ایک گاؤں کے حالیہ دورے پر، بچوں […]
فروری 15, 2021

سندھ میں خواتین دوست قوانین میں موجود خامیاں

2010میں 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد، جس نے صوبوں کو […]
فروری 15, 2021

آرزو کیس کی موجودہ صورتِ حال

جب کہ ہمارے نظام میں پائی جانے والی مختلف خامیوں کی وجہ […]
جنوری 3, 2021

غیر ضروری تنازعے نے اپنی مرضی سے تبدیلی مذہب کے معاملے کو چھپا دیا

دیہی سندھ کی سنیتا راٹھوڑ نے سخت مزاحمت کے باوجود اپنے فرسٹ […]
دسمبر 19, 2020

حیدرآبادکی تاریخی ورثے کی جگہیں حکومتی عدم توجہ کا شکار ہیں

حیدرآباد شہر میں نوآبادیاتی دور کی بہت سی تاریخی ورثے کی عمارتیں […]
دسمبر 17, 2020

کراچی میں گرجا گھر

کراچی نہ صرف محض اپنے سائز اور ملک کی معیشت پر اثرانداز […]