سندھ‎

بزرگ جھامٹ جیٹھ آنند کے خیال میں ان کے والدین کے ہجرت نہ کرنے کے فیصلے کا حق ادا ہو گیا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ وہ آج کے دور میں ہندوستان کی نسبت پاکستان میں ایک بہتر صورتِ حال میں ہیں۔حیدرآباد سندھ کے ایک 84 سالہ رہائشی، جو سول قانون کے نامور ماہر اور سندھ یونیورسٹی جامشورو شعبہ قانون کے ڈین بھی ہیں، نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی افسوس نہیں ہے کہ جب برِصغیر تقسیم ہوا تو ان کے والدین نے 1947 میں ہندوستان کے لئے سندھ نہیں چھوڑا۔
جھامٹ 1936 میں سندھ کے زیریں علاقہ سجاول میں پیدا ہوئے۔ ان کے سسرال والے اچھے تھے اور انہوں نے ہندوستان ہجرت کرنے کا انتخاب کیا تھا۔ ان کی شادی 1962 میں ہوئی اور اہلیہ ہندوستانی شہری بن چکی تھیں۔انہوں نے بیان کیا کہ ان کے والد جو اس وقت سندھ پولیس میں خدمات انجام دے رہے تھے، ہجرت کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
جھامٹ نے 1952-53 میں سندھ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسے چانڈیو سکول، سجاول میں بطور استاد تعینات کیا گیا۔ اس تقسیم کی وجہ سے اساتذہ، ڈاکٹروں اور تاجروں کی قلت ہو گئی۔ اگرچہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ بہت سے لوگ سندھ پہنچے لیکن پاکستان میں ان لوگوں کی ذہانت کا فقدان ہے جنہوں نے اس خطے کو چھوڑ دیا۔
ہمارے بہت سے رشتہ داروں نے اپنے گھروں کی چابیاں میرے والد کے حوالے کردی تھیں لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ ہم یہ خالی مکان سجاول کے آس پاس رہنے والے خاندانوں کو دکھاتے تھے۔ اس علاقے کو ہمارے علاقے کے ایک مشہور شخص حاجی عبد الرحیم شاہ کے اثر و رسوخ کی بدولت اس وقت انتہائی محفوظ سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے تبصرہ کیا۔ جھامٹ نے یاد دلایا کہ کس طرح شاہ اپنے والد کے پاس اس بات کی ترغیب دیتے تھے کہ وہ ہندوستان ہجرت کرنے کے بارے میں نہ سوچیں کیونکہ وہ اور ان کے اہل خانہ یہاں ہر ممکنہ وسائل سے ان کی حفاظت کے لئے موجود تھے۔
جھامٹ نے گریجویشن پاس کرنے کے بعد بھی اسے ایک سو روپے تنخواہ دینے سے انکار ہونے کے بعد استاد کی حیثیت سے ملازمت چھوڑ دی جبکہ اتنی ہی رقم کی ادائیگی کسی دوسرے استاد کو بھی کردی گئی۔ انہوں نے مطلع کیا کہ پھر انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور 1963 میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔
جھامٹ جدوجہد کرتے رہے اور قانونی پیشہ کو آگے بڑھانے کے لئے وہ سجاول سے حیدرآباد منتقل ہو گئے اور ایک مشہور وکیل دیوان چتر داس کی فرم سے وابستہ ہو گئے۔ جب ان کے والد کے دوست موجودہ وزیر اعلی سندھ کے ماموں دادا عالم شاہ نے ملازمت کے لئے ان کی سفارش کی۔
دیوان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، جھامٹ بھی مساجد، مندروں اور بیواؤں سے متعلق مقدمات کے لئے کوئی فیس نہیں لیتے تھے۔میں نے یہ اصول دیوان چتر داس سے سیکھے جو ہمیشہ ان پر سختی سے کاربند رہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے کم از کم چھ چیف جسٹسسز نے انہیں جج بنانے کی سفارش کی لیکن بد قسمتی سے ان تجاویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے انہیں کوئی مایوسی نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے جج بننے میں کبھی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ یہ سب ماضی کے چیف جسٹسسز نے کیا تھا جو ان سے پیار کرتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے اورانہیں جج کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھے۔
ملک کی ہندو آبادی کی حالت زار کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جھامٹ کا خیال تھا کہ پاکستان میں ہندوؤں کو سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان بنیادی طور پر مسلمانوں کے لئے بنایا گیا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں ہندوؤں کے پاس جگہ نہیں ہے یا وہ عزت کے مستحق نہیں ہیں۔ جو بھی اہل فرد سخت محنت کر رہا ہے اسے لوگ دل و جاں سے عزت دیتے ہیں۔ وہ ہندو خاندانوں کی طرف سے ہجرت کرنے یا ہندو لڑکیوں کے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کیے جانے کی خبروں سے بھی پریشان نہیں ہیں۔سندھ میں مسلم اور ہندو دونوں لڑکیوں کی آزادانہ شادیوں کے تناسب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لڑکیاں ہندو لڑکیوں کی نسبت آزاد مرضی سے شادی کرنے کا انتخاب کرتی ہیں۔
ایک واقعے کو بیان کرتے ہوئے جھامٹ نے جئے رام داس کے ساتھ ایک گفتگو کو یاد کیا جو 1946 میں حیدرآباد، سندھ سے ہندوستان ہجرت کے بعد ہندوستانی ریاست بہار کے گورنر بننے گئے تھے۔ کاکا آپ ہمارے قائد تھے لیکن آپ تقسیم سے پہلے ہی چلے گئے۔ ہماری مادر وطن سندھ کو آپ سے یا ہم سے اس قسم کی توقع نہیں کی تھی۔ جھامٹ نے کہا کہ رام بالکل خاموش ہو گیا اور اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔
میں نے اس سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جب جہاز ڈوبتا ہے تو اس کا کپتان آخری آدمی ہوتا ہے جو جہاز میں سوار تمام افراد کو بچانے کے بعد جہاز چھوڑتا ہے لیکن آپ پہلے چھوڑ گئے۔ جھامٹ نے یاد کیا اور کہا کہ سندھ اور پاکستان سے ان کی وفا داری غیر متزلزل ہے۔

اگست 20, 2020

جھامٹ جیٹھ آنند

بزرگ جھامٹ جیٹھ آنند کے خیال میں ان کے والدین کے ہجرت […]
اگست 11, 2020

بہاولپور میں گرائے گئے ہندو کمیونٹی کے گھروں کی دوبار ہ تعمیر کا کام جاری ہے

اس سال مئی میں یزمان ضلع بہاولپور میں حکومت کی طرف سے […]
اگست 11, 2020

قتل یا حادثہ؟ ایک عورت کی پر اسرار موت پر پردہ ڈالنے کی کوشش

28جون کو رات کے تقریباً ڈھائی بجے سندھ کے ضلع جامشورو میں […]
اگست 10, 2020

اپنی دھرتی پہ اجنبی

ملک کے سب سے بڑے شہر کے شور شرابے میں دبی نظر […]
جولائی 21, 2020

سندھ۔مذہبی ہم آہنگی کا گہوارہ

جب اپنی ماں کی تدفین کے بعد لوگ مجھ سے تعزیت کر […]
جولائی 9, 2020

نا مانوس طریقوں سے رپورٹنگ

عمران ذاکر کراچی کے دوسرے درجے کے انگریزی اخبار میں رپورٹر کی […]