چوتھا

حیدرآباد میں ہندوؤں کی تدفین کی جگہوں کی حالت خراب ہونے پر ایک بزرگ ایم پرکاش بہت مایوس ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سی مہموں کا حصہ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ1976 تک تدفین کی ایک بہت بڑی جگہ تھی جہاں انہوں نے خود ایک شخص کی آخری رسومات کا مشاہدہ کیا تھا۔
پرکاش حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو ولی محمد کے علاقے میں مسان روڈ پر تدفین اور آخری رسومات کی جگہ کا حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 1970 کی دہائی تک یہ 14 ایکڑ کا پلاٹ تھا لیکن اب یہ سب ختم ہوگیا ہے کیونکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والے اسے مختلف شکلوں اور طریقوں سے ہڑپ کر چکے ہیں۔اب یہاں مکانات، تیل کی مِلیں اور ہر طرح کی تعمیرات ہیں۔
صوبے بھر میں ناقص انتظامی نگرانی کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کی تدفین کی جگہوں پر قبضہ ایک عام واقعہ بن گیا ہے۔ مسلم اکثریت کو بھی تمام بڑے شہری مراکز میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں نے اپنی مرضی سے مختلف علاقوں میں تجاوزات کیں۔
یہ جگہیں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے بھی دوچار ہیں۔ کم وسائل رکھنے والے بلدیاتی ادارے عام حالات میں بھی مناسب سہولیات کو یقینی بنانے میں ناکام رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں نے تمام عقائد کے لوگوں کے قبرستانوں کو ڈبو دیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممبر قومی اسمبلی لال ملہی نے کہا کہ ہمارے قبرستانوں اور تدفین خانوں پر غیرقانونی قبضہ ہر جگہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں شکایات ملتی رہتی ہیں اور ہم ان جگہوں کو خالی کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
عمرکوٹ مغل شہنشاہ اکبر کی جائے پیدائش ہے اور یہ ہندوستان کی سرحد سے متصل دریائے سندھ کے بائیں کنارے واقع ہے۔ اس ضلع میں ملہی سمیت متعدد ہندو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو عمرکوٹ میں اراضی الاٹ کی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے اس مختص کردہ جگہ میں ہندو برادری کی تدفین کی جگہ بھی شامل کردی گئی۔
تاہم پی اے آر سی کے عہدیداروں نے اس کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی تدفین کی جگہ کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ ملہی نے بتایا کہ نچلی ذات کے ہندو معمول کی آخری رسومات کی بجائے اپنے پیاروں کی تدفین کرتے ہیں۔
اقلیتوں کے لئے تدفین کی جگہ کا کم ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ ایک کمیشن میں بھی زیرِ غور ہے جو ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کا نقشہ وضع کرنے والے عدالت کے 2014 کے تاریخی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لئے کام کر رہا ہے۔کمیشن میں معاونت کرنے والے پی ٹی آئی کے قانون ساز پاکستان ہندو کونسل کے بانی ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے طریقے پر کام کر رہے ہیں۔
حیدرآباد میں، پرکاش نے بتایا کہ ایک پرائیویٹ بلڈر نے ہالہ ناکہ کے قریب تقریبا ً ڈیڑھ ایکڑ اراضی کو برادری کے لئے تدفین کی جگہ اور قبرستان کے لئے عطیہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چونکہ پنڈال شہر کے مضافات میں واقع ہے، لہذا اسے اچھی طرح سے برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالی روڈ کے علاقے میں شہر میں آخری رسومات کی جگہ ہے جہاں نچلی ذاتوں کے ہندو اپنے پیاروں کی تدفین کرتے ہیں لیکن اب اس پر مکمل قبضہ ہوچکا ہے اور ہمیں مزید جگہ کی ضرورت ہے۔
پرکاش نے اس حقیقت پر بھی سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا کہ حالیہ بارشوں میں بھی ٹنڈو یوسف کے قریب ہندو تدفین کی جگہوں کی ایک افسوسناک تصویر سامنے آئی کیونکہ تمام قبریں گندے پانی میں ڈوب گئیں۔انہوں نے دعا کی کہ امید ہے کہ ہالہ ناکہ کی سرزمین اس مسئلے پر توجہ دے گی اور کچھ حد تک یہ حل ہوجائے گا۔

نومبر 30, 2020

حیدرآباد کے ہندو تدفین کی جگہوں تک سے محروم ہیں

حیدرآباد میں ہندوؤں کی تدفین کی جگہوں کی حالت خراب ہونے پر […]
نومبر 6, 2020

اختتامی لائن کی طرف ریس لگاتے ہوئے پارسی جوڑے نے رکاوٹیں توڑ ڈالیں

کراچی کے آبائی رہائشی رونی اور تُشنا پٹیل نہ صرف رحجان ساز(ٹرینڈ […]
اکتوبر 23, 2020

خیبر پختونخوا میں اس سال بچوں سے زیادتی کے تقریباً 200 کیسسز درج ہوئے ہیں

انتہائی افسوس کی بات ہے اب چند ہفتوں یا مہینوں میں بچوں […]
اکتوبر 6, 2020

پشاور میں رہنے والے مسیحی دوبارہ اپنے گھر کھو سکتے ہیں

پشاور کے گل بہار ‒V علاقہ کے متمول رہائشی،پڑوس سے ملحقہ رنگ […]
ستمبر 22, 2020

پنجاب کا نیا مقامی نظامِ حکومت: خواتین اور اقلیتوں کے لئے ایک موقع

مقامی حکومتوں کو قومی اور صوبائی سیٹ اپ کے بعد پاکستان میں […]
ستمبر 7, 2020

خواتین صحافیوں کی آن لائن ہراسانی: موجودہ وقت کا ایک اہم مسئلہ

اگرچہ تیزی سے بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک ساتھ […]