سندھ‎

پورے ملک کی طرح حیدر آباد میں بھی سینٹری ورکرز انتہائی خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں۔ سندھ کے اِس دوسرے بڑ ے شہر میں زیادہ تر سینٹری ورکرز بلدیاتی ایجنسیز جیسے حیدر آباد میونسپل کارپوریشن اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی(واسا) میں کام کرتے ہیں۔اِس کیس کی طرح دیگر جگہوں میں بھی کام کرنے والے سینٹری ورکرز کی یہی صورتِ حال ہے۔اِن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہندو اور مسیحی کمیونٹی سے ہے۔اِن کو بہت کم اجرت دی جاتی ہے اور انہیں بنیادی حفاظتی سامان کے بغیر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس کے نتیجے میں اکثرمہلک حادثات ہوتے ہیں۔اس طرح کا حالیہ واقعہ جون کے مہینے میں حیدر آباد میں پیش آیا۔اسلم مسیح نامی مسیحی مزدور شہر کے مرزا پاڑا علاقے میں مین ہول کو صاف کرتے ہوئے گر کر ہلاک ہو گیا۔اس کا ساتھی مزدور مصطفی شیخ جو کہ مسلمان تھا،اپنے دوست کو بچاتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ اسلم مسیح کے بڑے بھائی جان بھٹی کا کہنا تھا کہ جب اسلم مین ہول میں گرا تو نزدیک سے گزرنے والے لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا پھر مصطفی اسے بچانے کے لئے نیچے گیا۔اس نے مزید بتایا کہ مصطفی کی دلیرانہ کوشش کے باوجود وہ دونوں نیچے گرنے کی وجہ سے فوت ہوئے۔یہ حادثہ دونوں خاندانوں کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

مصطفی کے بھتیجے بابو نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ اس کا چچا واسا میں ہیلپر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔اس نے بند سیوریج لائن کھول لی تھی۔وہ آخری گٹر کی صفائی کر رہا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔اس کا ماننا تھا کہ جب اسلم نے گٹر لائن کھولی تو گندے پانی و مواد نے اسے پیچھے دھکیلا اور وہ گر گیا۔اس نے افسردہ انداز میں کہا کہ وہ دونوں حفاظتی سامان کے بغیر کام کررہے تھے۔واسا کے مینجنگ ڈائریکٹر مظفر شیخ نے تصدیق کی کہ اس واقعہ کے بعد واسا کی طرف سے سینٹری ورکروں کو حفاظتی سامان اور آکسیجن ماسک دیئے گئے۔اس نے مزید بتایا کہ مزدوروں کی کمی کی وجہ سے واسا عارضی مزدوروں کے ذریعے کام چلاتا ہے۔شیخ نے واضح کیا کہ اسلم اور مصطفی کو واسا نے صفائی کے کام پر نہیں لگایا تھا بلکہ مقامی صوبائی قانون ساز(ایم پی اے) کے ذریعے پرائیویٹ کنٹریکٹر نے انہیں سیوریج لائن کھولنے کے کام پر لگایا۔

حیدر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر جو کہ واسا کی نگرانی کرتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جیب سے مرنے والے ورکروں کے ورثا کی مالی امداد کی۔

سیوریج لائنز موت کے پھندے سے کم نہیں ہیں۔ان میں گھریلو،میڈیکل،کیمیکل اور صنعتی ہر قسم کے فضلے ہوتے ہیں۔ مناسب حفاظتی سامان کے بغیر یہ صحت پر بہت مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

بوٹا امتیاز مسیح انسانی حقو ق کے ایکٹوسٹ ہیں۔وہ بھر پور انداز سے سینٹری ورکرز کے مسائل کے حوالے سے بلدیاتی اداروں (سِو ک باڈیز) سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں میئر کو درخواست جمع کروائی ہے۔اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کرونا وائرس عالمی وبا کے پیشِ نظر سینٹری ورکرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مئیر نے ابھی تک ان کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ جواب آنے تک انہیں خدشہ ہے کہ 1600 کے قریب سینٹری ورکرز بشمول حیدر آباد میونسپل کارپوریشن اور پرائیویٹ مزدور، اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر گٹر صاف کریں گے۔

جولائی 8, 2020

ہمارے گٹروں کی صفائی کے لئے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگانے والے

پورے ملک کی طرح حیدر آباد میں بھی سینٹری ورکرز انتہائی خطرناک […]
جون 22, 2020

وائرس پھیلنے سے خواجہ سراؤں کے دکھوں میں کئی گنا اضافہ ہوا

نیلی ایک 30سالہ خواجہ سرا ہے۔وہ سخت گرمی میں ٹریفک سگنل کے […]
جون 22, 2020

حیدرآباد میں پہلی صفوں میں موجود

بذریعہ محمد حسین خان سنجے کمار ایک چالیس سالہ ہیلتھ کئیر ورکر […]
جون 19, 2020

کسی شناخت کے لئے نہ ختم ہونے والی تلاش

کراچی: پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں بہت بڑی مسلمان اکثریت کے دستِ […]