سندھ‎

کراچی تقسیم ہند سے پہلے کی گہما گہمی والی بندرگاہ رکھنے والا شہر اور ملک کا پہلا دارالحکومت ہے۔یہ شہر متعدد تعمیراتی شاہکاروں پر مشتمل ایک نمایاں تاریخ پیش کرتا ہے۔اس شہر کی بہت سی مشہور تاریخی عمارتوں میں ہندو جمخانہ بھی ہے۔
1925میں ہندوؤں کے معاشرتی اور مذہبی جشن کے ایک مقام کے طور پر قائم کی گئی، عمارت کی تعمیر – پلاٹ نمبر آر بی 5/1 پر ہے اور یہ 47 ہزار مربع گز پر پھیلی ہوئی ہے، یہ عمارت سیٹھ رام گوپال گووردھن د اس موہٹا کی نگرانی میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت کو آغا احمد حسین نے ڈیزائن کیا تھا جس نے مغل طر نو اور یورپی اسلوب کے فن تعمیر کو اگواڑے میں شامل کیا۔ حسین نے شہر کا موہتا محل اور کراچی چیمبر آف کامرس کی عمارت کا ڈیزائن بھی تیار کیا۔
عمارت کا سامان جنوبی ہندوستان کے علاقے بیجاپور سے لایا گیا تھا جبکہ اس کے ڈھانچے پر نقش و نگار جودھ پور کے پتھروں کے تھے۔
میگا سٹی کی دوسری تاریخی عمارتوں کی طرح ہندو جم خانہ بھی حکومتی نظراندازی کا شکار رہا ہے اور اسے زمین پر قبضہ کرنے والوں کی طرف سے خطرے کا سامنا ہے۔تقسیم کے فور اً بعد ہی پاکستان ایواکیو ای ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ جو اقلیتوں کی طرف سے چھوڑی جانے والے جائیدادوں کی نگرانی کے لئے قائم کیا گیا تھا،نے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ 1961 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا دفتر اس کے احاطے میں قائم کیا گیا اور 1978 میں اس کی تقریباً 60٪ زمین محکمہ پولیس کو دے دی گئی۔ اسی طرح علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کو تقریبا ً 3400 مربع گز مختص کیا گیا۔
اس وقت ہندو جمخانہ مجموعی طور پر4500 مربع گز پر مشتمل ہے جو کہ اس کی حقیقی کل زمین کا دسواں حصہ بنتا ہے۔ 1990 میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کے انعقاد کے لئے عمارت کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد 1993 میں اس عمارت کو محکمہ ثقافت سندھ کے حوالے کردیا گیا اور اس کی تزئین و آرائش پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
جونہی وقت گزرا اس عمارت میں کوئی پیشہ ورانہ تربیتی مرکز قائم نہ ہوسکا، 1994 تک چھوٹے پیمانے پر کچھ ثقافتی شوز کا اہتمام یہاں ہوتا رہا پھر اس ہندو جم خانے کوسیف ہیریٹیج سائٹ قرار دے دیا گیا۔ 2004 میں ایک صدارتی حکمنامے کے تحت نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا۔این اے پی اے) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور ایک سال کے بعد صوبائی حکومت اور ناپا کے مابین ایک معاہدہ ہوا جس میں مؤخر الذکر کو 30 سال کے لئے ماہانہ پچاس ہزار روپے کے عوض عمارت کو لیز پر دے دیا گیا۔

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس تنازعہ
شروع ہی سے ممتاز ڈرامہ نگار اور مصنف ضیا محی الدین کی سربراہی میں اس اکیڈمی کو صوبائی حکومت کے علاوہ ہندو فلاحی تنظیم کی طرف سے متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے ناپا کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر اس عمارت کے استعمال پر سوال اٹھایا۔ بعد میں آڈیٹوریم کی تعمیر کو الگ سے چیلنج کیا گیا اور یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس کے ساتھ ہی مختلف فریقین کے املاک سے متعلق ایک درجن سے زائد قانونی تنازعات بھی شامل ہیں۔
دسمبر 2018 میں سائٹ کی موجودہ حیثیت کو چیلنج کئے جانے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار احمد نے مشاہدہ کیا کہ ہیریٹیج سائٹ کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور صوبائی حکومت کو اکیڈمی کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ ان ہدایات کے بعد سندھ کے چیف سکریٹری نے ناپا کے لئے ممکنہ دیگر مقامات کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی لیکن ابھی اس جگہ کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔
اس شہر کی ہندو برادری کے ممبران عمارت کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کے زیرِ استعمال رہنے والی عمارت کو سماجی اور مذہبی مرکز کے طور پر استعمال کیا جائے۔
دوسری طرف اکیڈمی کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ جہاں تک آرٹس اور کلچر کا مرکز ہونے کا تعلق ہے تو عمارت پہلے ہی اپنے مقصد کو پورا کررہی ہے۔ناپا کے پروگرامز اینڈ ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ارشد محمود نے بتایا کہ ناپا نے حقیقت میں ہندو جمخانہ کے مقام کو محفوظ رکھا ہوا ہے جبکہ کئی دہائیوں پہلے اس کی بہت بری صورت حال تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمارت کے دعویدار ہر کونے سے اس وقت نمودار ہوئے جب انہوں نے عمارت ناپا کے حوالے کرنے کے بعد اس کی تجارتی قیمت دیکھی۔
فیکلٹی ممبر اور کورس کوآرڈینیٹر عظمیٰ سبین نے کہا کہ ناپا کسی ایک طبقہ یا گروہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر لوگوں کو شامل کرکے اور ان کی ذات یا مسلک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے بھرپور ثقافتی امیج کی نمائندگی کرتا ہے۔

دسمبر 4, 2020

کراچی کا ہندو جمخانہ – اپنے مقصد کو پورا کررہا ہے؟

کراچی تقسیم ہند سے پہلے کی گہما گہمی والی بندرگاہ رکھنے والا […]
دسمبر 4, 2020

غربت میں اضافے کے ساتھ ہی سندھ میں خودکشیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو گیا

گذشتہ ماہ دادو کے قریب واہی پانڈھی کی 22 سالہ خاتون نے […]
نومبر 30, 2020

مسلمان کراچی میں محصور ہندو مندر کی حفاظت کر رہے ہیں

ملک میں دبی ہوئی اقلیتوں کو اپنے عقائد کی وجہ سے اکثر […]
نومبر 30, 2020

حیدرآباد کے ہندو تدفین کی جگہوں تک سے محروم ہیں

حیدرآباد میں ہندوؤں کی تدفین کی جگہوں کی حالت خراب ہونے پر […]
نومبر 30, 2020

سندھ میں جبری تبدیلی مذہب اور شادی کا ایک اور واقعہ

سونیا نامی ایک ہندو نوعمر لڑکی کو حال ہی میں ان کے […]
نومبر 6, 2020

مسیحی خاندان سراپا احتجاج ہے کیونکہ ان کی 13 سالہ بیٹی کا مذہب تبدیل کروا کے ایک مسلمان پڑوسی نے اس سے شادی کر لی ہے

13اکتوبر کو کراچی میں سینٹ انتھونی پارش کی ریلوے کالونی میں اپنے […]