سندھ‎

اقلیتوں کو جبری تبدیلی مذہب سے بچانے کی پارلیمانی کمیٹی پچھلے سال کے آخر میں تشکیل دی گئی۔یہ دو جماعتی و دو جہتی کمیٹی یہ دیکھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہندو کمیونٹی کا خیال ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں کم عمر لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب کا شکار بنایا جاتا ہے۔
جبری تبدیلی مذہب کے مسئلے کی تصدیق اور حل کرنے کی اپنی کوششوں کے حصے کے طور پر، کمیٹی نے حال ہی میں اس سال اکتوبر میں سندھ کا پہلا دورہ کیا۔سینیٹر انوارالحق کاکڑ کی سربراہی میں کمیٹی نے سکھر اور گھوٹکی کا دورہ کرنے کے دوران اس صوبے کے شہری حقوق کے کارکنوں کے علاوہ ہندو کمیونٹی کے متعدد مکھیوں یا رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ پارلیمنٹیرینز نے سکھر ریجن کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے ساتھ علاقے کے دیگر اہم افراد کے علاوہ صوبائی چیف سکریٹری، پولیس چیف اور کراچی میں دیگر سرکاری عہدیداروں سے بھی ملاقات کی۔
کا کڑ نے اسلام آباد میں ثبات کی ٹیم کو بتا یا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایسے معاملات میں ہندو لڑکیوں کی طرف سے رضامندی کا عنصر بھی موجود ہے۔ یہ صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلم لڑکیاں بھی ہیں جنہوں نے سندھ میں گھروں سے بھاگ کر اپنی مرضی کی شادیاں کیں اور ان کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوؤں کے معاملات کی مزید تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوکمیونٹی کے افراد کے مطابق اس طرح کے مقدمات میں اس طرح ایف آئی آر زدرج نہیں کی جاتیں جس طرح سے انہیں درج کیا جانا چاہئے۔
اس مسئلے کی پیروی کے ایک حصّے کے طور پرپارلیمانی باڈی جبری تبدیلی مذہب کی تعریف پر بھی بحث کر رہی ہے۔
سندھ کی ہندو کمیونٹی ایک طویل عرصے سے اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اور اس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بہت سے ہندو خاندان اسی وجہ سے ہندوستان ہجرت کرگئے ہیں۔ سندھ میں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے سب سے زیادہ واقعات وہاں ہوتے ہیں جہاں کسی ہندو لڑکی کو اغوا کرکے زبردستی اسلام قبول کروایا جاتا ہے۔
جبری تبدیلی مذہب کے کیسسز زیادہ تر سندھ کے خاص طور پر گھوٹکی، عمرکوٹ اور تھرپارکر اضلاع سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ کچھ واقعات پنجاب میں بھی سامنے آئے ہیں جو مسیحی کمیونٹی کی خواتین سے متعلق ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے ممبر قومی اسمبلی اور ضلع عمرکوٹ کے رہائشی لال ملہی نے نشاندہی کی کہ کمیٹی نے گھوٹکی اور اس کے گردونواح میں رپورٹ ہونے والی 284 لڑکیوں کی اپنی مرضی(فری وِل) کیسوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات میں مسلمان لڑکیاں بھی شامل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی نے وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھی بریفنگ لی ہے۔
شادی کے نام نہاد اپنی مرضی(فری وِل) کیسسز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملہی نے کہا کہ اس طرح کے بلا خوف اظہار رائے کا کوئی طریقہ کار ہو نا چاہئے تاکہ اس لڑکی کا خاندان بھی مطمئن ہوجائے جو ایک مسلمان مرد سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس کی بجائے انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو خاندان اپنی لڑکیوں کے گھر سے غائب ہونے کے بعد، اچانک عدالت میں یہ کہتی ہوئی پیش ہوتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ایک مسلمان شخص سے شادی کر لی ہے۔
کرشن شرما جیسے حقوق کے کارکنوں نے نشاندہی کی کہ لڑکیوں کے اہل خانہ کے اصرار کے باوجود پولیس ایسے کیسسز میں قانون کی متعلقہ دفعیں نہیں لگاتی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پولیس صرف اغوا سے متعلقہ دفعات درج کرتی ہے اگرچہ دیگر دفعات بھی شامل کی جاسکتی ہیں،انہوں نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 جو عصمت دری سے متعلق ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
شرما نے وضاحت کی کہ کمیونٹی کا جبری تبدیلی مذہب کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی لڑکی کو اغوا کرکے زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے کہ اگر کوئی ہندو لڑکی اپنی پسند کے کسی مسلمان ساتھی سے شادی کر رہی ہے۔ بحث اس وقت شروع ہوتی ہے جب کچھ طریقہ کار کی خرابیوں کی وجہ سے کوئی لڑکی اسلام قبول کرلیتی ہے، بصورتِ دیگر کوئی بھی مذہب اختیار کرنا کسی کا اپنا حق ہے۔ ایسے کیسسز میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچی کی عمر کا تعین بھی نہیں کیا جاتا اور یہاں تک کہ سکول کے سرٹیفکیٹ کی بھی صحیح جانچ نہیں کی جاتی۔
سندھ ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں کے ذریعہ سنے جانے والے بہت سے کیسسز میں ہندو لڑکیوں نے مسلمان مردوں سے شادی کرنے کے بعد ججوں کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور اپنے خاندان میں واپس نہیں جانا چاہتیں۔ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ایک سابق ایم این اے پر بھی اس طرح کے جبری تبدیلی مذہب کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا جس کی ایم این اے نے سختی سے تردید کی ہے۔
شرما نے استدعا کی کہ جب لڑکی کی عمر کا سوال واضح طور پر شامل ہو تو پولیس کو سندھ کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کو لگانی چاہئے۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت کی شادی کو قانونی یا جائز سمجھنے کے لئے ان دونوں کی عمر 18 سال ہونی چاہئے۔
وہ پارلیمانی کمیٹی کو سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے مسئلے کی نشاندہی کرنے اور اسے ختم کرنے کی آخری امید سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ان کیسسز کی تعداد ایک ہزار یا اس سے زیادہ ہے۔

نومبر 6, 2020

جبری تبدیلی مذہب سے اقلیتوں کا تحفظ

اقلیتوں کو جبری تبدیلی مذہب سے بچانے کی پارلیمانی کمیٹی پچھلے سال […]
اکتوبر 23, 2020

سندھ کے بچے جنسی زیادتیوں کے خلاف بے بس ہیں

اس ماہ کے شروع میں 12 سالہ احمد بھٹی کو سندھ کے […]
اکتوبر 6, 2020

ہم یہاں سے کہاں جائیں؟

موسمِ گرما کی تیز دھوپ والی ایک صبح درمیانی عمر کا مانجھی […]
ستمبر 22, 2020

اقلیتوں پر مظالم انتہا کو چھونے لگے

حیدرآباد کے ٹنڈو یوسف علاقے میں شہر کا سب سے بڑا اور […]
ستمبر 22, 2020

فخرِسندھ، فقیرو سولنکی

ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر حکومتِ پاکستان مختلف شعبہ ہائے […]
ستمبر 7, 2020

سندھ اقلیتی کمیشن، سرد خانے کی نذر

جہاں تک سندھ اقلیتی حقوق کمیشن کے قیام کا تعلق ہے تو […]